مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ایصال ثواب:

سوال: مندرجۂ ذیل امور میں آپ کی رہنمائی درکار ہے۔مجھے امیدہے کہ حسب معمول واضح جواب عنایت فرماویں گے:

(۱) رسائل ومسائل حصہ دوم میں’’نذر ونیاز اور ایصال ثواب‘‘ کے عنوان کے تحت جو جواب آپ نے رقم فرمایا ہے ،اس سے یہ متبادر ہوتا ہے کہ آپ اس امر کے قائل ہیں کہ مالی عبادت سے ایصال ثواب ہوسکتاہے مگر بدنی عبادت سے نہیں، اور پھر آپ مالی انفاق کے بھی متوفی عزیز کے لیے نافع ہونے کو اﷲ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف قرا ردے رہے ہیں۔ کیا آپ کے استدلال کی وجہ یہ ہے کہ اس امر کی بابت کوئی صراحت قرآن وحدیث میں نہیں ہے کہ بدنی عبادت میں ایصال ثواب ممکن ہے؟ یا کوئی اور سبب ہے؟

آپ خودایصال ثواب کرنے والے کے لیے تو انفاق کوبہرحال نافع قرار دے رہے ہیں مگر متوفی عزیز کے لیے نافع ہونے کو اﷲ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف قرار دے رہے ہیں۔اس تفریق کی اصل وجہ کیا ہے؟

(۲) کیا ہر شخص ہر دوسرے متوفی شخص کو(خواہ متوفی اس کا عزیز ہو یا نہ ہو،یا متوفی نے بالواسطہ یا بلاواسطہ اس کی تربیت میں حصہ لیا ہو یا نہ ) مالی انفاق کا ثواب پہنچا سکتا ہے یا کہ اس کے لیے آپ کے نزدیک چند قیود وشرائط ہیں؟ازراہ کرم اپنی رائے تحریر فرما ویں۔

جواب: آپ کے سوالات کے مختصر جوابات نمبر وار درج ذیل ہیں:

(۱) دراصل تو قرآن وحدیث سے عام قاعدہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص کا اپنا عمل ہی اس کے لیے مفید ہے،ایک شخص کا عمل دوسرے کے لیے آخرت میں مفید نہ ہوگا۔ لیکن بعض احادیث سے یہ استثنائی صورت بھی معلوم ہوتی ہے کہ ایصال ثواب کیا جاسکتا ہے۔اس طرح کی جتنی احادیث بھی ہمیں ملی ہیں ،ان سب میں کسی خالص بدنی عبادت کا ذکر نہیں ہے بلکہ ایسی عبادت کا ذکر ہے جو یا تو صرف مالی عبادت ہے جیسے صدقہ،یا مالی وبدنی عبادت ملی جلی ہے،جیسے حج۔ اسی بِنا پر فقہا میں اختلاف ہوا ہے۔ ایک گروہ اسے مالی اور بدنی عبادات دونوں میں جار ی کرتا ہے اور دوسرا گروہ اس کو ان عبادات کے لیے مخصوص کرتا ہے جو یا تو خالص مالی عبادات ہیں یا جن میں بدنی عبادت،مالی عبادت کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔میرے نزدیک یہ دوسرا مسلک اس لیے مرجح ہے کہ قاعدۂ کلیہ میں اگر کوئی استثنا کسی حکم سے نکلتا ہو تو اس استثنا کو اسی حد تک محدود رکھنا چاہیے جس حد تک وہ حکم سے نکلتا ہے۔اسے عام کرنا میری رائے میں درست نہیں ہے۔لیکن اگر کوئی شخص پہلے گروہ کے مسلک پر عمل کرتا ہے تو اسے ملامت نہیں کی جاسکتی۔کیوں کہ شریعت میں اس کی گنجایش بھی پائی جاتی ہے ۔زیادہ سے زیادہ اختلاف صرف ترجیح کا ہے۔

رہی یہ بات کہ ایصال ثواب کا میت کے لیے نافع ہونا یا نہ ہونا اﷲ کی مرضی پر موقوف ہے،تو اس کا سبب دراصل یہ ہے کہ ایصال ثواب کی نوعیت محض ایک دعا کی ہے۔ یعنی ہم اﷲ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ یہ نیک عمل جو ہم نے تیری رضا کے لیے کیا ہے، اس کا ثواب فلاں مرحوم کو دیا جائے۔اس دعا کی حیثیت ہماری دوسری دعائوں سے مختلف نہیں ہے۔ اور ہماری سب دعائیں اﷲ کی مرضی پر موقوف ہیں۔وہ مختار ہے کہ جس دعا کو چاہے قبول فرمائے اور جسے چاہے قبول نہ فرمائے۔ ہوسکتا ہے کہ ہم کسی ایسے شخص کے لیے ایصال ثواب کریں جو اﷲ کی نگاہ میں مومن ہی نہ ہو، یا سخت مجرم ہو اور اﷲ اسے کسی ثواب کا مستحق نہ سمجھے۔

ایصال ثواب کرنے والے نے اگرواقعی کوئی نیک عمل کیا ہوتواس کااجر بہرحال ضائع نہ ہوگا۔اﷲ تعالیٰ اگر متوفی کو ثواب نہ پہنچائے گا تو نیکی کرنے والے کے حساب میں اس کا اجر ضرور شامل کرے گا۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے آپ کسی شخص کے نام منی آرڈر بھیجیں۔اگر وہ منی آرڈر اس کو نہ دیا گیا ہو تو لازماًآپ کی رقم آپ کو واپس ملے گی۔ یا مثلاً آپ جیل میںکسی قیدی کو کھانا بھیجیں۔اگرحکومت یہ مناسب نہیں سمجھتی کہ ایک ظالم مجرم کو نفیس کھانے کھلائے جائیں تو وہ آپ کا بھیجا ہوا کھانا پھینک نہیں دے گی،بلکہ آپ کو واپس کردے گی۔

(۲) ایصال ثواب ہر ایک کے لیے کیا جاسکتا ہے،خواہ متوفی سے کوئی قرابت ہو یا نہ ہو اور خواہ متوفی کا کوئی حصہ آدمی کی تربیت میں ہو یا نہ ہو۔ جس طرح دعا ہرایک شخص کے لیے کی جاسکتی ہے، اسی طرح ایصال ثواب بھی ہر ایک کے لیے کیا جاسکتا ہے۔ (ترجمان القرآن۔فروری ا۹۶اء)