رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اہل سنت اور اہل تَشیُّع کے بعض اختلافی مسائل:
سوال: مندرجہ ذیل سوالات کا جواب دے کر مشکور فرماویں۔ یہ دراصل میرے ایک شیعہ دوست کے اعتراضات ہیں:
(۱) آیت وضو(پارہ ۶۔ رکوع ۲) میں فَاغْسِلُوْا اور وَامْسَحُوْا دو فعل استعمال ہوئے ہیں۔ پہلے سے چہرے اور کہنیوں تک دھونے کا حکم ہے، اور دوسرے سے پیروں اور سر کے مسح کرنے کا حکم ہے۔ سمجھنا یہ مقصودہے کہ اہل سنت پیر دھوتے ہیں،پیروں کا مسح کیوں نہیں کرتے؟ یہ بات کہاں سے ظاہر ہوتی ہے کہ پیر وضو کے آخر میں دھوئے جائیں۔جواب مفصل اور واضح ہونا چاہیے۔
(۲) آیۂ تطہیر میں حضرت علی ؓ شامل ہیں یا نہیں؟اگر ہیں تو فدک کی جائداد مانگتے وقت وہ حق پر تھے یا نہیں؟میں یہ سمجھتا ہوں کہ آیۂ تطہیر میں شامل ہونے کی وجہ سے حضرت علیؓکی طرف سے کسی وقت بھی ایسی بات یعنی مطالبۂ فدک کا گمان نہیں ہوسکتا۔وضاحتاً دو صورتیں پیدا ہیں۔ ایک فدک کا مانگنا، دوسرے فدک کا نہ دیا جانا… ایسی صورت میں صرف ایک ہی چیز درست ہوسکتی ہے۔ یا تومانگنا،یا نہ دیا جانا۔اس میں کون سی چیز صحیح ہے۔ترجمان القرآن بابت ماہ نومبر ۵۸ء میں حضرت علیؓ کی طرف آپ نے یہ کئی جگہ اشارہ کیا ہے کہ حضرت علیؓ کو علم تھا کہ رسولؐ کی میراث نہیں ہوتی، پھر بھی انہوں نے حضرت عمرؓ کے زمانے میں اس کا مطالبہ کیا، یہ کہاں تک درست ہوسکتا ہے؟
(۳) جب معاملۂ خلافت پہلی مرتبہ حضرت ابو بکرؓ کے حق میں مسجد نبوی میں طے ہوا تو کیا اس وقت حضرت علیؓ موجود تھے؟اگر نہیں تو ان کو بلایا گیا یا نہیں؟ کیا کبھی حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کی؟اور کس وقت؟ یہ بھی لکھئے کہ حضرت علیؓ کو کیوں نہ بلایا گیا؟
جواب: آیت وضو(سورۂ مائدہ، رکوع دوم) کے متعلق شیعوں اور سنیوں کے درمیان یہ اختلاف بہت پرانا ہے کہ آیا اس میں پائوں دھونے کا حکم دیا گیا ہے یا ان پر صرف مسح کرنے کا۔ آپ کے دوست کو یہ غلط فہمی ہے کہ قرآن میں صاف پیروں کے مسح کرنے کا حکم ہے اور اہل سنت نے محض حدیث کی بنیاد پر دھونے کا مسلک اختیار کرلیا ہے۔ اگر صاف حکم یہی موجود ہوتا تو پھر کس کی مجال تھی کہ اس کے خلاف عمل کرتا۔ اصل مختلف فیہ سوال تو یہی ہے کہ قرآن فی الواقع دونوں فعلوں میں سے کس کا حکم دیتا ہے اور اس کا حقیقی منشا کیا ہے۔
آیت کے الفاظ یہ ہیں:
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْہَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ۰ۭ المائدہ5:6
’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو جب تم اٹھو نماز کے لیے تو دھوئو اپنے منہ اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک اور مسح کرو اپنے سروں پر اور اپنے پائوں ٹخنوں تک۔‘‘
اس میں لفظ وَاَ رْجُلکُمْ کی دو قراء تیں متواتر ہیں۔ نافع،ابن عامر،حفص،کسائی اور یعقوب کی قراء ت وَاَ رْجُلَکُمْ (بفتح لام) ہے، اور ابن کثیر، حمزہ، ابو عمرو اور عاصم کی قراء ت وَاَرْجُلِکُمْ (بکسر لام)۔ ان میں سے کسی قراء ت کی حیثیت بھی یہ نہیں ہے کہ بعد میں کسی وقت بیٹھ کر نحویوں نے اپنے اپنے فہم اور منشا کے مطابق الفاظ قرآنی پر خود اعراب لگادیے ہوں،بلکہ یہ دونوں قراء تیں متواتر طریقے سے منقول ہوئی ہیں۔ اب اگر پہلی قراء ت اختیار کی جائے تو وَاَرْجُلَکُمْ کا تعلق فَاغْسِلُوْاکے حکم سے جڑتا ہے اور معنی یہ ہوجاتے ہیں: ’’ اور دھوئو اپنے پائوں ٹخنوں تک‘‘۔ اور اگر دوسری قراء ت قبول کی جائے تو اس کا تعلق وَامْسَحُوْا بِرُئُ وْسِکُمْ سے قائم ہوتا ہے اور معنی یہ نکلتے ہیں: ’’اور مسح کرو اپنے پائوں پر ٹخنوں تک‘‘۔
یہ صریح اختلاف ہے جو ان دو مشہور ومعروف اور متواتر قراء توں کی وجہ سے آیت کے معنی میں واقع ہوجاتا ہے ۔اس تعارض کو رفع کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ دونوں قراء توں کو کسی ایک ہی مفہوم (غسل یامسح) پر محمول کیا جائے۔لیکن اس کی جتنی کوششیں بھی کی گئی ہیں، وہ ہمیں کسی قطعی نتیجے پر نہیں پہنچاتیں۔ کیوں کہ جتنے وزنی دلائل کے ساتھ ان کو غسل پر محمول کیا جاسکتا ہے قریب قریب اتنے ہی وزنی دلائل مسح پر محمول کرنے کے حق میں بھی ہیں۔دوسری صورت یہ ہے کہ محض قواعد زبان کی بِنا پر ان میں سے کسی ایک معنی کو ترجیح دی جائے۔لیکن یہ صورت بھی مفید طلب نہیں،کیوں کہ دلائل ترجیح دونوں پہلوئوں میں قریب قریب برابر ہیں۔ اب آخر اس کے سوا کیا چارہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرامؓ کے عمل کو دیکھا جائے۔
ظاہر ہے کہ وضو کا حکم کہیں خلا میں تو نہیں دیا گیا تھا اور نہ وہ محض قرآن کے مصحف پر لکھا ہوا ہمیں مل گیا ہے۔یہ تو ایک ایسے فعل کا حکم ہے جو پنج وقتہ نمازوں کے موقع پر عمل کرنے کے لیے دیا گیا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود اس پر ہر روز کئی کئی بار عمل فرماتے تھے اور آپ کے متبعین، مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے سب روزانہ اس حکم کی تعمیل اس طریقے پر کرتے تھے جو انہوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قول اور عمل سے سیکھا تھا۔آخر ہم کیوں نہ یہ دیکھیں کہ قرآن کے اس حکم پر ہزارہا صحابہ ؓ نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو، اور بعد کے بے شمار مسلمانوں نے صحابہ ؓ کو کس طرح عمل کرتے دیکھا؟قرآن کے الفاظ سے جو بات واضح نہ ہوتی ہو،اسے سمجھنے کے لیے اس ذریعہ سے زیادہ معتبر ذریعہ اور کون سا ہوسکتا ہے۔
اس ذریعۂ علم کی طرف جب ہم رجوع کرتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ صحابہ کی اتنی کثیر تعداد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پائوں دھونے کے قول اور عمل کو نقل کرتی ہے،اور تابعین کی اس سے بھی زیادہ تعداد صحابہ سے اس کو روایت کرتی ہے کہ اس خبر کی صحت میں شک کرنے کی کوئی گنجایش نہیں رہتی۔ یہ درست ہے کہ کچھ تھوڑی سی روایات مسح کے حق میں بھی ہیں، لیکن ان میں سے کسی میں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کا عمل مسح کا تھا، بلکہ دو تین صحابیوں کی اپنی رائے یہ تھی کہ قرآن صرف مسح کا حکم دیتا ہے۔ نیز ان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ اگر وضو سے ہوتے اور پھر نماز کے وقت تجدید وضو کرنا چاہتے تو صرف مسح پر اکتفا کرتے تھے۔ دوسری طرف متعدد مستندروایات خود اہل تَشَیُّع کے ہاں ایسی ملتی ہیں جن سے پائوں دھونے کا حکم اور عمل ثابت ہوتا ہے۔ مثلاً محمدبن نعمان کی روایت ابو عبداﷲؓ سے جس کو کلبی اور ابوجعفر طوسی نے بھی صحیح سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے۔ اس میں وہ فرماتے ہیں کہ ’’اگر تم سر کا مسح بھول جائو اور پائوں دھو بیٹھو تو پھر سر کا مسح کرو اور دوبارہ پائوں دھو لو۔‘‘ اسی طرح محمد بن حسن الصفار حضرت زید بن علی سے، وہ اپنے والد امام زین العابدین سے،وہ اپنے والد اما م حسین سے، اور وہ اپنے والد سیدنا علی ؓسے ان کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ’’میں وضو کرنے بیٹھا،سامنے سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ میں جب پائوں دھونے لگا تو آپؐ نے فرمایا:’’اے علی!انگلیوں کے درمیان خلال کرلو۔‘‘ الشرف الرضی نے ’’نہج البلاغہ‘‘ میں حضرت علیؓ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کی جو کیفیت نقل کی ہے ،اس میں بھی وہ پائوں دھونے ہی کا ذکر فرماتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ روایات کا وزن تمام تر غسل قدمین کے حق میں ہے اور محض مسح کی تائید بہت ہی کم اور سنداً ومعناً کمزور روایتیں کرتی ہیں۔
اب عقل کے لحاظ سے دیکھیے تو پائوں دھونے ہی کا عمل زیادہ معقول اور قرآن کے منشا سے قریب تر محسوس ہوتا ہے۔ وضو میں جتنے اعضا کی صفائی کا حکم دیا گیا ہے، ان میں سب سے زیادہ گندگی اور میل کچیل لگنے کا امکان اگر کسی عضو کو ہے تو وہ پائوں ہی ہیں ۔ اور سب سے کم جس حصۂ جسم کے آلودہ ہونے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، وہ سر ہے۔ یہ عجیب بات ہوگی کہ دوسرے سب اعضا کو تو دھونے کا حکم ہو اور پائوں مسح کے حکم میں سر کے ساتھ شامل کیے جائیں۔ پھر پائوں پر مسح اگر وضو کے آخر میں کیا جائے تو لامحالہ گیلے ہاتھ ہی پھیرنے ہوں گے۔ اس صورت میں پائوں پر جو گرد وغبار یا میل کچیل موجود ہوگا،وہ گیلے ہاتھ پھیرنے سے اور بھی زیادہ گندا ہوجائے گا۔علاوہ بریں اگر آدمی پائوں پر صرف مسح کرے تو آیت کے دو متحمل معنوں میں سے ایک(یعنی غسل قدمین) لازماً چھوٹ جاتا ہے اور صرف ایک ہی مفہوم کی تعمیل ہوتی ہے۔ لیکن اگر آدمی پائوں دھوئے بھی اور اچھی طرح ہاتھوں سے مل کر ان کو صاف بھی کر دے تو آیت کے دونوں مفہوموں پر بدرجۂ اتم عمل ہوجاتا ہے،کیوں کہ اس صورت میں غسل اور مسح دونوں جمع ہوجاتے ہیں۔
البتہ مسح کے حکم پر عمل رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حالت میں کیا ہے جب کہ آپؐ موزے پہنے ہوئے تھے۔یہ آیت کے دوسرے مفہوم سے بھی مطابقت رکھتا ہے،بکثرت روایات صحیحہ سے بھی ثابت ہے اور سراسر معقول بھی۔ مگر تعجب ہے کہ شیعہ حضرات اسے نہیں مانتے، حالاں کہ یہ ان کے اپنے مسلک سے بھی قریب تر ہے۔
(۲) آیۂ تطہیر میں بلاشبہ حضرت علیؓ شامل ہیں،اور خدا نخواستہ کوئی مومن بھی ان کے رجس(اخلاقی واعتقادی گندگی) میں مبتلا ہونے کا قائل نہیں، بلکہ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث کے اس مقدمے میں آخر رجس اور طہارت کی بحث پیدا ہونے کاکیا محل ہے۔ نیک نیتی کے ساتھ بھی تو ایک حکم کا منشا سمجھنے اور ایک معاملۂ خاص پر اس کو منطبق کرنے میں ان کے اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمررضی اللہ عنہم کے درمیان اختلاف ہوسکتا تھا۔اس سے لازماًیہی معنی کیوں نکالے جائیں کہ انہوں نے دانستہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میراث رسول کا مطالبہ کیا؟
بہرحال اس معاملے میں دو واقعے ناقابل انکار ہیں۔ ایک یہ کہ اہل بیت کی طرف سے میراث کامطالبہ ہوا،اور اس مطالبے میں سیدہ فاطمہؓ ،حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ تینوں شامل ہیں۔ دوسر ے یہ کہ جب پانچ سال تک حضرت علیؓ خود خلیفہ تھے اور حجاز( جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام متروکہ جائداد واقع تھی)پوری طرح ان کے تحت اختیار تھا، اس وقت انہوں نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث تقسیم نہیں کی۔ اب ان دونوں واقعات کی جو توجیہ آپ کے دوست کرنا چاہیں، کر لیں۔ ہم اس کی جو توجیہ کرتے ہیں، اس میں رجس کے کسی شائبے کی گنجایش نہیں پائی جاتی۔ ہمارے نزدیک ابتدائً یہ مطالبہ کسی غلط فہمی کی وجہ سے اٹھا تھا(اورغلط فہمی قطعاًکوئی اخلاقی یا اعتقادی گندگی نہیں ہے)، بعد میں جب حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے پوری طرح اس معاملے کی حقیقت واضح کر دی، تو حضرات اہل بیتؓ بھی مطمئن ہوگئے، ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ حضرت علیؓ اپنے زمانۂ خلافت میں شیخین کے فیصلے کو ناجائز سمجھتے اور پھر بھی اس کو بدل کر حق داروں تک ان کا حق پہنچانے سے احتراز کرتے۔ ہم حضرت علیؓ کو اس سے بالا تر مانتے ہیں کہ وہ ایک چیزکو باطل سمجھتے ہوں اور پھر قصداً اس پر قائم رہیں، اور ایک چیز کو نہ صرف اپنا بلکہ دوسرے حق داروں کا بھی حق جانتے ہوں اور پھر بھی اسے ادا نہ کریں۔یہ بلاشبہ رجس ہے جس کے ادنیٰ غبار سے بھی ہم اہل بیت اطہار کے دامن کو آلودہ نہیں مان سکتے۔
(۳) آپ کے دوست کا تیسرا سوال واقعات سے بے خبری پر مبنی ہے۔ معاملۂ خلافت مسجد نبوی میں نہیں بلکہ سقیفہ بنی ساعدہ میں اس رات طے ہوا تھا جس کی شام کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا۔ اس وقت مہاجرین و انصار میں سے کوئی بھی وہاں بلایا ہوا نہیں گیا تھا۔ دراصل انصار کا ایک بڑا گروہ اس جگہ جمع ہوگیا تھا اور خلافت کے مسئلے کو طے کرنا چاہتا تھا۔جوںہی کہ ان کے اس اجتماع اور ارادے کی اطلاع حضرت ابو بکرؓ ، حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہؓ کو ہوئی، وہ فوراًوہاں پہنچ گئے اور ایک فتنۂ عظیم کا دروازہ بند کرنے کے لیے انہوں نے اسی وقت انصار کی اس جماعت کو سمجھا بجھا کر اس مسئلے کا ایک ایسا فیصلہ تسلیم کرالیا جس میں اُمت کی خیر تھی۔ وہ وقت آدمی بھیج بھیج کر لوگوں کو گھروں سے بلانے کا نہ تھا۔اگر یہ تینوں حضرات ذرا سی تاخیر بھی کر گئے ہوتے تو وہاں مسلمانوں کے درمیان ایک بڑی خانہ جنگی کی بنا پڑ گئی ہوتی، جو بعد کے فتنۂ ارتداد میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے مہلک ثابت ہوتی۔اس حالت میں کوئی صاحب عقل آدمی یہ تجویز لے کر نہیں اٹھ سکتا تھا کہ صاحبو، دو چار روز اس معاملے کو ملتوی رکھو،کل رسو ل اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز وتکفین سے فارغ ہوکر ایک کانفرنس کا اعلان کریں گے او رپھر اس میں یہ مسئلہ طے کرلیا جائے گا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشین کون ہو۔اس طرح کی تجویز پیش کرنے کے معنی یہ ہوتے کہ ایک طرف تو سرکار رسالت مآبؐ کے وفات پا جانے کی خبر عرب کے مختلف حصوں میں اس تصریح کے ساتھ پھیلتی کہ کوئی شخص آپؐ کی جگہ اُمت کا کام سنبھالنے کے لیے مقرر نہیں ہوا ہے، اور یہ چیز ان عناصر کی ہمتیں کئی گنازیادہ بڑھا دیتی جو اسلام کے خلاف بغاوت برپا کردینے کے لیے موقع کے منتظر بیٹھے تھے۔ اور دوسری طرف مجوزہ کانفرنس کے انعقاد سے پہلے انصار کے درمیان یہ رائے پختہ ہوچکی ہوتی کہ خلیفہ یا تو کوئی انصاری ہونا چاہیے ،یا پھر ایک امیر انصار میں سے اورایک مہاجرین میں سے ہونا چاہیے۔ حضرت عمرؓ کی بصیرت اس غلطی کے نتائج کواچھی طرح سمجھ رہی تھی،اس لیے انہوں نے وہیں اسی وقت مسئلے کا تصفیہ کرالینا ضروری سمجھا تاکہ کسی فتنے کو پرورش پانے کا موقع نہ ملے،اور بلا تاخیر اس شخص کی خلافت پر بیعت کرالی جسے تمام عرب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست راست کی حیثیت سے جانتا تھا،جس کے متعلق دوست اور دشمن ،سب ہی یہ رائے رکھتے تھے کہ مسلمانوں میں حضور اکرمؐ کے بعد اگر دوسرے درجے کی کوئی شخصیت ہے تو اسی کی ہے۔
دوسرے روز صبح کو مسجد نبوی میں جو اجتماع ہوا، وہ بیعت عام کے لیے تھا، نہ کہ مسئلۂ خلافت کا تصفیہ کرنے کے لیے، جیسا کہ آپ کے دوست سمجھ رہے ہیں۔ اس وقت خلافت کے اس مسئلے کو جو رات بڑی مشکل سے طے ہوا تھا،ازسر نو بحث کے لیے کھولنے کے کوئی معنی ہی نہ تھے۔ یہ اگر بحث کے لیے کھل سکتا تھا تو اسی طرح کہ عام مسلمان رات کی قرارداد کو قبول کرنے سے انکار کردیتے۔لیکن جب انہیں اس فیصلے سے مطلع کیا گیا تو سب نے اسے بخوشی قبول کرلیا او ربیعت کے لیے ٹوٹ پڑے۔سوال یہ ہے کہ اس قبول عام کی صورت میں آخر کیوں اسے نئے سرے سے ایک تصفیہ طلب مسئلہ بنا کر بحث کے لیے سامنے رکھا جاتا؟
اس اجتماع میں کوئی بھی گھر سے نہیں بلایا گیا تھا۔سارے لوگ دور دور سے آکر اس لیے اکٹھے ہوئے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کی خبر سن کر لامحالہ انہیں اسی مسجد نبوی کا رخ کرنا تھا جس سے متصل حجرۂ عائشہؓ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جسد اطہر آرام فرما تھا۔ آپ کے دوست کے دل میں آخر حضرت علیؓ ہی کے متعلق یہ سوال کیسے پیدا ہوا کہ انہیں وہاں بلایا گیا تھا یا نہیں؟ کیا وہاں اور سب لوگ گھروں سے آدمی بھیج بھیج کر منگوائے گئے تھے؟ اور کیا آپ کے دوست کا خیال یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے دوسرے ہی روز حضرت علی ؓصبح کی نماز میں بھی شریک نہ ہوئے اور دن بھر اس مقام سے بھی غائب رہے جہاں سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز وتکفین اور قبر مبارک کی تیاری کا کام ہورہا تھا؟
آپ کے دوست کا آخری سوال کہ کیا حضرت علیؓ نے کبھی حضرت ابو بکرؓ کی بیعت کی؟ تو اس کا جواب ہے کہ ممدوح نے اسی روز سب مسلمانوں کے ساتھ بیعت کی تھی۔ طبری نے سعیدؓ بن زید کے حوالے سے، بیہقی نے ابو سعید خدری ؓکے حوالے سے، اور موسیٰ بن عقبہ صاحب المغازی نے عبدالرحمانؓ بن عوف کے حوالے سے عمدہ سند کے ساتھ یہ روایات نقل کی ہیں۔ اس کے بعد آںجناب سیّدہ فاطمہؓ کے پاس خاطر سے چھ مہینے خانہ نشین رہے اور پھر ان کی وفات کے بعد دوبارہ تجدید بیعت کرکے کاروبار خلافت میں ویسی ہی دل چسپی لینی شروع کی جیسی ان کے شایان شان تھی۔ طبری نے اپنی تاریخ میں اور علامہ ابن عبدالبر نے الاستیعاب میں یہ واقعہ بھی نقل کیا ہے کہ جب حضرت ابوبکرؓ کی بیعت ہوچکی تو ابو سفیان نے آکر ان سے کہا کہ:’’یہ کیا غضب ہوگیا ؟قریش کے سب سے چھوٹے قبیلے کا آدمی کیسے خلیفہ بنا دیا گیا؟ اے علی! اگر تم چاہو تو خدا کی قسم! میں اس وادی کو سواروں اور پیادوں سے بھر دوں۔‘‘ اس پر انہوں نے جو جواب دیا، وہ سننے کے قابل ہے۔فرمایا: ’’اے ابو سفیان!تم ساری عمر اسلام اور اہل اسلام سے دشمنی کرتے رہے، مگر تمہاری دشمنی سے نہ اسلام کا کچھ بگڑ سکا اور نہ اہل اسلام کا۔ ہم ابو بکرؓ کو اس منصب کا اہل سمجھتے ہیں۔‘‘ (ترجمان القرآن۔فروری ۹۵۹اء)