مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

کیا حضرت علی ؓ مخالفین کے بالمقابل برسر حق تھے؟

سوال: میں ایک مسئلے میں آپ کی رہنمائی کا طالب ہوں۔وہ یہ ہے کہ آپ نے محرم کے ایام میں اپنی ایک تقریر میں فرمایا ہے کہ حق علیؓ کے ساتھ تھا۔اس کامطلب تو یہ نکلا کہ حضرت علیؓ کے مقابلے میں آنے والے لوگ باطل پر تھے۔آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ حضرت علیؓ کی تین گروہوں کے ساتھ خوں ریز لڑائیاں ہوئیں،لیکن انہوں نے حدود اﷲ سے تجاوز نہ کیا، اور مقابل گروہ کے افراد کو نہ تو کبھی قتل کیا اور نہ ان کے بیوی بچے،لونڈی غلام بنائے۔آخر حضرت علیؓ نے کون سی لڑائی میں فتح پائی تھی کہ وہ یہ انداز اختیار کرتے؟

حضرت علیؓ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حکومت کی ہمیشہ خواہش رہی ۔ روایات کے مطابق انہوں نے کافی عرصے تک حضرت صدیقؓ کی بیعت نہیں کی۔حضرت عمرؓ نے جب چھ آدمیوں پر مشتمل کمیٹی قائم کی تو ان میں حضرت علیؓ بھی تھے۔ باقی اصحاب تو دست بردار ہو گئے۔ لیکن جب حضرت علی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کا معاملہ آیا تو عثمانؓ متفقہ طورپر خلیفہ چن لیے گئے جس پر حضرت علیؓ بڑے برہم ہوئے اور مسجد سے باہر نکل گئے اور بعد میں آکر بیعت کی۔ اس کے بعد جب خود حضرت علیؓ کو خلیفہ چنا گیا تو چننے والے مدینے کے چند اصحاب ہی تھے۔کیا وہاں بڑے بڑے صحابہ ؓ موجود تھے؟ کیا حضرت معاویہؓ کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ ان کی خواہ مخواہ بیعت کرتے؟

اسی طرح جب حضرت حسینؓ کا وقت آیا تو سب صحابہ ؓ نے انہیں کوفہ جانے سے منع بھی کیا لیکن آپ نے کسی کی بات بھی نہ سنی۔ آپ ہی فرمائیں کہ ایک منظم حکومت کے مقابلے میں جب کہ سوائے ہلاکت کے کچھ نظر نہ آتا ہو،مقابلے کے لیے نکل کھڑا ہونا کوئی دانش مندانہ اقدام ہے؟ کیا اسلام یہی تعلیم دیتا ہے؟ایسے مواقع پر جب کہ بالکل انسان بے بس ہو کسی منظم حکومت کے خلاف اٹھ کھڑا ہوتو اس کا انجام ایسا ہی ہوگا۔

جواب: آپ کا عنایت نامہ ملا۔ آپ نے جو سوالات چھیڑے ہیں،ان کا مفصل جواب دوں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ایک طویل مضمون لکھوں جس کے لیے میرے پاس وقت نہیں۔ اور مختصر جواب دوں تو وہ آپ کو مطمئن کرنے میں اس سے زیادہ ناکام ہوگا جتنی اس تقریر کی رپورٹ ناکام ہوئی ہے جس پر آپ نے یہ سوالات اٹھائے ہیں۔کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ آپ میرے یہ خیالات معلوم کرنے کے بعد خود اس مسئلے پر مطالعہ کرتے اور اصل حقائق معلوم کرنے کی کوشش کرتے؟

آ پ کو شاید معلو م نہیں ہے کہ امام ابو حنیفہؒ جیسے محتاط فقیہ کی رائے بھی یہی تھی کہ حضرت علیؓ کی جتنی لڑائیاں بھی مختلف گروہوں سے ہوئیں، ان میں حق حضرت علیؓ ہی کے ساتھ تھا۔ بلکہ جنگ صفین میں حضرت عمار بن یاسرؓ کی شہادت کے بعد ہی علمائے اہل سنت کا اس بات پر اجماع ہوگیا تھا کہ فریق مقابل کی حیثیت باغی گروہ کی ہے، کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلمنے پیش گوئی فرمائی تھی کہ عمار بن یاسر کو ایک فئہ باغیہ قتل کرے گی۔ آپ نے اس بات کو بھی فراموش کردیا کہ نبیؐ کی ایک اور پیش گوئی کی رو سے خلافت کا دَور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تیس سال تک تھا اور اس کے بعد ملوکیت شروع ہوئی۔ اس اعتبار سے حضرت علیؓ کی خلافت کو خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توثیق حاصل ہے اور امیر معاویہؓ کی حکومت خلافت کے بجائے بادشاہی قرار پاتی ہے۔ آپ نے یہ بات بھی نظر انداز کردی کہ علمائے اہل سنت بالاتفاق حضرت علیؓ کو چوتھا خلیفۂ راشد مانتے ہیں۔ اس کو انہوں نے عقائد اہل سنت کی کتابوں میں ثبت کیا ہے اور صدیوں سے منبروں پر اس کا اعلان ہورہا ہے،تاکہ شیعہ اور خوارج سے اہل سنت کے مسلک کا امتیاز واضح ہو۔اس کے برعکس مجھے کسی ایک بھی قابل ذکر عالم کا نام معلوم نہیں ہے جس نے امیر معاویہ کو خلفائے راشدین میں شمار کیا ہو۔ آپ نے اس بات کا بھی کوئی لحاظ نہیں کیا کہ تمام فقہائے اہل سنت اپنی کتابوں میں خلفائے اربعہ کے فیصلوں کے نظائر سے استدلا ل کرتے ہیں،مگر بنی امیہ میں سے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے فیصلوں کے سوا انہوں نے اور کسی کے فیصلوں کا حوالہ فقہی مسائل میں نہیں دیا ہے۔ان امور کو نگاہ میں رکھ کر آپ صحیح نقطۂ نظر سے تاریخ کا مطالعہ کیجیے اور طبقات ابن سعد،طبری،ابن اثیر اور ابن کثیر وغیرہ مآخذ اصلیہ کو پڑھیے۔ اس کے بعد مجھے امید ہے کہ آپ کو مجھ سے کچھ پوچھنے کی ضرورت پیش نہ آئے گی۔

حضرت حسینؓ کے معاملے میں جو ذہنی اُلجھنیں بعض حضرات نے دماغوں میں ڈال دی ہیں، ان سب کو صاف کرنا اس خط میں میرے لیے مشکل ہے۔کبھی فرصت ہوئی تو ایک مفصل مضمون لکھوں گا۔سردست صرف اتنا کہنے پر اکتفا کرتا ہوں کہ اگر ان حضرات کا نقطۂ نظر اختیار کرلیا جائے تو مسلمانوں کی حکومت ایک دفعہ بگڑ جانے کے بعد پھر اس کی اصلاح کے لیے کچھ نہیں کیا جاسکتا۔پھر تو اسے بدلنے کی ہر تدبیر گناہ قرارپائے گی اور بگڑے ہوئے حاکموں کی اطاعت میں سر جھکا دینا صواب بن جائے گا۔یزید کی خلافت بھی بر حق ہو تو آج کے ظالم وجبار لوگ کیا برے ہیں،ان کے خلاف کیوں شور مچایئے۔ ( ترجمان القرآن۔ ستمبر ۹۶۲اء)