رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
قادیانیوں کا معاملہ:
ایران میں بہائیوں کے ساتھ جو معاملہ ہوا،اس کے متعلق میرے پاس پوری معلومات نہیں ہیں، اس لیے میں اس پر کوئی اظہاررائے نہیں کرسکتا۔ لیکن پاکستان میں قادیانیوں کے معاملے پر آپ کا سوال سخت غلط فہمی پر مبنی معلوم ہوتا ہے۔یہاں کسی نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ قادیانیوں کو ملک سے نکال دیا جائے،یا مٹا دیا جائے، یا زبردستی قادیانیت چھوڑنے پر مجبور کیا جائے، یا حقوق شہریت سے محروم کردیا جائے۔ مطالبہ صرف یہ تھا اور ہے کہ جب وہ بنیادی عقیدے اور مذہبی اعمال اور معاشرتی نظام میں مسلمانوں سے خود الگ ہوچکے ہیں تو اس علیحدگی کو آئینی طور پر تسلیم کرلیا جائے اور انہیں بغیر کسی معقول وجہ کے مسلم سوسائٹی کا ایک حصہ نہ قرار دیا جائے۔ آپ خود غور کیجیے کہ یہ مطالبہ آخر کس منطق کی رو سے قرآن مجید کی زیر بحث آیت کے خلاف پڑتا ہے؟کیا دین میں جبر نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس گروہ کو تمام مسلمان دین سے خارج سمجھتے ہیں،اور جو خود بھی تمام مسلمانوں کو کافر قرار دے کر ان سے عملاًالگ ہوچکا ہے،اسے دین میں داخل تسلیم کرنے پر مسلمانوں کو مجبور کرنا چاہیے؟رہے وہ فسادات جو مارچ۹۵۳اء میں ہوئے تھے تو یہ بات بالکل خلاف واقعہ ہے کہ وہ قادیانیوں کے خلاف تھے۔ ان کو قادیانیوں کے خلاف ہنگاموں(anti qadiani disturbance) کا نام بالکل غلط دیا گیا ہے، جس سے ناواقف حال لوگوں کو خواہ مخوہ یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ یہاں کے عام مسلمان شاید قادیانیوں کو قتل وغارت کرنے پر تل گئے ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ فسادات حکومت اور عوام کے درمیان اس کش مکش کی وجہ سے برپا ہوئے تھے کہ ایک طرف عوام قادیانیوں کے بارے میں مذکورۂ بالا مطالبہ تسلیم کرانے کے لیے حکومت پر دبائو ڈالنا چاہتے تھے اور دوسری طرف حکومت ان کے اس ایجی ٹیشن کو طاقت سے دبا دینا چاہتی تھی۔پس تصادم دراصل حکومت اور عوام کے درمیان ہوا تھا نہ کہ قادیانیوں اور عوام کے درمیان۔ قادیانیوں کی جان ومال پر عوام نے صرف اس وقت حملہ کیا جب انہیں یقین ہوگیا (اور اس یقین کے لیے اچھے خاصے وزنی وجوہ تھے) کہ فسادات کے دوران میں پولیس اور فوج کی وردیاں پہن کر بعض قادیانی مسلمانو ں کو قتل کرتے پھر رہے تھے۔
(ملاحظہ ہو تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ،صفحہ ۱۵۶)