رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
قرآن کن کتب مقدسہ کی تصدیق کرتا ہے؟
قرآن مجید جن کتابوں کی تصدیق کرتا ہے ،وہ پرانا’’ عہد نامہ‘‘ اور’’نیا عہد نامہ‘‘ نہیں ہیں بلکہ تورات،زبور اور انجیل ہیں۔تورات کو یہودیوں نے ایک مستقل کتاب کی حیثیت سے نہیں رکھا بلکہ اس کے مختلف اجزا پرانے عہد نامہ کی پہلی پانچ کتابوں میںبنی اسرائیل کی تاریخ کے اندر شامل(incorporate) کردیے۔ آپ ان کتابوں میں سے اس تورات کے اجزا کو اس علامت کی مدد سے چھانٹ سکتے ہیں کہ جہاں جہاں کوئی عبارت اس طرح شروع ہوتی ہے کہ خداوند نے موسیٰ علیہ السلام سے یہ کہا ،یا خدا نے یہ حکم دیا، یا موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو خطاب کرکے یہ تقریر کی، وہاں غالباً اس تورات کا کوئی جز نقل کیا گیا ہے۔یہی صورت زبور کی بھی ہے کہ پرانے عہدنامے کی پوری کتاب ’’زبور‘‘(Psalms) نہیں بلکہ صرف زبور دائود (Psalms Of David) کی قرآن نے تصدیق کی ہے اور اس کے اجزاء کتاب زبور میں شامل پائے جاتے ہیں۔ ایسا ہی معاملہ انجیل کا بھی ہے کہ اس کو پیروان مسیح علیہ السلام نے ایک مستقل کتاب کی حیثیت سے محفوظ نہ رکھا بلکہ مسیح علیہ السلام کے سوانح نگاروں(متی، مرقس،لوقا،یوحناوغیرہ) نے اپنی اپنی کتابوں میں اس کے وہ حصے درج کردیے ہیں جو ان کو زبانی روایات کے ذریعے سے پہنچے تھے، اور انہیں اس علامت کی مدد سے چھانٹا جاسکتا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے یوں کہا،یا مسیح علیہ السلام نے یہ تمثیل دی،یا لوگوں کو خطاب کرکے یہ وعظ کہا۔آپ میری اس نشان دہی پر پرانے اور نئے عہدنامے میں تورات،زبور اور انجیل کے ان اجزا کو چھانٹ لیں اور پھر قرآن کا ان سے مقابلہ کرکے دیکھیں۔آپ کو خود معلوم ہوجائے گا کہ ان کی تعلیم اور قرآن کی تعلیم میں بہت کم اختلاف پایا جاتا ہے ،اور جو تھوڑا سا اختلاف ہے، اس کی بھی یہ معقول توجیہ کی جاسکتی ہے کہ قرآن اپنے اصل الفاظ میں ایک مستقل کتاب کی حیثیت سے موجود ہے،اور وہ تینوں کتابیں نہ اپنے اصل الفاظ میں محفوظ رکھی گئی ہیں [ اگر اِس امر میں کسی کو شک ہو کہ یہ کتابیں اپنے اصل الفاظ میں محفوظ ہیں یانہیں، تو وہ مثال کے طور پر صرف پہاڑی کے وعظ کی عبارات متی اور لوقا کی انجیلوں میں سے نکال کر دیکھ لے۔ دونوں روایتوں میں اتنا اختلا ف پایا جاتا ہے کہ اس کی موجودگی میں مشکل ہی سے وحی کے اصل الفاظ محفوظ ہونے کا دعویٰ کیا جاسکتا ہے]۔ اور نہ انہیں ایک مستقل کتاب کی حیثیت سے باقی رہنے دیا گیا ہے۔میرے لیے یہ کہنا مشکل، ہے کہ آیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ تینوں کتابیں مستقل کتابوں کی حیثیت سے موجود تھیں یا نہیں، لیکن کم ازکم تورات کے متعلق یہ بات خود پرانے عہد نامے کے بیانات سے بھی [مثال کے طور پر ملاحظہ ہو:۲ -سلاطین با ب۲۲-۲۳]اور ہمارے ہاں کی احادیث سے بھی معلوم ہوتی ہے کہ یہودیوں کے ہاں یہ ایک مدت تک ایک مستقل کتاب کی حیثیت سے پائی جاتی تھی اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس کا ایک نسخہ مدینے کے یہودیوں کے پاس موجود تھا۔
( ترجمان القرآن،صفر۳۷۵اھ،اکتوبر ۹۵۵اء)