مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

قرآن کی تاویل میں حدیث کی اہمیت:

آپ نے اس سوال کے ضمن میں ایک اور سوال یہ چھیڑ دیا ہے کہ اگر ایک شخص کسی آیت کا مطلب صاف محسوس کررہا ہو تو اسے حدیث کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟میں کہتا ہوں کہ ایک شخص خواہ قرآن کو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی تصنیف سمجھتا ہو یا یہ سمجھتا ہو کہ یہ خدا کی کتاب ہے اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم خدا کے رسول ہیں، دونوں صورتو ں میں اس کا یہ دعویٰ کرنا غلط ہوگا کہ اسے قرآن کو سمجھنے کے لیے محمدؐ کی قولی وعملی تشریح سے مدد لینے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔اگر وہ اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصنیف سمجھتا ہے تو اسے ماننا ہوگا کہ مصنف نے اس کی جو تشریح بھی کی ہو، وہی اس کا اصل مدعا ہے۔اور اگر وہ اسے خدا کا کلام مانتا ہے اور یہ تسلیم کرتا ہے کہ خدا ہی نے اسے اس کی تعلیم دینے کے لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مامور کیا تھا،تب بھی اسے یہ ماننا پڑے گا کہ خدا کے کلام کا جو مفہوم محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا تھا، وہی اس کا مستند مفہوم ہے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ کوئی حدیث جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی طر ف منسوب کی جاتی ہو، صحیح ہے یا نہیں، اور اس کے صحیح ہونے یا نہ ہونے کے دلائل کیا ہیں، مگر بجائے خود یہ بات ناقابل انکار ہے کہ قرآن کو سمجھنے میں ہم حدیث سے بے نیاز نہیں ہو سکتے۔