رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
جنت کا محل وقوع:
آپ کے اس اعتراض کا جواب ترجمان القرآن کے اسی پرچے میں موجود ہے جس کا آپ نے حوالہ دیا ہے۔اگر آپ نے ربیع الاوّل ۷۵ھ کا ترجمان خود ملاحظہ فرمایا تھا جیسا کہ آپ کے سوال سے معلوم ہوتا ہے، تو ضرور وہ جواب آپ کی نظر سے گزرا ہو گا۔ اس کے بعدیہ اعتراض دوبارہ کرنے کی کیا ضرورت باقی رہ گئی؟
اس سلسلے میں جو سوالات آپ نے کیے ہیں،اگرچہ ان سب کے جوابات ممکن ہیں،لیکن میں اس بحث کو غیر ضروری سمجھتا ہوں ،اس لیے قصداً انہیں نظر انداز کرتا ہوں [ جن حضرات کو اِس بحث کی تفصیل سے دل چسپی ہو وہ براہ کرم خود ہی تفسیر روح المعانی (جلد ا،صفحہ ۴ا۲) اور تفسیر المنار (جلد ا، صفحہ ۲۷۷) میں اِس کو نکا ل کر دیکھ لیں۔ وہاں یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ اِ س مسئلے میں مفسرین کے کتنے اقوال ہیں اور یہ بھی کہ ہر قول کی دلیل کیا ہے]۔آدم علیہ السلام جس جنت میں رکھے گئے تھے، اس کی جائے وقوع کا مسئلہ اسلام میں کوئی بنیادی تو درکنار، فروعی مسئلہ بھی نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص محض قرآن کو سمجھنے کی کوشش میں اس کے متعلق کسی خیال کا اظہار کرے تو زیادہ سے زیادہ اس سے اتنا ہی تعرض کیا جاسکتا ہے کہ اس کی رائے کو آپ پسند کریں تو قبول کرلیں، نہ پسند کریں تو رد کردیں۔مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں ہر مسئلہ پہلے ردوکد اور بحث و مناظرہ کا موضوع بنتا ہے اور پھر یہی ردوکد اس کو ایک اعتقادی مسئلہ بنا کر رکھ دیتی ہے جس پر دو فریق ایک دوسرے کے مقابلے میں صف آرا ہوجاتے ہیں،اور جب تک فریقین کے نکاح نہ ٹوٹ جائیں،معاملہ ختم نہیں ہوتا۔ اس مصیبت سے نجات پانے کی صورت اس کے سوا کوئی نہیں ہے کہ پہلے ہی مرحلے پر سوال وجواب کا سلسلہ توڑ دیا جائے۔ آپ کا اطمینان جس بات پر نہیں ہوتا، اسے آپ قطعاً نہ مانیے، مگر بے فائدہ بحث کی آخر کیا ضرورت ہے۔