رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
چند احادیث کے اشکالات کی توضیح:
سوال: ایک عرصے سے دو تین چیزیں میرے دماغ پر بوجھ بن رہی ہیں۔اس لیے مجھے آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔
(۱) بخاری شریف کی تیسری حدیث میں نزول وحی اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیات کا ذکر ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول وحی کی ابتدا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اضطراب طاری ہوگیا تھا۔ دریافت طلب یہ امر ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام گھبرائے کیوں تھے؟ یہ بات کہ یہ رسالت کی ذمہ داریوں کے احساس کا نتیجہ تھا، دل کو مطمئن نہیں کرتی، ورنہ‘ وَرَقہ کے پاس لے جانے کے کوئی معنی نہیں بنتے۔ بعض لوگوں کا یہ اشتباہ کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اس وقت اپنی رسالت کا کماحقہ وضوح نہیں ہوا تھا،کچھ بامعنی بات نہیں معلوم ہوتی۔ اگر یہ صحیح ہے تو جن کے پاس آپ یہ معاملہ لے کر گئے تھے کیا وہ ان کیفیات کے پس منظر کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ جانتے تھے۔ ورقہ کے یہ الفاظ ’’ھٰذا النَّامُوسُ الَّذِیْ اَنْزَلَ اللّٰہ عَلٰی مُوْسٰی ‘‘ اس امر کے مؤید ہیں کہ واقعی حضورصلی اللہ علیہ وسلم پراپنی رسالت کا کماحقہ وضوح نہیں ہوا تھا۔ اس کے بعد صورتِ حال مزید مخدوش ہوجاتی ہے۔ صحیح صورتِ حال کیا ہے؟
(۲) باب الشروط فی الجہاد والمصالحۃ، حدیث نمبر ۱۲۶۶ میں صحابہ کی ارادت مندی اور عقیدت کاذکر کرتے ہوئے عروہ ذکر کرتے ہیں: فَوَاللّٰہِ مَا تَنْخَمُ رَسُولُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نَخَامَۃً اِلاً وَقَعَتْ فِیْ کَفِ رَجُلٍ مِنْھُمْ فَدَلَکَ بِھا وَجْھَہٗ وَجَلَدَہ۔ نخامہ کھنکارکو بھی کہتے ہیں اور جو غلیظ مواد ناک سے نکلتا ہے اس کو بھی۔ ان میں سے جو بھی ہو، بہرحال قابل غور ہے۔ کیا حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے نخامہ کی یہ کیفیت نہیں ہوتی تھی جو عام طور پر ہوتی ہے؟یافرط عقیدت کی وجہ سے صحابہ کو اسے چہرے اور جسم پر مل لینے میں اجنبیت نہیں محسوس ہوتی تھی؟ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی نفاست پسندی اس میں حائل کیوں نہ ہوئی؟
(۳) باب استعمال فضل وضوء الناس حدیث نمبر ۵۵ا میں آتا ہے: دعا النبی صلی اللہ علیہ وسلم بقدح فیہ مائ فغسل یدیہ ووجھہ فیہ ومَجَّ فیہ ثم قال لھما اِشْرَ بَاوَاَفْرَ غا عَلٰی وُجُو ھِکُمَا وَنَحُوْرِ کُمْا۔ پانی کے برتن میں ہاتھ دھونا،پھر اس میں کلی کرنا، اور ان سب کے بعد لوگوں سے کہنا کہ اسے پیو اور اس سے منہ دھوئو۔یہ سب کچھ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نفاست پسندی کے عام کلیہ کے مخالف معلوم ہوتا ہے ۔پھر صحابہ کا اس سلسلے میں بے خود ہوکر اس کو استعمال کرنا اور بھی عجیب معلوم ہوتا ہے ۔اس کی وضاحت مطلوب ہے۔
(۴) اقبال مرحوم کو پاکستان میں قبول عام حاصل ہے، بالخصوص جدید طبقے میں، اور اسی طبقے میں پرویزی حضرات بھی گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ اس لیے یہ لوگ مشہور کررہے ہیں کہ اقبال بھی منکر حدیث تھا۔ صحیح صورتِ حال کیا ہے؟ انگریزی خطبات میں مرحوم نے جن مآخذ کا ذکر کیا ہے، ان میں حدیث کا بھی ذکر کیا ہے۔ لیکن اس کی تفصیل اور توضیح میں جن نکات کا مرحوم نے ذکر کیا ہے، ان سے مرحوم کا اپنا نظریہ منکرین حدیث کی حوصلہ افزائی کا موجب سا بن گیا ہے۔
جواب: آپ نے جو سوالات کیے ہیں،ان کامختصر جواب حاضر خدمت ہے۔