رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
متعہ کی بحث:
سوال: جناب نے سورہ مومنون کی تفسیر کرتے ہوئے متعہ کے متعلق حضرت ابن عباسؓ اور دیگر چند صحابہ وتابعین کے اقوال نقل کر کے ارشاد فرمایا کہ یہ سب حضرات اضطراری صورت میں متعہ کے قائل تھے۔ مگر تقریباً اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباسؓ نے حلت متعہ سے رجوع کرلیا تھا۔ میں حیران ہوں کہ حضرت ابن عباسؓ کا رجوع آپ کی نظر سے کیوں مخفی رہا۔ تمام مفسرین نے لکھا ہے کہ تمام صحابہ کرامؓ اور تابعین کا حرمت متعہ پر کامل اتفاق ہے۔ اس میں شک نہیں کہ آپ نے بھی متعہ کو حرام مانا ہے۔ لیکن اضطرار کی ایک فرضی اور خیالی صورت تحریر فرما کر اسے جائز ٹھیرا دیا ہے۔ امید ہے کہ آپ اپنی رائے پر نظر ثانی کریں گے۔یہ اہل سنت کا متفقہ مسئلہ ہے۔
جواب: اس مسئلے میں جو کچھ میں نے لکھا ہے ،اس کا مدعا دراصل یہ بتانا ہے کہ صحابہ وتابعین اور فقہا میں سے جو چند بزرگ جواز متعہ کے قائل ہوئے ہیں،ان کا منشا اس فعل کا مطلق جواز نہ تھا، بلکہ وہ اسے حرام سمجھتے ہوئے بحالت اضطرار جائز رکھتے تھے اور ان میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہ تھا کہ عام حالات میں متعہ کو نکاح کی طرح معمول بنایا جائے۔ اضطرار کی ایک فرضی مثال جو میں نے دی ہے، اس سے محض اضطراری حالات کا ایک تصور دلانا مقصود تھا،تاکہ ایک شخص یہ سمجھ سکے کہ شیعہ حضرات کو اگر قائلین جواز کا مسلک ہی اختیار کرنا ہے تو انہیں کس قسم کی مجبوریوں تک اسے محدو د رکھنا چاہیے۔ اس سے میں تو دراصل ان لوگوں کے خیال کی اصلاح کرنا چاہتا تھا جنہوں نے اضطرار کی شرط اڑا کر متعہ کو مطلقاًحلال ٹھہرا دیا ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ میرے طرز بیان سے آپ کی طرح بعض اصحاب کو یہ غلط فہمی لاحق ہوگئی کہ میں خود حالت اضطرار میں اس کو جائز قرار دے رہا ہوں، حالاں کہ میں اس کی قطعی حرمت کا قائل ہوں اور اب سے کئی سال پہلے رسائل ومسائل حصہ دوم(صفحہ ۲۰-۲۳) میں اس کی تصریح کرچکا ہوں۔ بہرحال آپ مطمئن رہیں کہ نظر ثانی کے موقع پر اس عبارت میں ایسی اصلاح کردی جائے گی کہ اس طرح کی کسی غلط فہمی کا امکان نہ رہے۔
یہ امر ملحوظ خاطر رہے کہ دوسری صدی ہجری کے آغاز تک متعہ کا مسئلہ مختلف فیہ تھا، اور اختلاف صرف اس امر میں تھا کہ آیا یہ قطعی حرام ہے یا اس کی حرمت مردار اور خنزیر کی سی ہے جو اضطرار کی حالت میں جواز سے بدل سکتی ہو۔ اکثریت پہلی بات کی قائل تھی اور ایک چھوٹی سی اقلیت دوسری بات کی۔ بعد میں اہل سنت کے تمام اہل علم اس پر متفق ہوگئے کہ یہ قطعی حرام ہے، اور جواز بحالت اضطرار کا مسلک ردّ کردیا گیا۔ اس کے برعکس شیعہ حضرات نے اس کے مطلق حلال ہونے کا عقیدہ اختیار کیا اور اضطرار کیامعنی، ضرورت تک کی شرط باقی نہ رہنے دی۔اس بحث میں جو بات میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ متعہ کی حرمت تو بہرحال ثابت ہے او رمطلق حلت کا خیال کسی طرح قابل قبول نہیں ہے،البتہ سلف کے ایک گروہ کی رائے میں اس کے جواز کی گنجایش اضطرار کی حالت کے لیے تھی لہٰذا متعہ کے قائلین اگر انہی کی رائے کی پیروی کرنا چاہتے ہیں تو انہیں کم ازکم اس حد سے تو تجاوز نہ کرنا چاہیے۔
آپ نے متعہ کے بارے میں ابن عباسؓ کے رجوع کا جو ذکر کیا ہے،اس کے متعلق گزارش ہے کہ اہل علم کے وہ اقوال میرے سامنے موجود ہیں جن میں ان کے رجوع کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ دعویٰ مختلف فیہ ہے۔اس باب میں جو روایات نقل کی گئی ہیں، ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ابن عباسؓ نے اپنی رائے کی غلطی مان لی تھی بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ صرف مصلحتاً اس کے حق میں فتویٰ دینے سے پرہیز کرنے لگے تھے۔فتح الباری میں علامہ ابن حجر، ابن بطال کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ: روی اھل مکۃ والیمن عن ابن عباس اباحۃ المتعۃ، وروی عنہ الرجوع باسانید ضعیفۃ، واجازۃ المتعۃ عنہ اصح۔ ’’اہل مکہ ویمن نے ابن عباسؓ سے متعہ کی اباحت نقل کی ہے۔اگر چہ اس قول سے ان کے رجوع کی روایات بھی آئی ہیں مگر ان کی سندیں ضعیف ہیں اور زیادہ صحیح روایات یہ ہیں کہ وہ اس کو جائز رکھتے تھے۔‘‘ (جلد ۹،صفحہ ۳۸ا) علامہ ابن قیم اس معاملے میں اپنی تحقیق جس طرح بیان کرتے ہیں،اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مصلحتاً فتویٰ دینے سے ان کے اجتناب ہی کو ان کا رجوع سمجھا گیا ہے۔وہ کہتے ہیں:
فَلَمَّ تَوَسَّعَ فِیْھَا مَنْ تَوَسَّعَ لَمْ یَقِفْ عِنْدَ الضَّرْوْرَۃِ اَمْسَکَ اِبْنُ عَبَّاسٍ عَنِ الْاِفْتَائِ بِحِلِّھَا وَرَجَعَ عَنْہٗ۔
’’جب لوگ اس معاملے میں توسع برتنے لگے اور ضرورت تک انہوں نے اسے محدود نہ رکھا تو ابن عباسؓ اس کی حلت کا فتویٰ دینے سے رک گئے اور اس سے رجوع کرلیا۔‘‘
(زاد المعاد،جلد دوم،صفحہ ۳۰)… (ترجمان القرآن۔ربیع الاوّل ۳۷۵اھ، نومبر۹۵۵اء)