رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی:
اس اصولی توضیح کے بعد اب میں اس آیت کو لیتا ہوں جسے آپ نے مثال کے طور پر لیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ’’دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔‘‘عربی زبان کے لحاظ سے’’دین میں ‘‘ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ایک’’ دین قبول کرنے یا اختیا رکرنے کے معاملے میں‘‘اور دوسرے ’’دین کے نظام میں‘‘۔ ان دو تعبیروں میں سے کون سی تعبیر قابل ترجیح ہے،اس کا فیصلہ محض اس آیت کے الفاظ سے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے آپ کو سیاق وسباق کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔
جس سیاق وسباق میں یہ آیت آئی ہے وہ یہ ہے کہ پہلے اﷲ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی صفات کا ایک واضح تصور پیش کیا گیا ہے،جو مختلف اقسام کے شرک میں مبتلا ہونے والی تمام موجودالوقت مذہبی جماعتوں کے تصور الٰہ سے مختلف ہے، اور اس دین کا بنیادی عقیدہ ہے جس کی طرف قرآن دعوت دیتا ہے۔پھر کہا گیا ہے کہ’’دین میں کوئی جبر نہیں ہے، راہ راست گمراہی سے ممیز ہوچکی ہے،اب جوکوئی طاغوت کو چھوڑ کر اﷲ پر ایمان لائے، اس نے ایک ایسی رسی تھام لی جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں اور اﷲسب کچھ سننے اورجاننے والا ہے۔جو لوگ ایما ن لائیں،اﷲ ان کا سرپرست ہے، وہ ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔ اور جو لوگ کفر کریں،ان کے سرپرست طاغوت ہیں، وہ ان کو روشنی سے نکال کر تاریکیوں میں لے جاتے ہیں…‘‘اس سیاق وسباق میںخط کشیدہ فقرہ صاف طور پر یہ معنی دے رہا ہے کہ اﷲ کے متعلق مذکورۂ بالا عقیدہ کسی سے زبردستی نہیں منوایا جائے گا۔صحیح عقیدے کو غلط عقائد کے مقابلے میں پوری وضاحت سے پیش کردیا گیا ہے۔اب جو کوئی غلط عقائد کو چھوڑ کر اﷲ کو اس طرح مان لے گا جس طرح بتایا گیا ہے،وہ خود فائدہ اٹھائے گا، اور جو ماننے سے انکار کرے وہ آپ ہی نقصان میں رہے گا۔
اس کے بعد آپ پورے قرآن پر ایک نگاہ ڈالیے۔ یہاں آپ دیکھیں گے کہ متعدد جرائم کے لیے سزائیں تجویز کی گئی ہیں، بہت سی اخلاقی خرابیوں کو دبانے کا حکم دیا گیا ہے، بہت سی چیزوں کو ممنوع ٹھیرایا گیا ہے، متعدد چیزوں کو فرض ولازم قرار دیا گیا ہے، اور مسلمانوںکو حکم دیا گیا ہے کہ وہ رسول اور اصحاب امر کی اطاعت کریں۔ ان سب احکام کو نافذ(enforce) کرنے کے لیے بہرحال کسی نہ کسی طرح کی قوت جابرہ(coercive power) کا استعمال ناگزیر ہے، خواہ وہ ریاست کی طاقت ہو یا سوسائٹی کے اخلاقی دبائو کی طاقت۔ اس سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ ’’دین میں کوئی جبر نہیں ہے‘‘کہنے سے قرآن کا منشایہ ہرگز نہیں ہے کہ اسلامی نظام زندگی میں سرے سے جابرانہ قوت کے استعمال کا کوئی مقام ہی نہیں ہے۔بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ دین اسلام کو قبول کرنے کے معاملے میں جبر کا کوئی کام نہیں، جو قبول کرنا چاہے،وہ اپنی آزاد مرضی سے قبول کرے اور جوقبول نہ کرنا چاہے اسے کوئی زبردستی ایمان لانے پر مجبور نہ کرے گا۔
اس مضمون پر مزید روشنی رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم اور آپ سے براہِ راست تربیت پانے والے اصحاب کے طرز عمل سے پڑتی ہے۔ انہوں نے کبھی کسی غیر مسلم کو ایمان لانے پر مجبور نہیںکیا،مگر جو لوگ اسلام قبول کرکے مسلم سوسائٹی میں داخل ہوگئے، ان کو اسلامی احکام کی تعمیل پر ضرور مجبور کیا اور اس غرض کے لیے اخلاقی ومعاشرتی دبائو ہی سے نہیں،حکومت کی طاقت سے بھی کام لیا۔ ان کے زمانے میں بکثرت غیر مسلم اسلامی حکومت کی رعایا بنے۔انہیں عقیدے اور عبادت اور مذہبی رسوم ادا کرنے کی پوری آزادی دی گئی ،اور ان کے شخصی قانون(personal law) کو بحال رکھا گیا، مگر اسلامی حکومت کا اجتماعی قانون(public law) ان پر بھی اسی طرح نافذ کیا گیا جس طرح وہ مسلمانوں پر نافذکیا جاتا تھا۔
یہاں تک میں نے آیت کے اصل مفہوم کی تشریح کی ہے۔اب میں آپ کے سوالات کے نمبرا تا نمبر۶ کا الگ الگ جواب عرض کرتا ہوں۔