مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

حضرت ابو بکرؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کی باہمی رنجیدگی:

سوال: ایک شیعہ عالم نے مجھ سے فرمایا کہ حضرت فاطمہؓ ،حضرت صدیق اکبرؓ سے تادم مرگ ناراض رہیں اور انہیں بدعا دیتی رہیں۔ انہوںنے اس امر کے ثبوت میں الامامۃ والسیاستہ کے حوالے دیے ہیں جو ابن قتیبہ کی تصنیف ہے۔انہوں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ابن قتیبہ کو سنی علمائ مستند مانتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے مولانا شبلی کی الفاروق میں سے ایک عبارت دکھائی ہے جس میں اس مصنف کو نام ور اور قابل اعتماد قرار دیا گیا ہے۔ نیز شیعہ عالم نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ آپ نے بھی اپنے رسالہ’’اسلامی دستور کی تدوین‘‘ میں الامامۃ والسیاستہ میں سے ایک خط نقل کیا ہے جو ام المومنین حضرت ام سلمہؓ نے حضرت عائشہؓ کو لکھا تھا۔ براہِ کرم حضرت فاطمہ ؓ کی ناراضگی کی حقیقت واضح کریں۔ نیز اس امر سے بھی مطلع کریں کہ ابن قتیبہ کی کتا ب کا علمی پایہ کیا ہے اور وہ کس حد تک قابل اعتبار ہے؟

جواب: ابن قتیبہ تو بلاشبہ ایک محقق شخص تھے، لیکن ان کی جس تصنیف کا حوالہ شیعہ عالم نے دیا ہے، اس میں بعض چیزیں ایسی موجود ہیں جو عقلاًقابل قبول نہیں ہیں۔ خصوصاً حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کی سیرت کا جو نقشہ انہوں نے نبیؐ کے وصا ل کے بعد کا کھینچا ہے، وہ ایسا ہے کہ اگر اسے صحیح مان لیا جائے تو ان دونوں برگزیدہ ہستیوں کے بارے میں عقیدت تو درکنار، اچھی رائے کا برقرار رہنا بھی محال ہو جاتا ہے۔ اس کتاب کے صفحہ ۱۲ کا مضمون آپ خود ملاحظہ فرمالیجیے اور خود ہی رائے قائم کیجیے کہ آیا ایسی روایات قابل قبول ہوسکتی ہیں۔ قبول کرنا تو ایک طرف، میں تو اسے اس قابل بھی نہیں سمجھ سکتا کہ اسے نقل کرکے آپ کے سامنے پیش کروں۔ اسی طرح کی چیزیں دیکھ کر بعض اہل علم نے یہ رائے قائم کی ہے کہ یہ کتاب یا تو ابن قتیبہ کی ہے ہی نہیں یا کم ازکم اس میں بعض چیزیں ضرور الحاقی ہیں۔ میں نے جس خط کا حوالہ دیا ہے، وہ ابن عبدربہ نے عقد الفرید میں بھی نقل کیا ہے۔ اس لیے میرا انحصار صرف الامامۃ والسیاستہ پر نہیں ہے۔

مسئلہ خلافت سے قطع نظر جہاں تک حضرت فاطمہؓ کے دعوائے میراث کا تعلق ہے، اس کے لیے ابن قتیبہ کی الامامۃ کی طرف رجوع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ا س کی تفصیلات تو صحیح بخاری اور دوسری کتب حدیث میں موجود ہیں۔ ان کتابوں کی مستند روایات سے یہ بات صاف طور پر معلوم ہوجاتی ہے کہ حضرت فاطمہؓ میراث کے معاملے میں حضرت ابوبکرؓ سے ناراض تو ضرور ہوئی تھیں، مگر حضرت ابو بکرؓ نے جس بِنا پر حضرت فاطمہ ؓ کے دعوے کو قبول کرنے سے انکارکیا تھا، وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد تھا کہ انبیا علیہم السلام کی میراث ان کے وارثوں میں تقسیم نہیں ہوتی بلکہ ان کا ترکہ صدقہ ہے۔ یہ بات ابن قتیبہ کے ہاں بھی مذکور ہے اور کسی جگہ بھی یہ مذکور نہیں ہے، کہ حضرت ابوبکرصدیق ؓ کا نقل کردہ فرما ن نبویؐ صحیح نہ تھا یا حضرت فاطمہ ؓ کو اس کی صحت سے انکار تھا۔ اب آپ خود غو رکرلیجیے کہ حضرت ابوبکرؓ کو نبی کریمؐ کے ارشاد کی تعمیل کرنا واجب تھا یا اس کو نظر انداز کرکے حضرت فاطمہؓ کی رضا مندی حاصل کرنا ضروری تھا؟ ہم تو اس بات کا بھی تصور نہیں کر سکتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول سننے کے بعد اسے قبول کرنے کی بجائے حضرت فاطمہ ؓ اس طرح غضب ناک ہوئی ہوں گی جس طرح غضب ناک ہونے کا نقشہ ابن قتیبہ نے کھینچا ہے۔ اگر وہ رنجیدہ ہوئی تھیں اور اس کا انہوں نے کسی شکل میں اظہار بھی کیا تھا تو اس کی زیادہ سے زیادہ بہتر تاویل یہی کی جاسکتی ہے کہ و ہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کو کسی اور معنی میں لیتی ہوں گی، اور حضرت ابو بکرؓ نے جو مفہوم اس کا سمجھا تھا، اس سے انہیں اتفاق نہ ہو گا۔ یہ تاویل اس واقعے کی نہ کی جائے تو پھر اس الزام سے حضرت فاطمۃ الزہر ا ؓکو نہیں بچایا جاسکتا کہ وہ مال کی محبت اتنی زیادہ رکھتی تھیں کہ خود اپنے والد ماجد اور اﷲکے رسولؐ کے قول کی انہوں نے پروا نہ کی۔ کیا سیدۃ النساء کے متعلق کوئی مسلمان ایسی بری رائے رکھنے کے لیے تیار ہے؟ خلفائے راشدین اور اہل بیت کے باہمی تعلقات کی ایسی تصویر ہمارے لیے آخر کس طرح قابل قبول ہوسکتی ہے جو فریقین میں سے کسی کی بھی شان اور عظمت میں اضافے کا موجب نہیں ہوسکتی۔

ہمارے ہاں اس امر میں بھی روایات مختلف ہیں کہ آیا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اس واقعے کے بعد آخر وقت تک ناراض رہیں یا بعد میں راضی ہوگئیں۔ بعض روایات میں یہ ہے کہ ان کی رنجش آخری وقت تک رہی، اور بعض میں یہ ہے کہ حضرت ابوبکرؓ بعدمیں خود ان سے ملنے کے لیے تشریف لے گئے اور انہیں راضی کرلیا۔یہی بات میرے نزدیک قرین صواب ہے۔

(ترجمان القرآن۔ شعبان،رمضان ۳۷۶اھ، جون ۹۵۷اء)