مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مرتد کی سزا کا مسئلہ:

مرتد کے بارے میں اسلام کا قانون بظاہر اس آیت کے خلاف محسوس ہوتا ہے لیکن درحقیقت وہ اس کے خلاف نہیں ہے۔ آیت کا تعلق ان لوگوں سے ہے جو اسلام میں داخل نہ ہوئے ہوں۔انھی کے متعلق یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ انہیں داخل ہونے پر مجبور نہ کیا جائے گا۔ اس کے برعکس مرتد کے بارے میں اسلامی قانون کا تعلق ان لوگوں سے ہے جو اسلام میں داخل ہوکر پھر اس سے نکلنا چاہیں۔ ان لوگوں پر جبر کے استعمال کی اصل غرض یہ نہیں ہے کہ ان کو دین میں رکھا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی کو، جو ریاست کی بنیاد ہے، انتشار (disintegration) سے بچایا جائے۔ اسلامی قانون جس طرح ایک مسلمان کو اس کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اسلامی ریاست کے اندر رہتے ہوئے علانیہ اسلام کو چھوڑ دے،اسی طرح وہ ایک غیر مسلم ذمی کو بھی اس کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ ریاست کے حدود میں رہتے ہوئے اس کی وفا داری سے علانیہ انکار کردے۔ اور جہاں تک مجھے معلوم ہے کوئی ریاست بھی اپنے اجزائے ترکیبی کے انتشار کو گواراکرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔اس معاملے میں سب ہی’’داخل نہ ہونے والے‘‘اور’’ داخل ہوکر نکل جانے والے‘‘ کے درمیان فرق کرتے ہیں اور دونوں کے ساتھ ایک سا معاملہ کوئی بھی نہیں کرتا۔ کیا امریکی شہریت یا برطانوی قومیت اختیار نہ کرنے والے،اور اختیار کرکے چھوڑ دینے والے کی پوزیشن ایک ہے؟ کیا امریکی وفاق میں شامل نہ ہونے والی ریاست اور شامل ہوکر نکل جانے والی ریاست کے ساتھ آپ ایک ہی معاملہ اختیار کریں گے؟