رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
تجارتی حصص کی زکوٰۃ:
(۱۔۷) تجارتی حصص کی زکوٰۃ اس اصول پر نہیں نکالی جائے گی کہ گویا حصے کی رقم آپ کے پاس جمع ہے اور آپ جمع شدہ روپے کی زکوٰۃ نکال رہے ہیں۔ بلکہ ان کی زکوٰۃ تجارتی مال کی زکوٰۃ کے اصول پر نکالی جائے گی۔ اس کا قاعدہ یہ ہے کہ کاروبار شروع ہونے کی تاریخ پر جب ایک سال گزر جائے تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کے پاس تجارتی مال(stock in trade) کس قدر موجود ہے اور وہ کس مالیت کا ہے اور نقد روپیا(cash in hand) کتنا ہے۔دونوں کے مجموعے پر ڈھائی فی صدی کے حساب سے زکوٰۃ نکالی جائے گی۔اسی قاعدے پر دیکھا جائے گا کہ کمپنی یا کمپنیوں میں آپ کے جو حصے ہیں،اس وقت بازاری قیمت کے لحاظ سے ان کی قیمت کیا ہے۔سال کے دوران میں آدمی نے خواہ کتنی ہی مرتبہ پہلا حصہ فروخت کیا ہو اور دوسرا خریدا ہو،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پہلا حصہ جب آپ نے خریدا،اس وقت سے سال شمار کیا جائے گا اور سال کے خاتمے پر آپ کے حصوں کی جو بازاری قیمت ہو،اس کے لحاظ سے زکوٰۃ کا تعین کیا جائے گا۔اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آپ کے پاس نقد کس قدر موجود ہے۔دونوں کے مجموعے پر ۴۰۔ ۱ کی شرح سے زکوٰۃ نکالی جائے گی۔
رہی یہ بات کہ ٹیکس لگ کر آپ کی بقیہ آمدنی اتنی کم رہ جاتی ہے کہ زکوٰۃ دینے کی صورت میں وہ پوری کی پوری زکوٰۃ ہی میں چلی جاتی ہے تو اس کا میرے پاس کوئی علاج نہیں ۔یہ تو ایسی حکومتوں کے ماتحت رہنے کی سزا ہے جو ٹیکس عائد کرتے وقت سرے سے زکوٰۃ کا کوئی لحاظ ہی نہیں کرتیں۔ یہ سزا ہمیں لازماً اس وقت تک بھگتنی ہوگی جب تک اس حکومت کا نظام ہم نہ بد ل دیں جس میں ہم رہتے ہیں۔