رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
چند متفرق فقہی مسائل:
سوال: چند حل طلب مسائل پیش خدمت ہیں۔امیدہے کہ ان میں آپ صحیح رہنمائی کریں گے۔
(۱) اب تک تجارتی حصص پر زکوٰۃ کے متعلق آپ کی جو تحریریں میری نظر سے گزری ہیں، ان میں یہ فرض کیا گیا ہے کہ اسلامی ریاست یا کم ازکم تحصیل زکوٰۃ کا ایک مرکزی نظام موجودہے۔ اور مسئلہ یہ ہے کہ زکوٰۃ کس مرحلے پر اور کس سے وصول کی جائے گی۔جب تک کوئی مرکزی نظم زکوٰۃ قائم نہ ہو،اس وقت تک حصص پر زکوٰۃ کی کیا صورت ہوگی؟ اس وقت بہت سے لوگوں کے پاس تجارتی حصے ہیں،وہ ان پر کس شرح سے زکوٰۃ ادا کریں؟
میں نے اپنے حصص کو روپے کا نعم البدل قیاس کرتے ہوئے ان کی مالیت پر ڈھائی فی صد نکالنا چاہا تھا لیکن حصص کی سالانہ آمدنی ٹیکس کٹ کٹا کر جتنی ملتی ہے ،وہ پوری ان کی زکوٰۃ میں چلی جاتی ہے۔ بعض حصص سے آمدنی اتنی کم ہوتی ہے کہ اُلٹا جیب سے زکوٰۃ ادا کرنی پڑتی ہے ۔یہ صورت قطعاً غیر تشفی بخش ہے۔
(۲) ترجمان، جلد۵، عدد امیں قطبین میں اوقات سحر وافطار پر ڈاکٹر حمید اﷲ کا مضمون شائع کیا گیا ہے۔اسی بحث کو زیادہ تفصیل سے ڈاکٹر صاحب نے اپنی کتاب انٹروڈکشن ٹو اسلام میں پیش کیا ہے۔ پہلی دفعہ میں نے سرسری نظر سے مضمون دیکھا تو اچھا لگا۔ لیکن دوبارہ غور سے پڑھنے پر سخت قابل اعتراض محسوس ہوا۔
ڈاکٹر صاحب کا استدلال یہ ہے کہ خط استوا سے قطبین کی طرف جائیں تو دن اور رات کا تفاوت بڑھتا چلا جاتا ہے۔۴۵ درجے عرض البلد تک تو یہ تفاوت قابل برداشت ہوتا ہے لیکن اس سے آگے نہیں۔ لہٰذا اس عرض البلد سے آگے تمام مسلمان ۴۵درجے کے اوقات طلوع وغروب کے مطابق نماز روزے کا اہتمام کریں۔
اگر اس تجویز کو مان لیا جائے توکینیڈا، امریکا کے شمالی حصے،سارے یورپ،ماسوا اسپین اور اٹلی کے، نیز تقریباًپورے روس کے مسلمانوں کو اپنے مقام کے طلوع وغروب کے حساب سے ارکان دین ادا کرنے کے بجائے گھڑی کے حساب سے سارے کام کرنے چاہییں۔میری اطلاع ہے کہ پیرس مسجد کی اقتدا میں پیرس کے مسلمان رمضان میں یہی کرتے ہیں۔ وہ ریڈیو مراکش لگائے رکھتے ہیں اور جیسے ہی مراکش میں افطار کی اذان ہوتی ہے،وہ افطار کرلیتے ہیں چاہے سور ج سر پر کھڑا ہو۔ کیا آپ اس سے متفق ہیں؟
میں نے لندن کا سب سے طویل روزہ دیکھا ہے۔سحر سے افطار تک تقریباً ۱۷ گھنٹے بنے تھے۔ لیکن پنجاب کے تیرہ چودہ گھنٹے کے روزے زیادہ مشکل معلوم ہوتے ہیں۔اتنے طویل روزے کے باوجود افطارکے وقت پیاس بالکل نہ ہوتی تھی۔ بھوک ضرور لگتی تھی، لیکن اس سے طبیعت اتنی نڈھال نہ ہوتی تھی جتنی اپنے ہاں ہوتی ہے۔ آخر یورپ کے مسلمانو ں کے لیے کیوں کر جائز ہے کہ وہ مقامی طلوع وغروب کو نظر انداز کرکے مراکش کی پیروی کریں؟
میرے ایک شناسا نے ڈاکٹر حمید اﷲسے لکھ کر پوچھا تھا کہ ۴۵ عرض البلد انہوں نے کیوںکر تجویزکیا۔ جواب ملا کہ صحابہ ؓ یہیں تک گئے تھے،اس لیے اسے حد کے طور پر لیا ہے۔
اس مسئلے پر آپ کی کیا رائے ہے؟رسائل ومسائل میں آپ کے جواب نظر سے گزرے ہیں لیکن وہ بہت عمومی قسم کے ہیں۔یہاں ڈاکٹرصاحب نے اتنی تفصیل میں جاکر معمولی اور غیر معمولی منطقوں کی حدود کا مسئلہ کھڑا کردیا ہے۔لندن میں یہ سوال اس لیے اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ یورپین نو مسلم سورج کے بجائے گھڑی کے مطابق عبادات قائم کرنا چاہتے ہیں بلکہ ان کا بس چلے تو جمعے کی نماز اتوار کو ادا کریں۔یہ تجویز کئی دفعہ میرے سامنے آئی ہے۔
(۳) یہاں لندن میں ایک مسلمان طالب علم ایک جرمن لڑکی سے شادی کرنا چاہتے تھے۔وہ مسلمان بننے پر آمادہ نہ ہوئی۔ لہٰذا میں نے شادی رکوانے کی کوشش کی۔صاحب زادے کو سمجھایا کہ وہ کیوں کر برداشت کرے گا کہ اس کے گھر میں سور کا گوشت کھایا جائے اور شراب پی جائے۔ لڑکی غیر مسلم ہوئی تو ہمارے محرمات کا خیال نہیں کرے گی اور گھر بربادہوجائے گا۔لڑکے کی سمجھ میں بات آگئی اور وہ کچھ متذبذب ہو گیا۔ انہی دنوں اسلامک سنٹر کے مصری ڈائریکٹر سے ملاقات ہوئی۔ ان صاحب نے ڈاکٹر آ ر بری کے ساتھ مل کر ایک کتاب شائع کرائی ہے اور اب جامعۂ ازہر کی کلیہ ٔشریعہ کے صدر ہوکرواپس مصر گئے ہیں۔ انہوں نے اس لڑکے سے کہاکہ اگر اس کی بیوی عیسائی رہتی ہے تو اسے کوئی حق نہیں کہ لڑکی کو شراب،سور وغیرہ سے روکے۔جو چیز اس کے مذہب میں جائز ہے،اسے کرنے کی اسلام نے اسے آزادی دی ہے۔مسلمان شوہر مداخلت کرکے گناہ گار ہوگا۔
کیا یہ رائے درست ہے؟ کیا آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے معاہدۂ نجران سے یہ استنباط نہیں کیا جاسکتا کہ کسی مسلمان کی اہل کتاب بیو ی کو اسلام کے متعین کردہ کبائر کی اجازت نہیں؟
(۴) یہی مصری صاحب بغیر مہر کے نکاح کے قائل تھے،کیا یہ درست ہے؟کیا بغیر مہر کے نکاح جائزہے؟
(۵) میرے بعض عراقی دوست جو کئی سالوں سے لندن میںمقیم ہیں،اب تک نماز قصر کرکے پڑھتے ہیں۔کہتے ہیں کہ مسافرت کی حد نہ قرآن میں آئی ہے اور نہ حدیث میں،فقہا کی اپنی اختراع ہے لہٰذا ہم نہیں مانتے۔جب تک اپنے وطن سے باہر ہیں،مسافر ہیں۔قصر کریں گے،چاہے ساری عمر لندن میں گزر جائے۔ان کو کس طرح مطمئن کروں کہ ان کی روش غلط ہے۔
(۶) یہی حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ روزے کی قضا تو ہے لیکن نماز کی نہیں۔بعد میں روزہ رکھنے کا حکم قرآن میں ہے۔ لیکن جو نماز ایک دفعہ کھو گئی،وہ ہمیشہ کے لیے گئی۔ قرآن میں کہیں قضا نماز کا ذکر نہیں نہ ہی حدیث میں اس کے متعلق کچھ ہے۔کیا یہ درست ہے؟
(۷) حصص کے سلسلے میں ایک سوال اور ذہن میں آیا ہے۔اب تک دوسروں نے اور آپ نے بھی یہ کہا ہے کہ خریدنے کے بعد سال پورا ہونے پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔عام طور پر لوگ سال بھر تک ایک ہی حصہ نہیں رکھتے۔کبھی قیمت گرنے لگتی ہے تو بیچ دیتے ہیں ۔کبھی دوسرے حصص زیادہ نفع بخش نظر آنے لگتے ہیں تو اپنا بیچ کر دوسرے خرید لیے جاتے ہیں، وغیرہ۔ ہمارے ہاں ممکن ہے کہ ابھی یہ بات عام نہ ہو لیکن یہاں یہی ہوتا ہے۔کیا ایسی صورت میں بھی کسی ایک کمپنی کے حصے پر سال پورا ہونے پر ہی زکوٰۃ عائد ہوگی؟کیا اس طرح آدمی زکوٰۃ سے مستقلاً مستثنیٰ ہوجائے گا؟زکوٰۃ ادا کرنے کی نیت کے باوجود زکوٰۃ کا موقع نہ آئے گا؟
جواب: آپ کے سوالات کا مختصرجواب یہ ہے:
تجارتی حصص کی زکوٰۃ:
(۱۔۷) تجارتی حصص کی زکوٰۃ اس اصول پر نہیں نکالی جائے گی کہ گویا حصے کی رقم آپ کے پاس جمع ہے اور آپ جمع شدہ روپے کی زکوٰۃ نکال رہے ہیں۔ بلکہ ان کی زکوٰۃ تجارتی مال کی زکوٰۃ کے اصول پر نکالی جائے گی۔ اس کا قاعدہ یہ ہے کہ کاروبار شروع ہونے کی تاریخ پر جب ایک سال گزر جائے تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کے پاس تجارتی مال(stock in trade) کس قدر موجود ہے اور وہ کس مالیت کا ہے اور نقد روپیا(cash in hand) کتنا ہے۔دونوں کے مجموعے پر ڈھائی فی صدی کے حساب سے زکوٰۃ نکالی جائے گی۔اسی قاعدے پر دیکھا جائے گا کہ کمپنی یا کمپنیوں میں آپ کے جو حصے ہیں،اس وقت بازاری قیمت کے لحاظ سے ان کی قیمت کیا ہے۔سال کے دوران میں آدمی نے خواہ کتنی ہی مرتبہ پہلا حصہ فروخت کیا ہو اور دوسرا خریدا ہو،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پہلا حصہ جب آپ نے خریدا،اس وقت سے سال شمار کیا جائے گا اور سال کے خاتمے پر آپ کے حصوں کی جو بازاری قیمت ہو،اس کے لحاظ سے زکوٰۃ کا تعین کیا جائے گا۔اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آپ کے پاس نقد کس قدر موجود ہے۔دونوں کے مجموعے پر ۴۰۔ ۱ کی شرح سے زکوٰۃ نکالی جائے گی۔
رہی یہ بات کہ ٹیکس لگ کر آپ کی بقیہ آمدنی اتنی کم رہ جاتی ہے کہ زکوٰۃ دینے کی صورت میں وہ پوری کی پوری زکوٰۃ ہی میں چلی جاتی ہے تو اس کا میرے پاس کوئی علاج نہیں ۔یہ تو ایسی حکومتوں کے ماتحت رہنے کی سزا ہے جو ٹیکس عائد کرتے وقت سرے سے زکوٰۃ کا کوئی لحاظ ہی نہیں کرتیں۔ یہ سزا ہمیں لازماً اس وقت تک بھگتنی ہوگی جب تک اس حکومت کا نظام ہم نہ بد ل دیں جس میں ہم رہتے ہیں۔