رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
عدت خلع:
سوال: آپ کی تصنیف’’تفہیم القرآن‘‘ جلدا وّل، سورۂ بقرہ ،صفحہ ۷۶ا میں لکھا ہوا ہے کہ ’’خلع کی صورت میں عدت صرف ایک حیض ہے۔دراصل یہ عدت ہے ہی نہیں بلکہ یہ حکم محض استبرائے رحم کے لیے دیا گیا ہے۔‘‘الخ
اب قابل دریافت امر یہ ہے کہ آپ نے اس مسئلے کی سند وغیرہ نہیں لکھی۔ حالاں کہ یہ قول مفہوم الآیہ اور اقوا لِ محققین اور قول النبیؐ کے بھی خلاف ہے۔
۱۔ فِی الْفَتْحِ رَوٰی عبدُالرَّزاقِ مَرْ فُوْعًا اَلْخُلْعُ تَطْلِیْقَۃٌ۔
۲۔ وروی الدارقطنی وابن عدی انہ جَعَلَ النبیﷺ اُلْخُلْعُ تَطْلِیْقَۃٌ۔
۳۔ وروی مالک عن ابن عمرؓ عِدَّۃُ الْمُخْتَلِعَۃِ عِدَّۃُ الْمُطَلَّۃِ۔
ایک ابودائود کی روایت ہے کہ عِدَّتُھَا حَیْضَۃٌ ، لیکن یہ قول تصرف من الرواۃ پرمحمول کیا گیا ہے اور نص کے بھی خلاف ہے کہ نص میں ہے: وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْٓئٍ ط
مہربانی فرما کر احادیث نبویہ میں تطبیق دیتے ہوئے، نص کو اپنے اطلاق پر رکھتے ہوئے اور محدثین کے اقوال کو دیکھتے ہوئے مسئلے کی پوری تحقیق مدلل بحوالۂ کتب معتبرہ تحریر فرمائیں تاکہ باعث اطمینان ہوسکے۔
جواب: مختلعہ کی عدت کے مسئلے میں اختلاف ہے۔ فقہا کی ایک کثیر جماعت اسے مطلقہ کی عدت کے مانند قرار دیتی ہے، اور ایک معتدبہ جماعت اسے ایک حیض تک محدود رکھتی ہے۔ اس دوسرے مسلک کی تائید میں متعدد احادیث ہیں۔ نسائی اور طبرانی نے ربیع بنت معوذ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ثابت بن قیس کی بیوی کے مقدمۂ خلع میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اَنْ تَتَرَبَّصْنَ حَیْضَۃً واحِدَۃً وَتَلْحَقَ بِاَھْلِھَا۔
ابودائود اور ترمذی نے ابن عباسؓ کی روایت نقل کی ہے کہ انہی زوجۂ ثابت بن قیس کو حضورؐ نے حکم دیاکہ تَعْتَدُّ بِحَیْضَۃٍ۔
نیز ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے ربیع بنت معوذ کی ایک اور روایت بھی اسی مضمون کی نقل کی ہے۔ابن ابی شیبہ نے ابن عمرؓ کے حوالے سے حضرت عثمانؓ کا بھی ایک فیصلہ اسی مضمون پر مشتمل نقل کیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ پہلے ابن عمر رضی اللہ عنہما مختلعہ کی عدت کے معاملے میں تین حیض کے قائل تھے، حضرت عثمانؓ کے اس فیصلے کے بعد انہوں نے اپنی رائے بدل دی اور ایک حیض کا فتویٰ دینے لگے۔ اسی طرح ابن ابی شیبہ نے ابن عباسؓ کا یہ فتویٰ نقل کیا ہے کہ عدتھا حیضۃ۔ ابن ماجہ نے رُبَیِعّ بنت معوذ بن عفراء کے حوالے سے حضرت عثمانؓ کے مذکورۂ بالا فیصلے کی جو روایت نقل کی ہے، اس میں حضرت عثمانؓ کا یہ قول بھی موجود ہے کہ اِنَّمَا اَتْبَعُ فِیْ ذٰالِکَ قَضَائَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم۔
امید ہے کہ ان حوالوں سے آپ کا اطمینان ہوجائے گا۔
(ترجمان القرآن،محرم،صفر ۳۶۷اھ، اکتوبر ۹۵۶اء)