مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

نماز کی قصر وقضا:

(۵) افسوس ہے کہ عرب ممالک کے نوجوان نہ تو خود دین کا کافی علم رکھتے ہیں اور نہ وہ فقہائے مجتہدین میں سے کسی کا اتباع ہی کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے آئے دن ان کے عجیب عجیب اجتہادات سننے میں آتے رہتے ہیں۔مسافر کے معاملے میں امام شافعیؒ ،امام احمدؒ، اور ایک روایت کی رو سے امام مالکؒ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ جو شخص کسی مقام پر چار دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کا ارادہ رکھتا ہو،اسے پوری نماز پڑھنی چاہیے۔حضرت ابن عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کا مسلک یہ ہے کہ دس دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت مسافر کو مقیم بنادیتی ہے۔ امام اوزاعیؒ بارہ دن کی اور امام ابو حنیفہؒ پندرہ دن کی حد مقرر کرتے ہیں۔ علمائے اسلام میں سے کوئی بھی اس بات کا قائل نہیں ہے کہ اپنے شہر سے باہر نکل کر کسی دوسرے مقام پر کوئی شخص چاہے مہینوں اور برسوں رہے مگر وہ مسافر ہی رہے گا اور قصر کرتا رہے گا۔البتہ فقہا یہ ضرور کہتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی کسی مقام پر اس طرح رکا ہوا ہو کہ ہر وقت اس کے کوچ کرجانے کا امکان ہو اور ٹھہرنے کی نیت نہ ہو، تو خواہ وہاں اسے مہینوں رکا رہ جانا پڑے، وہ قصرکرسکتا ہے۔ انہی وجوہ سے نبیؐ نے تبوک میں پندرہ دن اور فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں اٹھارہ دن قصر فرمایا۔(مسند احمد، ابودائود) اور انہی وجوہ سے صحابہ کرام کا لشکر آذر بیجان کی مہم میں دو مہینے قصر کرتا رہا۔(مسند احمد)

(۶) یہ بات بھی سخت حیرت انگیز ہے کہ یہ لوگ نماز کی قضا کے قائل نہیں ہیں۔ حالاں کہ یہ چیز بکثرت احادیث سے ثابت ہے اور تمام فقہائے اسلام بالاتفاق اس کے قائل ہیں۔ پوری اسلامی تاریخ میں کوئی ایک قابل ذکر فقیہ بھی اس کا قائل نہیں ہوا ہے کہ روزے کی قضاتو واجب ہے مگر نماز کی قضا واجب نہیں۔ بخاری، مسلم ،نسائی، ابودائود، ابن ماجہ ،ترمذی اور مسند احمد میں متعدد احادیث حضرت انسؓ، حضرت ابو ہریرہؓ، اور ابو قتادہ انصاریؓ سے مروی ہیں جن میں نبیؐ نے فرمایا کہ جس نماز کو انسان بھول جائے یا سوتا رہ جائے اور نماز کا وقت نکل گیا ہو،تو جس وقت بھی اسے یاد آئے یا وہ بیدار ہو اسے وہ چھوٹی ہوئی نماز پڑھ لینی چاہیے۔

یہ تو ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قولی حکم۔ رہاآپؐ کا اپنا فعل،تو ابو سعید خدریؓ، جابر بن عبداﷲؓ اور عمران بن حصین سے متعدد واقعات مسند احمد، بخاری، مسلم اور نسائی میں منقو ل ہیں جن میں وہ بتاتے ہیں کہ نبیؐ اور صحابہ ؓ نے چھوٹی ہوئی نمازیں ادا کی ہیں ۔ایک سفر میں رات بھر چل کر آخروقت میں قافلے نے پڑائو کیا اور اُترتے ہی سب پر نیند غالب ہوگئی۔یہاں تک کہ جب سورج نکل آیا تو اس کی گرمی سے لوگ بیدار ہوئے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراًاذان دلوائی اور جماعت کے ساتھ فجر کی نماز ادا کی۔ غزوۂ خندق میں ایک روز عصر کی نماز قضا ہوئی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کے وقت ادا کی۔ اور ایک اور دن اسی غزوہ میں ظہر، عصر اور مغرب کی نمازیں قضا ہوئیں اور ایسے وقت یہ تینوں نمازیں ادا کی گئیں جب کہ عشا کا وقت شروع ہورہا تھا۔اس کے بعد یہ کہنے کی کیا گنجایش رہ جاتی ہے کہ جو نماز چھوٹ گئی،وہ معاف ہے؟