رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
کیا مشرکین کے بچے جنت میں جائیں گے؟
سوال: میں ایک ۸ا سالہ سندھی نوجوان ہوں۔اس وقت میٹرک میں ہوتے ہوئے ایک عربی مدرسے میں دو سال سے دینی تعلیم بھی حاصل کررہا ہوں۔ہمارے ہاں عربی تعلیم کانظام کچھ اس طرز کا ہے کہ ابتدا ہی میں میرے اندر اس تعلیم سے نفرت اور بیزاری پیدا ہوگئی اور ایک سال کے اندر اندراسی عربی تعلیم نے مجھے ’’لامذہب‘‘ بنا کے رکھ دیا۔لیکن چوں کہ میرے اندر صراط مستقیم پانے کی دلی تمنا تھی اس لیے میں ہمیشہ بارگا ہِ الٰہی کے حضور میں دعا کرتا رہا کہ وہ مجھے’’ راہ ِراست‘‘ پر لے آئے۔اﷲ تعالیٰ نے انتہائی کرم فرمائی کی کہ مجھے ایمان ایسی دولت پھر سے عطا ہوئی۔ چنانچہ میں اب اسی کے فضل وکرم سے دل وجان سے مسلمان ہوں،قومیت سے سخت متنفر اور نظریۂ انسانیت کا پیروکار۔ اس ایک سال کے عرصے میں ،میں نے’’ مسند ومنبر‘‘ دونوں کو دیکھالیکن کہیں سے اطمینان قلبی نصیب نہیں ہوا۔اور اگر کہیں سے یہ نعمت میسر آئی تو پھر اسی کتاب الٰہی کے مطالعے سے جسے لوگ قرآن حکیم کہتے ہیں۔
یوں تو اب میں اسلام کو اپنا دین مان چکا ہوں لیکن پھر بھی مطالعے کے دوران میں بعض احادیث اور فقہی مسائل ایسے آتے ہیں جو بسا اوقات مجھے پریشان کرتے ہیں۔ آج ہی کی بات ہے کہ مدرسے میں مشکوٰۃکا درس ہورہا تھا۔جب اس حدیث پر پہنچا جو باب الایمان بالقدر میں ہے کہ:
عن ابن مسعود قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اَلْوَ ائِدَۃُ وَالْمَوْئُ وْدَۃ فِی النَّارِ۔
’’لڑکی کو زندہ گاڑنے والی اور وہ لڑکی جو زندہ گاڑی گئی،دونوں جہنم میں جائیں گی۔‘‘
تو میں نے استاذ مکرم سے صرف یہ کہا کہ حضور یہ حدیث میر ی سمجھ میں نہیں آئی۔انہوں نے جواب دیا کہ تمہاری سمجھ ہے ہی کیا کہ تم اسے سمجھ سکو، تمہیں تو بس آمنا وصدقنا ہی کہنا چاہیے۔ میں نے عرض کیا کہ یہ صحیح ہے کہ میری سمجھ ناقص ہے لیکن میں اتناتو سمجھ سکتا ہوں کہ حضور اکرمؐ کے دہن مبارک سے ایسے ناانصافی کے الفاظ نہیں نکل سکتے۔اگر آپؐ نے یہ حدیث فرمائی ہے تو اس کا مفہوم یہ نہیں ہوسکتا جو کہ بظاہر ترجمے سے معلوم ہوتا ہے،اور اگر اس کا مفہوم یہی ہے توپھر یہ حدیث حضور سرور کائناتؐ کی نہیں ہوسکتی۔ میرے یہ الفاظ کہنے تھے کہ میرے لیے مصیبت پیدا ہوگئی۔ مجھے محض اس وجہ سے مدرسے سے خارج کردیا گیا اور کہا گیا کہ تم منکر حدیث ہو۔ حالاں کہ میں منکرین حدیث کے مسلک کو صحیح نہیں سمجھتا اور اسے گمراہ کن خیال کرتا ہوں۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں احادیث کو سمجھنے کا حق بھی پہنچتا ہے یا نہیں؟ ہم بلا سوچے سمجھے کس طرح اس قسم کی احادیث پر آمنا وصدقنا کہنا شروع کردیں حالاں کہ بعض محدثین نے اس کی اسناد کو بھی ضعیف قرار دیا ہے۔براہِ کرم اس حدیث کی وضاحت فرما کر میری رہنمائی فرمائیں۔
جواب: یہ معلوم کرکے بڑا افسوس ہوا کہ آپ کو صرف اس قصور پرمدرسے سے نکا ل دیا گیا کہ درس حدیث کے دوران میں ایک حدیث کے مضمون پر آپ کو شک لاحق ہوا تھا اور پڑھانے والے مولوی صاحب آپ کا شک رفع کرنے سے عاجز تھے۔قصور تو اصل میں ان مولوی صاحب کا تھا جو اس چیز کی تعلیم دینے بیٹھ گئے تھے جس کی مشکلات کو حل کرنے کی قابلیت ان میں نہ تھی۔ لیکن افسوس کہ اس کی سزا آپ کو دے دی گئی۔ایسی ہی حرکات سے ہمارے ہاں کے بعض علمائے کرام اچھے خاصے صحیح الفکر اور سلیم الطبع لوگوں کو گمراہیوں کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔
آپ کو جس حدیث کے مضمون نے پریشانی میں ڈالا ہے وہ دراصل ایک بڑے مسئلے کے فروع میں سے ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ بچے جو سن رشدکو پہنچنے اور کسی مذہب حق یا مذہب باطل کو بالارادہ اختیار کرنے سے پہلے ہی مر گئے،ان کا انجام کیا ہوگا؟ اس مسئلے پر روشنی ڈالنے والی بہت سی احادیث پائی جاتی ہیں،مگر ان میں بڑا اختلاف ہے۔بعض حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب جنت میں جائیں گے۔بعض کہتی ہیں کہ کفار ومشرکین کے بچے دوزخ میں اور اہل ایمان کے بچے جنت میں جائیں گے۔ اور بعض سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ اﷲ تعالیٰ ان کے معاملے کا فیصلہ اپنے اس علم کے لحاظ سے کرے گا کہ وہ کیا کرنے والے تھے ،یعنی جوان ہوکر وہ مومن صالح بنتے یا کچھ۔ اور انہی مختلف المعنی احادیث میں سے ایک وہ حدیث بھی ہے جس کا آپ نے ذکر کیاہے۔وہ ان احادیث کے سلسلے میں آتی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہیںکہ کفار ومشرکین کے بچے جہنم میں جائیں گے، یا بالفاظ دیگر، بچوں کے ساتھ آخرت میں وہی معاملہ کیا جائے گا جس کے مستحق ان کے والدین ہوں گے۔
جب احادیث میں اس طرح کا کھلا کھلا اختلاف واقع ہوجائے اور ان کو جمع کرکے کوئی ایسا مفہوم تلاش کرنا مشکل ہو جس میں سب کے درمیان مطابقت پیدا ہوسکے،تو پھریہ دیکھنا ضروری ہوجاتا ہے کہ ان میں سے کون سی سند کے لحاظ سے زیادہ قوی اور معنی کے لحاظ سے قرآن اور دین کے اصول عامہ کے مطابق ہیں۔ جو احادیث ایسی ہوں ان کو دوسری تمام احادیث پر ترجیح دی جائے گی اور انہی کو قبول کیا جائے گا۔
علمائے محققین نے اس قاعدے کے مطابق ان مختلف احادیث کو جانچ کر مسئلۂ زیر بحث میں جس چیز کو مذہب صحیح قراردیا ہے،وہ یہ ہے کہ ایسے تمام بچے جنت میں جائیں گے، کیوں کہ اسی مضمون کی احادیث زیادہ قوی ہیں،قرآن کے مطابق ہیں، اور دین کے اُصول عامہ بھی انہی کی تائیدکرتے ہیں۔ چنانچہ امام نووی’’ شرح مسلم ‘‘ میں اس مسئلے پر کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ رہے مشرکین کے بچے ،تو ان کے بارے میں تین مذہب ہیں۔اکثر لوگ کہتے ہیں کہ وہ بھی اپنے آباو اجداد کے ساتھ جہنم میں جائیں گے۔ ایک گروہ ان کے معاملے میں توقف کرتا ہے۔ اور تیسرا مذہب یہ ہے کہ وہ اہل جنت میں سے ہیں۔ یہی مذہب صحیح ہے، اسی کو محققین نے اختیار کیا ہے، اور اس کی تائید بہت سی چیزوں سے ہوتی ہے۔ مثلاًبخاری کی وہ حدیث جس میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں حضرت ابراہیمؑ کو جنت میں دیکھا اور ان کے اردگرد لوگوں کے بچے تھے۔صحابہ کرامؓ نے پوچھا:کیا اِ ن میں مشرکین کے بچے بھی تھے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں مشرکین کے بچے بھی تھے۔اور اﷲ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًاo بنی اسرائیل 15:17 ’’ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ کوئی رسول نہ بھیج دیں۔‘‘ اور یہ بات متفق علیہ ہے کہ بچے پر کوئی ذمہ داری نہیں اور نہ رسول کا قول اس پر لازم ہوتا ہے جب تک کہ وہ بالغ نہ ہوجائے۔‘‘ (کتاب القدر،باب معنی کل مولود یولد علی الفطرۃ)
جہاں تک قرآن مجید کا تعلق ہے وہ اگرچہ اس کی صراحت نہیں کرتا کہ غیر مکلف انسان سب کے سب جنت میں جائیں گے، مگر اس معاملے میں وہ صاف فیصلہ دیتا ہے کہ جہنم میں صرف وہی لوگ جائیں گے جو انبیا علیہم السلام کی دعوت سے منہ موڑ کر شیطان کا اتباع کریں۔
لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَي اللہِ حُجَّــۃٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ۰ۭ النساء4:165
لَاَمْلَــــَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْہُمْ اَجْمَعِيْنَo صٓ38:85
كُلَّمَآ اُلْقِيَ فِيْہَا فَوْجٌ سَاَلَہُمْ خَزَنَــتُہَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَذِيْرٌo قَالُوْا بَلٰي قَدْ جَاۗءَنَا نَذِيْرٌ الملک67:8-9
لَا يُكَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا۰ۭ لَہَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْہَا مَااكْتَسَبَتْ۰ۭ
البقرہ2: 286
یہ اور بہت سی دوسری آیات اس معاملے میں بالکل صاف ہیں۔
اب رہ گئیں احادیث،تو ان میں بکثرت ایسی صحیح روایات موجود ہیں جو یا تو اس کی صراحت کرتی ہیں کہ بچے جنت میںجائیں گے، یا اس پردلالت کرتی ہیں کہ وہ عذاب آخرت سے محفوظ رہیں گے۔ان میں سب سے زیادہ مشہور وہ روایت ہے جو صحیحین میں کئی طریقوں سے آئی ہے کہ:
مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ اِلاَّ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرۃِ فَاَبَوَاہٌ یُھَوِّدَانِہٖ وَیُنَصِّرَانِہٖ وَیُمَجِّسَانِہٖ کَمَا تَنْتِجُ الْبَھِیْمَۃُ بِھیمۃً جمعائ ھَلْ تَحِسُّوْنَ فِیْھا مِنْ جَدْعَائ۔
’’کوئی بچہ ایسا نہیں ہے جو فطرت پر پیدا نہ ہوتا ہو۔بعد میں اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی، مجوسی بنالیتے ہیں۔اس کی مثال ایسی ہے کہ جانور کے پیٹ سے صحیح وسالم جانور پیدا ہوتا ہے۔کیا ان میں سے کسی کو تم کن کٹا پاتے ہو؟( یعنی ان کے کان تو بعد میںجاہل لوگ اپنی رسموںکی وجہ سے کاٹتے ہیں)۔‘‘
اس حدیث میں فطرت پر پیدا ہونے سے مراد اسلام پر پیدا ہونا ہے،کیوں کہ یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت کو اس کے بالمقابل بیان کیا گیا ہے۔ نیز اس کی بعض روایتوں میں علی فطرۃ الاسلام اور علی ھٰذہ الملۃ کے الفاظ وارد ہوئے ہیں جو بات کو بالکل واضح کردیتے ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ خود بخود نکلتا ہے کہ بچہ خواہ کافر ماں باپ ہی کاکیوں نہ ہو، اپنے والدین کے مذہب پر نہیں بلکہ اس فطری مذہب پر پیدا ہوتا ہے جس کے متعلق قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ فِطْرَتَ اللہِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْہَا۰ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللہِ۰ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ الروم30:30 وہ ماں کے پیٹ سے کفرلے کرنہیں آتا ،بلکہ کفر، شرک، دہریت، جو کچھ بھی اس کو لاحق ہوتی ہے، بعد میں اپنے ماحول سے لاحق ہوتی ہے۔ اب اگر وہ اس عمر کو نہ پہنچا ہو جس میں یہ بیرونی اثرات اس پر پڑیں اور وہ ان کو قبول کرکے کافر یا مشرک یا دہریہ بنے، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ خدا کی بنائی ہوئی اس صحیح فطرت پر دنیا سے رخصت ہوگیا جو کفر اور معصیت سے پاک ہے،کوئی وجہ نہیں کہ وہ اس دارالعذاب میں بھیجا جائے جو صرف کافروں اور فاسقوں ہی کے لیے بنایا گیا ہے۔
اسی مضمون سے ملتی جلتی حدیث وہ ہے جس میں نبیؐ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ
اِنی خَلَقْتُ عِبْادِیْ حُنَفَآئَ کَلَّھُمْ وَاِنَّھُمْ اَتَتْھُمُ الشَّیَاطِیْنُ فَاجْتَالَتْھُمْ عَنْ دِیْنْھِمْ۔ (مسلم)
’’میں نے اپنے سب بندوں کو حنیف پیدا کیا۔بعد میں شیاطین آئے اور انہیں ان کے دین سے ہٹا لے گئے۔‘‘
اس حدیث کی بعض رواتیوں میں حنفاء مسلمین کے الفاظ ہیں۔یعنی اﷲ نے ان کو مسلم حنیف پیدا فرمایا تھا۔اس سے بھی یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جو انسان شیطانی گمراہیوں کو اخذ اور اختیار کرنے سے پہلے مرجائیں،وہ اسی حنیف کے عالم میں مرتے ہیں جو ان کا پیدایشی دین ہے اور ان کے عذاب آخرت میں مبتلا ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔
اس کے بعد وہ احادیث ملاحظہ ہوں جن میں صراحت ہے کہ کافر ومومن سب کے بچے جنت میں جائیں گے۔ اس معنی میں سب سے زیادہ معتبر وہ حدیث ہے جو اما م بخاری ؒ نے کتاب التعبیر اور کتاب الجنائز میں حضرت سمرہ ؓبن جندب سے نقل کی ہے۔اس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز صبح کی نماز کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک طویل خواب سنایا ،جو آپؐ نے رات کے وقت دیکھا تھا۔اس خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب اور ثواب کے بہت سے مناظر دکھائے گئے تھے،اور ایک جگہ جنت میں آپؐ کی ملاقات ایک طویل القامت بزرگ سے ہوئی تھی جن کے گردو پیش بہت سے بچے(اولاد الناس) تھے۔سیر کرانے والے فرشتے(جبریل ؑ) نے آپؐ کو بتایا کہ یہ بزرگ ابراہیم ؑ ہیں۔ وَاَمَّا اْلوِلْدَانِ الَّذِیْنَ حَوْلَہٗ فَکُلُّ مَوْلُوْدٍمَاتَ عَلَی الْفِطْرَۃ۔ ’’رہے یہ بچے جو ان کے گردو پیش ہیں تو ان میں ہر وہ بچہ شامل ہے جو فطرت پر مرا ہے۔‘‘ اس کی تشریح چاہتے ہوئے حاضرین میں سے ایک صاحب نے سوال کیا: واولاد المشرکین؟ ’’کیا ان میں مشرکین کے بچے بھی شامل تھے؟‘‘ حضورؐ نے فرمایا: واولاد المشرکین۔ ’’ہاں مشرکین کے بچے بھی۔‘‘
اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو مسند احمد میں خنسا ء بنت معاویہ بن حریم سے مروی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میری پھوپھی نے رسولؐ اﷲ سے پوچھا: ’’من فی الجنۃ؟ جنتی کون ہے؟‘‘ حضورؐ نے فرمایا: اَلنَّبِیُّ فِی الْجَنَّۃِ وَالشَّھِیْدُ فِی الْجَنَّۃِ وَالْمَوْلُوْدُفِی الْجَنَّۃِ۔
’’نبی جنتی ہے، شہید جنتی ہے، بچہ جنتی ہے۔‘‘
بعض علما نے اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ قرآن مجید میں جن کو غِلْمَانٌاور وِلْدَانٌ مُخَلَّدُوْنَ (ہمیشہ حالت طفلی ہی میں رہنے والے لڑکے) کہا گیا ہے وہ یہی بچے ہوں گے۔ یہ بات بہت قرین قیاس معلوم ہوتی ہے اور بعید نہیں کہ اس کی صورت یہ ہو کہ جن بچوں کے والدین جنتی نہ ہوں،وہ اہل جنت کے دائمی و ابدی خادم بنادیے جائیں ،واﷲ اعلم بالصواب۔
اس بات کو اصل قرار دینے کے بعد دوسری تمام احادیث کی یا تو اس کے مطابق تاویل کی جائے گی، یا پھر ان کے بارے میں توقف کیاجائے گا۔ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی جگہ صحیح ہوں مگران کے کوئی ایسے معنی ہوں جو روایت کردہ الفاظ سے پوری طرح ظاہر نہ ہورہے ہوں۔
(ترجمان القرآن۔ ذی الحجہ ۳۷۶اھ، ستمبر۷ ۹۵اء)