مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

نظریۂ نسخ آیت مع بقائے حکم پر استدراک:

(رسالہ ’’ترجمان القرآن‘‘ماہ نومبر ۹۵۵اء کے عنوان ’’رسائل و مسائل‘‘ کے تحت آیت رجم اور نظریۂ ’’نسخ آیت مع بقائے حکم‘‘ کے متعلق جو جواب تحریر کیا گیا تھا،اسے دیکھ کر ایک صاحب نے ذیل کا مکتوب ارسال فرمایا تھا،جو ان کے حسب ارشاد شائع کیا جارہا ہے۔)

’’جواب میں جو عقلی و نقلی مواد آپ نے پیش کیا ہے،وہ ایک سمجھ دار اور منصف مزاج آدمی کے لیے نہایت تسلی بخش ہے۔مگر چوں کہ آپ نے دیگر اصحاب علم سے بھی اس مسئلے پر مزید روشنی ڈالنے کا مطالبہ فرمایا ہے، اس لیے حسب الارشاد چند مختصر گزارشات درج ذیل ہیں:

(۱) نسخ آیت مع بقائے حکم کا نظریہ بعض اصولیوں کی انفرادی رائے ہے نہ کہ تمام اہل سنت کا متفقہ عقیدہ۔ جیسا کہ آپ کے پیش کردہ حوالے’’روح المعانی جلد اوّل، صفحہ ۵ا۳‘‘ سے ثابت ہوتا ہے۔ یعنی ’’ونسخ الآیۃ علی ما ارتضاہ بعض الاصولیین‘‘ …ا لخ۔ ا یسی صورت میں سائل کا یہ کہنا کہ ’’سلف سے خلف تک تمام علمائے اہل سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآ ن کی بعض آیات ایسی ہیں جن کی تلاوت تو منسوخ ہے لیکن حکم ان کا باقی ہے‘‘ محض ایک دعویٰ بلا دلیل بلکہ غلط بیانی ہے۔ کیوں کہ بعض اصولیوں کے کسی خاص نظریے سے کل علمائے اہل سنت کا عقیدہ لازم نہیں آتا۔

(۲) رہی یہ بات کہ آیا بعض اصولیوں کا یہ نظریہ صحیح ہے یا غلط؟ سو واضح ہو کہ یہ نظریہ عقلاً ونقلاًباطل ہے۔

(الف) عقلاً تو اس لیے باطل ہے کہ جو چیز قرآن کا جز ہی نہ ہو،اس کو قرآنی حکم ماننا سراسر مہمل بلکہ ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ یہ ایسا ہی ایک بے بنیاد تخیل ہے جیسا کہ قرآن کے چالیس پارے ہونے کا۔

(ب) نقلاً اس لیے کہ اس نظریے سے تنقیص قرآن لازم آتی ہے۔کیوں کہ ایک باقی الحکم آیت کا قرآن میں نہ پایا جانا قرآن کے ناقص اور ادھورا ہونے کو مستلزم ہے۔ حالاں کہ قرآن مجید کی تنقیص بالاتفاق کفر اور آیت ’’ اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ المائدہ5:3‘‘ کے صریحاًخلاف ہے۔

۳۔ زنا کے متعلق شریعت کا حکم اور قانون یہ ہے کہ غیر شادی شدہ زانی یا زانیہ کو سوکوڑے لگائے جائیں خواہ وہ بوڑھے ہوں یا جوان، اور شادی شدہ زانی یا زانیہ کو سنگسار کیا جائے، خواہ وہ جوان ہوں یا بوڑھے۔ یہ ایک مشہور واجماعی قانون ہے جو سنت نبویؐ، سنت خلفائے راشدین اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ بلکہ غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کی سزا قرآن سے بھی ثابت ہے۔ کیوں کہ آیت ’’اَلزَّانِيَۃُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا النور 2:24…الخ‘‘ میں بدلیل سنت قطعیہ الف لام عہد خارجی ہے۔ جس سے مراد صرف غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ ہی ہیں۔ ایسے مشہور ومعروف اور اجماعی قانون شریعت کے مقابلے میں اوّل تو سائل کی پیش کردہ حضرت عمرؓ والی تقریر ہی درایتاً ساقط الاعتبار ہے،کیوں کہ حضرت عمرؓ جیسے اعلیٰ مجتہد شریعت کی طرف ایسے مشہورواجماعی قانون کی خلاف ورزی کا منسوب کرنا ہی بعید از قیاس ہے۔ اگر بالفرض اس نسبت کو صحیح تسلیم بھی کرلیا جائے تو ایک مشہور واجماعی قانون کے مقابلے میں حضرت عمرؓ کی یہ رائے ’’ان کی ایک انفرادی اور اجتہادی رائے قرار پائے گی، جو کسی غیر نبی کے بارے میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔‘‘

’’اَلْمُجْتَھِدُ یُخْطِیُٔ وَیُصِیْبُ‘‘

(ترجمان القرآن۔جمادی الاخریٰ ۳۷۵اھ، فروری۹۵۶اء)