مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

رفع مسیح علیہ السلام کی کیفیت:

رفع مسیح ؑ کے بارے میں جو کچھ میں نے کہا ہے،وہ صرف یہ ہے کہ قرآن مجید کے الفاظ سیّدنا مسیح ؑکے جسد اًآسمان پر اٹھا لیے جانے کی تصریح نہیں کرتے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اس مفہوم کے متحمل بھی نہیں ہیں،بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ محض ان الفاظ کی بنا پر قطعیت کے ساتھ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ قرآن مجید رفع الیٰ السماء کی تصریح کررہا ہے۔لہٰذا قرآن کی تفسیر میں ہم اتنی ہی بات کہنے پر اکتفا کریں گے جو اﷲ تعالیٰ نے فرمائی ہے۔یعنی اﷲ تعالیٰ نے ان کو ’’اٹھا لیا‘‘۔ اس کے مختلف معانی میں سے کسی ایک کی تعیین قرآن سے باہر جاکر تو کی جاسکتی ہے،مگر بہرحال اسے قرآن کی تصریح نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اس پر اگر آپ کو ابہام کی شکایت ہے تو میں عرض کروں گا کہ اس قصے کے بعض دوسرے اجزا بھی مبہم طریقے سے ہی بیان کیے گئے ہیں۔ مثلاًایک یہی امر کہ حضرت عیسیٰؑ جب دشمنوں کی قید میں تھے اور انہوں نے آپ کو صلیب دینے کا فیصلہ کیا تو آخر وہ کیا صورت پیش آئی کہ وہ آپ کی جگہ کسی اور کو صلیب دے بیٹھے اور اس شبہ میں رہے کہ ہم نے عیسیٰ بن مریمؑ کو صلیب دی ہے۔نہ صرف وہ بلکہ خود پیروان عیسیٰؑ بھی اسی شبے میں پڑ گئے۔ کیا شُبِہَ لَھُمْ کی کوئی تفصیلی کیفیت قرآن کو ان میں کہیں ملتی ہے؟ اب اگر ہم کسی بیرونی ذریعے سے اس کی کوئی تفصیل کریں تو ایسا کرسکتے ہیں۔مگر یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ یہ تفصیل خود قرآن بیان کررہا ہے۔