رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
قرآن فہمی میں علوم طبیعی کی واقفیت کا مقام:
اس میں شک نہیں کہ انسان کاعلم دنیا اور اس کے حقائق کے متعلق جتنا زیادہ بڑھے گا،اس کو قرآن میں اتنی ہی زیادہ بصیرت حاصل ہوگی۔ لیکن اس سے نہ تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے براہِ راست شاگردوں سے بھی زیادہ قرآن کو سمجھنے لگے گا،اورنہ یہی نتیجہ نکل سکتا ہے کہ جو شخص بھی علم ہیئت، طبیعات اور کیمیا وغیرہ کے ذریعے سے دنیا کا خوب علم حاصل کرلے،وہ لازماً قرآن کو بہتر سمجھنے والا قرار پائے۔قرآن کے صحیح فہم کے لیے ہر چیز سے مقدم یہ شرط ہے کہ آدمی اس کو خدا کی کتاب مانے، اس کو سرچشمۂ ہدایت تسلیم کرے، ان ضروری علوم سے واقف ہو جو قرآن کو سمجھنے کے لیے درکار ہیں،اور پھر اپنا کافی وقت قرآن اور اسلامی نظام فکر وحیات پر غور وفکر کرنے میں صرف کرے۔لیکن اس کے باوجود کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ اس پیغمبر سے بھی بڑھ کر قرآن کو سمجھنے والا ہے جسے خود خدا نے اپنی کتاب کی تعلیم دینے کے لیے مقرر کیا تھا(یا آپ لوگوں کے نزدیک خود اس کتاب کا مصنف تھا)۔