رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
بعض فقہی و اعتقادی اختلافات اور ان کی نوعیت :
سوال: چندمتفرق امور کے بارے میں سوالات ارسال ہیں،مختصر جوابات دے کر مطمئن فرمائیں:
(ا) شیطان اور نفس امارہ کے حملوں سے بچنے کے لیے کون کون سے شرعی اصول وضوابط اختیار کیے جائیں تاکہ حلاوت ایمان نصیب ہو اور کفر وعصیان سے دل بیزار ہو۔ کیا اورادو وظائف بھی اس مقصد کے حصول میں معاون ہوسکتے ہیں؟
(ب) اگر حیات طیبۂ نبویہ کے واقعات کو ماخذ دین کی حیثیت حاصل ہے اور ان سے تشریعی احکام کا انتزاع ناگزیر ہے تو ان کی کتابت وتدوین عہد نبویؐ میں کیوں نہیں ہوئی:
(ج) یہ بات مشہور ہے او رکتب متداولہ نیز ابن حزم کی اجتہاد وقیاس کے خلاف یورش سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ وہ امام دائود ظاہریؒ اوران کے اتباع،اجتہاد، استنباط، قیاس او ر استحسان کے شدیدمخالف ہیں۔ لیکن خود ابن حزم ہی کی کتابوں سے یہ بھی مترشح ہوتا ہے کہ وہ خود بھی اجتہاد کے عادی ہیں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ حقیقت الامر کیا ہے؟کیا یہ کوئی تعبیر کا فرق ہے یا سچ مچ وہ اجتہاد کے قائل نہیں ہیں؟ اور اگر نہیں ہیں تو ان کے اپنے اجتہاد کی توجیہ اورپس منظر کیا ہے؟
(د) اہل تشیع کی کتب حدیث اوران کے مؤلفین کا کیا پایہ ہے؟
(ہ) سب سے پہلے حجیت حدیث کا انکار کس نے کیا ہے،اس کی نوعیت وعلت کیاتھی؟
جواب: آپ کے ارشاد کے بموجب مجمل جوابات حاضر ہیں۔
(ا) نفس امارہ سے بچنے کے لیے ایک ہی کارگر ہتھیار ہے اور وہ ہے خوف ِ خدا کے استحضار کے ساتھ محاسبۂ نفس اور ادووظائف اس میں مدد گار ہوسکتے ہیں مگر دو شرطیں لازم ہیں: ایک یہ کہ ذکر کے ساتھ فکر بھی ہو، دوسرے یہ کہ ابتداع سے پرہیز کرکے ان اذکار و ادعیہ پر قناعت کی جائے جو قرآن یا احادیث صحیحہ میں وارد ہیں۔
(ب) احادیث کے منضبط نہ کیے جانے کی وجہ سمجھنے کے لیے اس وقت کے ماحول کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے ۔اس وقت لکھنے پڑھنے والے کم تھے اور سامان کتابت اور بھی زیادہ کم یاب تھا۔ آپ کو معلوم ہے کہ قرآن مجید کو محفوظ کرنے کے لیے بھی کھجور کے پتے، جھلیاں، تختیاں وغیرہ استعمال کی جاتی تھیں۔اب یہ آخر کس طرح ممکن تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر وقت ایک کاتب کاغذ قلم لیے لگا رہتا اور تمام حرکات وسکنات قلم بند کرتا رہتا۔ ویسے بھی یہ بات کچھ غیر فطری ہے کہ ایک آدمی کے ساتھ سفر وحضر میں او رخلوت وجلوت میں کاتبین لگے رہیں اور ہر تقریر، گفتگو، فعل، ترک فعل، سکوت وغیرہ کو لکھتے رہیں۔ اور ظاہر ہے کہ جب کتابت کا اصول لازم کردیا جاتا تو پھر آنحضورصلی اللہ علیہ وسلمکے بعض اعمال واقوال کو اس سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا جاسکتا تھا اور انہیں بتمام و کمال احاطۂ تحریر میںلانا قطعاًمحال اور عملاًناممکن تھا۔ آپؐ کا قول وفعل بلاشبہ شک وشبہ حجت ہے اور اسے ہونا ہی چاہیے۔ لیکن حجت ہونے کے ساتھ آخر یہ کب ضروری ہے کہ ہر چیز ہر وقت فوراً لکھ ہی لی جائے۔جب یہ ثابت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل کا حجت ہونا صحابہ کرامؓ کے ذہن نشین تھا تو یہ بات عین تقاضائے عقل وفطرت ہے کہ انہوں نے ہر بات کو غور سے دیکھا اور سنا ہوگا،آپس کے معاملات میں وہ ان اقوال و افعال سے سند لاتے ہوں گے اور ہر معاملے میں یہ خیال رکھتے ہوں گے کہ کیا کچھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور کیا کچھ ثابت نہیں ہے۔ یہ سنت نبوی کی حفاظت کا فطری راستہ تھا اور یہی اُمت نے اختیار کیا۔
قرآن تو ایک قابل کتابت چیز تھا اور مختصر تھا،اس لیے لکھ لیا گیا۔مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تیئس سالہ زندگی کے احوال اور حرکات وسکنات کو اور اس ماحول کو جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب کام سرانجام دیے،عالم واقعہ میں آتے ہی عالم تحریر میں نہیں لایا جاسکتا تھا۔مجرد ظہور کے وقت تو یہ سارے امور ذہنوں اور حافظوں میں ہی محفوظ کیے جاسکتے تھے اور دیکھنے والوں سے سننے والوں تک زبانی ہی پہنچائے جاسکتے تھے۔چنانچہ یہ عمل پورے استیعاب، تواتر اور تسلسل کے ساتھ جاری رہا۔ حتیٰ کہ باقاعدہ اورمفصل تدوین وکتابت کے لیے جملہ ساز وسامان اور آسانیاں مہیا ہوگئیں اور سنت کا یہ عظیم الشان ذخیرہ سینوں سے سفینوں میں منتقل ہوگیا۔
(ج) اجتہاد واستنباط اور قیاس واستحسان ایک ایسی چیز ہے جس سے کسی طرح مفر نہیں ہے۔ جو شخص بھی محدود احکام منصوصہ کو غیر محدوداحوال انسانی پرمنطبق کرنے کی کوشش کرے گا ،اسے لامحالہ ان چیزوں سے کام لینا پڑے گا۔ اصل اختلاف ان چیزوں کے بالفعل استعمال میں نہیں ہے بلکہ استعمال کی کثرت وقلت میں ہے۔ یا پھر ان الفاظ واصطلاحات میں ہے جن سے ان معانی کو تعبیر کیا جاتا ہے۔ایک شخص کی تعبیر پر دوسرا شخص قدح کرتا ہے،اور لوگوںمیں مشہور ہوجاتا ہے کہ وہ سرے سے اس چیز کا قائل ہی نہیں۔ ایک شخص استکثار پر عملاً یا قولاً زور دیتا ہے اور دوسرا اس پر کچھ اس شان سے معترض ہوتا ہے کہ گویا اس کا اعتراض کثرت استعمال پر نہیں بلکہ نفس شے کے استعمال پر ہے۔ان اشارات کو نگاہ میں رکھ کر آپ نہ صرف امام دائود ظاہریؒ اور ابن حزم کے مسلک کو سمجھ سکتے ہیں بلکہ ان اختلافات کی حقیقت کو بھی پا سکتے ہیں جو مثلاًا ہل الرائے اور اہل الحدیث میں قیاس ورائے کے استعمال پر، اور امام مالکؒ اور امام شافعیؒ میںاستحسان و مصالح مرسلہ کے مسئلے پر ہوئے ہیں۔
(د) اہل تَشَیُّع کی فقہ وحدیث کا وسیع مطالعہ کیے بغیر اس کے بارے میں کوئی تفصیلی اورمحققانہ رائے قائم کرنا مشکل ہے۔فی الجملہ جو کچھ کہا جاسکتا ہے وہ یہ کہ ہمارے اور ان کے ذخیرۂ حدیث میں بنیادی اختلاف یہ ہے کہ وہ صحابہ کی عظیم اکثریت کو چھوڑ کر صرف اہل بیت کی روایات پر اعتماد کرتے ہیں، اور اہل بیت کے بارے میں بھی ان کانقطۂ نظر محدود ہے۔ لیکن ہم اہل سنت، اہل بیت اور جملہ صحابہ کی روایات لیتے ہیں۔ نیزا ن کے راویوں میں بڑی تعداد ایسے غالی حضرات کی ہے جو اپنے خیالات میں نہایت متشدد تھے اور انہوں نے واقعات کو اپنے مخصوص رجحانات میں رنگ دیا ہے۔
(ہ) غالباًحجیت حدیث کے اوّلین منکرین خوارج اور معتزلہ ہیں۔خوارج نے اس لیے حدیث کا انکار کیا کہ ان کے مسلک کی اکثر باتیں حدیث کے خلاف پڑتی تھیں، اور معتزلہ نے اس لیے انکارکیا کہ دوسرے مذاہب اور فلسفیانہ مسالک کے لوگوں سے بحثیں کرکرکے انہوں نے اسلام اور اس کے معتقدات کی حقانیت کا اثبات جن دلائل پر موقوف سمجھ لیا تھا،ان میں سے اکثر حدیث سے ٹکراتے تھے۔ اسی طرح مناظروں کے بعد انہوں نے عقائد کی جو شکل بنائی تھی،وہ بھی احادیث سے مطابق نہ تھی، اور بعض حدیث سے ثابت شدہ چیزوں کو عقلی مناظروں میں صحیح ثابت کرنے کی انہیں کوئی راہ نہ ملتی تھی۔یہ دشواری اپنے عقلی مزعومات کی بِنا پر انہیں بعض آیات قرآنی کے بارے میں بھی پیش آتی تھی۔لیکن قرآن کا انکار ناممکن تھا،اس لیے آیات کی تو عجیب وغریب اور دل چسپ تاویلیں کی گئیں اور احادیث کا سرے سے انکارکردیا گیا۔
(ترجمان القرآن۔جمادی الثانی ۳۷۳اھ، مارچ ۹۵۴اء)