مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

علم غیب، حاضر وناظر اور سجود لغیر اﷲ:

سوال: تفہیم القرآن زیر مطالعہ ہے۔شرک کے مسئلے پر ذہن الجھ گیا ہے۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔ تفہیم القرآن کے بغور مطالعہ سے یہ امر ذہن نشین ہوجاتا ہے کہ خداوندتعالیٰ کی مخصوص صفات میں عالم الغیب ہونا اور سمیع وبصیر ہونا(جس کے تحت ہمار ے مروّجہ الفاظ حاضر وناظر بھی آجاتے ہیں) بھی شامل ہیں۔ خدا کے سوا کسی کو بھی ان صفات سے متصف سمجھنا شرک ہے۔ اور حقوق میں سجدہ ورکوع وغیرہ بھی ذات باری سے مختص ہیں۔شرک کو خداوند تعالیٰ نے جرم عظیم اور ناقابل معافی گناہ قرار دیا ہے۔ظاہر ہے کہ ایسے جرم کا وہ خود کسی کو حکم نہیں دے سکتا۔ مگر فرشتوں کو آدمؑ کے لیے سجدہ کا حکم دیا۔اسی طرح کوئی نبی نہ تو شرک کرتا ہے اور نہ کرواتا ہے۔مگر حضرت یوسف ؑکے سامنے ان کے بھائیوں اور والدین نے سجدہ کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سجدہ غیر اﷲ کے لیے شرک ہے تو مندرجہ بالا واقعات کی کیا توجیہ ہوگی؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ علم غیب اگر خداوند تعالیٰ کی مخصوص صفت ہے تو یہ کسی بھی مخلوق میں نہ ہونی چاہیے۔لیکن قرآن وحدیث اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ انبیا ورسل کو علم غیب ہوتا ہے۔ پھر کسی مخلوق میں یا کسی فرد میں اس صفت کو ہم تسلیم کریں تو مرتکب شرک کیوں ہوتے ہیں؟ اور اگر کوئی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اﷲ تعالیٰ نے قیامت تک کا علم دے رکھا تھا تو آخر اسے مشرک کیوں کہا جائے؟جن لوگوں کے خلاف اسی بِنا پر شرک کے ارتکاب کا فتویٰ لگایا جاتا ہے،وہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت علم غیب کو ذاتی یا نفسی نہیں کہتے بلکہ خدا کی دین قرار دیتے ہیں۔ ان کا اور دوسرے علما کا اگر اختلاف ہے تو صرف کم یا زیادہ پر ہے۔جب مسئلہ کم وبیش کا ہی ہے تو پھر فتویٰ شرک کیوں؟

حاضر وناظر کی صفت بھی خدا وند تعالیٰ سے مختص قرار جاتی ہے۔لیکن اﷲ تعالیٰ نے ملک الموت کو یہ طاقت بخشی ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں انسانوں، حیوانوں، پرندوں ،چرندوں اور جنوں کی روحوں کو قبض کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ حاضر وناظر ہے، اور حاضر وناظر ہونا خدا کی مخصوص صفت ہے۔یہاں اگر یہ کہا جائے کہ اﷲ تعالیٰ نے ایک فرض کی انجام دہی کے لیے اپنی خاص صفت فرشتے میں ودیعت کررکھی ہے تو جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں صفت حاضر وناظر کا ہونا اور خدا کی طرف سے عطا کیا جانا مانتے ہیں، آخر انہیں مشرک کیوں کہا جاتا ہے؟

جواب: آپ نے شرک کے مسئلے میں اپنی جو اُلجھنیں بیان فرمائی ہیں،وہ تفہیم القرآن کے مسلسل مطالعے سے بآسانی رفع ہوسکتی ہیں۔ میرے لیے ایک خط میں ان کو تفصیلاً رفع کرنا مشکل ہے۔تاہم چوں کہ’’شرک‘‘ کا معاملہ بڑا ہی نازک اور خطرناک ہے، اور میں نہیں چاہتا کہ آپ اس الجھن میں زیادہ دیر تک مبتلا رہیں،اس لیے اختصار کے ساتھ چند الفاظ میں آپ کو مطمئن کرنے کی کوشش کروں گا۔

سب سے پہلے آپ یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ سجدہ بجائے خود شرک نہیں ہے بلکہ شرک کی علامت ہے۔اصل میں شرک تو اﷲ کے ساتھ کسی کو شریک فی الذات یا فی الصفات یا فی الحقوق ٹھہرانا ہے۔سجدہ اگر اس طرح کے کسی عقیدے کے ساتھ ہو تو شرک ہے،ورنہ اس فعل سے چوں کہ مشرکین کے ساتھ عملاً مشابہت ہوتی ہے،اس لیے اسے بجائے خود شرک ہونے کی بِنا پر نہیں بلکہ اس مشابہت کی بِنا پر ممنوع ٹھہرایا گیا ہے۔ تخلیق آدمؑ کے وقت اﷲ تعالیٰ نے فرشتوں کو خود حکم دیا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو۔اس لیے فرشتوں نے جو کچھ کیا،وہ اﷲ عزوجل کے حکم صریح کی تعمیل میں تھا۔ بطور خود وہ آدمؑ کو قابل پرستش یا قابل تعظیم سمجھ کر نہیں جھک گئے تھے۔ اس لیے ظاہر ہے کہ اس میں شرک کا کوئی شائبہ نہیں ہوسکتا۔

حضرت یوسف ؑ کے سامنے والدین اور بھائیوں نے جو سجدہ کیا،وہ اس رؤیائے صادقہ کی بِنا پر تھا جو قرآن کی رو سے اﷲ تعالیٰ نے خود دکھایا تھا،جسے حضرت یعقوبؑ نے الٰہی اشارہ قرار دیا تھا(سورۂ یوسف آیات ۴ تا ۶)، اور جس کو حضرت یوسف ؑ نے بھی آخر کار اسی خواب کا مصداق ٹھہرایا(سورۂ یوسف آیت۱۰۰)۔ اس لیے یہاں بھی جو کچھ ہوا،اﷲ کے حکم سے ہوا۔اور ظاہر ہے کہ جو کام اﷲ کے حکم کی تعمیل میں کیا جائے، وہ شرک نہیں ہوسکتا۔

اب اس شخص کے معاملے کو لیجیے جو اﷲ تعالیٰ کے کسی فرمان کے بغیر کسی بندے کو معظم ومقدس سمجھ کر بطور خود اس کے آگے سجدہ بجا لائے۔ کیا کسی دلیل سے اس فعل کو بھی غیر مشرکانہ کہا جاسکتاہے؟کیا یہ استدلال صحیح ہوسکتا ہے کہ جب اﷲ نے پہلے دونوں معاملوں میں سجود لغیر اﷲ کو جائز رکھا ہے تو یہ فعل مطلقاً جائز ہے؟ یا یہ کہ ہم خدا کے حکم کے بغیر خود جسے چاہیں،تعظیماً سجدہ کرسکتے ہیں؟ سورۂ کہف میں اﷲ تعالیٰ اپنے ایک خاص بندے کے متعلق ہمیں بتاتا ہے کہ اس نے فلاں فلاں مصالح کی بِنا پر حکم خداوندی سے کچھ مساکین کی کشتی عیب دار کر دی، اور ایک لڑکے کو قتل کردیا۔کیا اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ ہم بھی مصلحت دیکھ کر جس کے مال کو چاہیںنقصان پہنچا دینے اور جسے چاہیں قتل کردینے کے مجاز ہیں؟جب اﷲ او راس کے رسولؐ نے نصوص شرعیہ کے ذریعے سے غیر اﷲ کے لیے سجدے کو حرام کردیا ہے،اور دوسروں کی جان ومال میں تصرف کے لیے حدود مقرر کردیے ہیں، تو کسی شخص کو کیا حق پہنچتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے بعض خصوصی۱ فعال کو نظیر قرار دے کر اور ان پر قیاس کرکے ان ممنوعات کو اپنے لیے مباح کرلے؟

علم غیب کے مسئلے میں یہ بات سب مانتے ہیں کہ کلی وذاتی علم غیب اﷲ کے لیے مخصوص ہے، اور اس بات سے کوئی بھی انکار نہیں کرتا کہ اپنے علم غیب کا جو حصہ اور جتنا حصہ اﷲ تعالیٰ جس کو چاہے،دے سکتا ہے۔یہ جزوی اور عطائی علم غیب اپنی نوعیت میں اس کلی وذاتی علم غیب سے مختلف چیز ہے جو اﷲ تعالیٰ کی مخصوص صفت ہے۔ اور کسی بندے کے حق میں اس دوسری نوعیت کے علم غیب کا عقیدہ رکھنا کسی کے نزدیک بھی شرک نہیں ہے۔ دراصل خرابی جس مقام سے شروع ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ لوگ عقیدت میں غلو کرکے دو ایسی باتیں ایجاد کرلیتے ہیں جو اصل اسلامی عقیدے سے متصادم ہوتی ہیں۔

اوّل یہ کہ وہ اس عطائی علم غیب کو جزوی نہیں بلکہ کلی بنادیتے ہیں اور کسی بندے کے حق میں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کو اﷲ تعالیٰ نے اسی طرح جمیع ما کان وما یکون کا عالم بنا دیا تھا جیسا کہ اﷲ تعالیٰ خود ہے۔بظاہر یہاں جزوی وکلی کا فرق دور ہوجانے کے باوجود ذاتی اور عطائی کا فرق نظر آتا ہے جس کی بِنا پر یہ کہا جاسکتاہے کہ ایسا عقیدہ رکھنا شرک نہیں ہے۔لیکن تھوڑا سا بھی آپ غور کریں تو آپ کو محسوس ہوجائے گا کہ اس طرح کا عقیدہ رکھنے میںکتنا عظیم خطرہ مضمر ہے۔ بالفرض اگر یہ جائز ہو کہ اﷲ اپنی عطا سے کسی بندے کو اپنے ہی جیسا عالم الغیب والشھادۃ بنادے، تو آخریہ کیوں نہ جائز ہو کہ وہ اسے اپنی ہی طرح قادر مطلق اور حی وقیوم اور خالق وربّ بھی بنادے؟ اس کے بعد خدا کی عطا سے کسی بندے کے خدا بن جانے میں آخر کیا رکاوٹ باقی رہ جاتی ہے؟ پھر کیا دو مساوی صفات واختیارات رکھنے والے خدائوں کے درمیان صرف ذاتی اور عطائی کا فرق شرک سے بچانے کے لیے کافی ہوگا؟

دوسری زیادتی غالی حضرات یہ کرتے ہیں کہ اﷲ کے عطیے کو خود بانٹنے کے مختار بن جاتے ہیں۔ یہ بتانا کہ عطا فرمانے والے نے کسی کو کیا عطا کیا ہے اور کیا نہیں کیا ہے،درحقیقت خود عطا فرمانے والے ہی کا کام ہے۔ دوسرے کسی شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ معطی کے اپنے بیان کے بغیر وہ بطور خود یہ فیصلہ کردے کہ دینے والے نے کیا کچھ کسی کو عطا فرمایا ہے۔ اب اگر اﷲ تعالیٰ نے اپنی کتاب پاک میں کہیں یہ فرمایا ہو کہ میں نے اپنے فلاں بندے کو جمیع ما کان وما یکون کا عالم بنادیا ہے، یا اﷲ کے رسولؐ نے کسی صحیح حدیث میں اس کی صراحت کی ہو، تو اس کا حوالہ دے دیا جائے،ساری بحث ختم ہوجاتی ہے ۔لیکن اگر نہ کوئی آیت اس کی تصریح کرتی ہے نہ کوئی حدیث صحیح،تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ اﷲ کے اس عطیے کی خبر لوگوں تک آخر کس ذریعے سے پہنچی ہے؟

اس مسئلے میں یہ بات خوب سمجھ لیجیے کہ عقیدے اور خصوصاً عقیدۂ توحیدکا معاملہ بڑا ہی نازک ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس پر کفر وایمان اور فلاح وخسران کا مدار ہے۔ اس معاملے میں یہ طرز عمل صحیح نہیں ہے کہ مختلف احتمالات رکھنے والی آیات اور احادیث میں سے ایک مطلب نچوڑ کر کوئی عقید ہ بنا لیا جائے اور اسے داخل ایمانیات کردیا جائے۔ عقیدہ تو صاف اور صریح محکمات سے ماخذ ہونا چاہیے، جن میں اﷲ اور اس کے رسولؐ نے ایک بات ماننے کی دعوت دی ہو اور یہ ثابت ہو کہ نبیؐ اس کی تبلیغ فرماتے تھے، اور صحابہ کرامؓ وتابعین وتبع تابعین اور ائمۂ مجتہدین اس پر اعتقادرکھتے تھے۔ کیا کوئی شخص بتا سکتا ہے کہ نبیؐ کے عالم الغیب والشھادۃ ہونے یا جمیع ما کان وما یکون کے عالم ہونے کا عقیدہ یہ نوعیت رکھتا ہے؟اگر یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا تو آخر آپ اپنے آپ کو اس خطرے میں کیوں ڈالیں؟

حاضر وناظر کے معاملے میں آپ نے ملک الموت کی جو مثال پیش کی ہے ،اس میںکئی غلطیاں ہیں۔ قرآن میں یہ کہیں نہیں کہا گیا ہے، اور نہ کسی حدیث صحیح میں یہ آیا ہے کہ ساری کائنات کا ملک الموت ایک ہی ہے۔یہ بات بھی قرآن سے نہیں معلوم ہوتی کہ صرف ایک فرشتہ قبض ارواح کا کام کرتا ہے۔بلکہ متعد دمقامات پر روح قبض کرنے والے فرشتوں کا ذکر بصیغۂ جمع ہے۔ مثلاً:

اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَفّٰىھُمُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِہِمْ قَالُوْا فِيْمَ كُنْتُمْ۝۰ۭ النسائ97:4

’’جن لوگوں کو ملائکہ نے اس حال میں وفات دی کہ وہ اپنے نفس پر ظلم کرنے والے تھے،ان سے ملائکہ نے پوچھا کہ تم یہ کس حال میں تھے۔‘‘

فَكَيْفَ اِذَا تَوَفَّتْہُمُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْہَہُمْ وَاَدْبَارَہُمْo محمد47:27

’’پھر کیا بنے گی اس وقت جب ملائکہ ان کو وفات دیں گے ان کے چہروں اور پیٹھوں کو پیٹتے ہوئے۔‘‘

الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىہُمُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ طَيِّبِيْنَ۝۰ۙ يَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَيْكُمُ النحل16:32

’’جن لوگوں کی روحیں ملائکہ اس حال میں قبض کریں گے کہ وہ پاکیزہ لوگ تھے ،ان سے وہ کہیں گے کہ سلامتی ہو تم پر۔‘‘

حَتّٰٓي اِذَا جَاۗءَتْہُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَہُمْ۝۰ۙ قَالُوْٓا اَيْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۭ الاعراف7:37

’’یہاں تک کہ جب ہمارے فرشتے ان کے پاس روحیں قبض کرنے کے لیے آئیں گے تو ان سے پوچھیں گے کہ کہاں ہیں وہ جن کو تم ا ﷲ کو چھوڑ کر پکارتے تھے۔‘‘

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بڑے ملک الموت کے تحت بہت سے دوسرے مددگار فرشتے بھی ہیں جو روحیں قبض کرنے پر مامور ہیں۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح ابلیس ایک بڑا شیطان ہے اور اس کی ماتحتی میں بے شمار شیاطین ہیں جو دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ہر جگہ نہ ابلیس جاتا ہے نہ ملک الموت۔

پھر خود اس زمین کی مخلوقات کے بارے میں بھی کہیں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ تمام خشکی وتری اور ہوا کے جانداروں کا ملک الموت وہی ایک ہے جو انسانوں کی جان لینے کے لیے مقرر ہے ۔قرآن میں تو صرف یہ فرمایا گیا ہے کہ یَتَوَ فّٰکُمْ مَّلَکُ الْمَوْت (تمھاری روحیں ملک الموت قبض کرتا ہے)۔ اس سے جو بات نکلتی ہے،وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ اس زمین پر انسانوں کی روحیں قبض کرنے پر ایک فرشتہ مامور ہے۔ اگر بالفرض یہی ایک فرشتہ روئے زمین پر تمام مرنے والوں کی روحیں قبض کرتا ہے، تب بھی یہ بہت ہی محدود زمانے کی ایک طاقت ہے جو اﷲ نے اپنے اس فرشتے کو عطا فرمائی ہے۔اس کو آخر اﷲ تعالیٰ کی اس لامحدود صفت سے کیا نسبت ہے کہ وہ ساری کائنات میں حاضر وناظر ہے؟ پھر مزید سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اور آپ کیا اب قیاسات پر اپنے عقائد کی عمارت کھڑی کریں گے؟ ملک الموت کے متعلق تو اﷲ تعالیٰ نے خود بتایا ہے کہ ہم نے اسے انسانی روحیں قبض کرنے پر مامور کیا ہے۔ اس پر زیادہ سے زیادہ جو تصور قائم کیا جاسکتا ہے،وہ بس اسی قدر ہے کہ یہ فرشتہ بیک وقت روئے زمین کے ہر حصے میں لاکھوں انسانوں کی روحیں قبض کرلیتا ہے۔مگر کیا اس پر یہ قیاس بھی کیا جاسکتا ہے کہ نبیؐ ہر جگہ موجود ہیں اور سب کچھ دیکھ رہے ہیں؟ ان دونوں باتوں میں آخر کیا مناسبت ہے کہ ایک کو دوسری پر قیاس کرلیا جائے؟اور پھر قیاس بھی ایسا کہ وہ عقیدہ قرار پائے اور ایمانیات میں داخل ہو اور لوگوں کو اس پر ایمان لانے کی دعوت دی جائے اور نہ ماننے والوں کے ایمان میں نقص ثابت کیا جانے لگے؟ یہ عقیدہ اگر واقعی اسلامی عقائد میں شامل ہوتا تو اﷲ تعالیٰ اپنی کتاب میں اس کی تصریح فرماتا کہ میرے رسول کو حاضر وناظر تسلیم کرو۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود یہ دعویٰ فرماتے اور اسے ماننے کی دعوت دیتے کہ میں ہر جگہ موجود ہوں اور قیامت تک حاضر وناظر رہوں گا۔ صحابہ کرم اور سلف صالحین میں یہ عقیدہ عام طور پر شائع وذائع ہوتا اور عقائد اسلام کی کتابوں میں اسے ثبت کیا جاتا۔

آپ نے بعض حضرات کو مشرک کہنے یا نہ کہنے کا جو ذکر فرمایا ہے ،اس کے بارے میں میری رائے شاید آپ کو معلوم نہیں ہے۔میں ان مسائل میں ان کے خیالات کو تاویل کی غلطی سمجھتا ہوں،اور اسے غلط کہنے میں تامل نہیں کرتا۔ مگر مجھے اس بات سے اتفاق نہیں ہے کہ انہیں مشرک کہا جائے اور مشرکین عرب سے تشبیہ دی جائے۔میں ان کے بارے میں یہ گمان نہیں رکھتا کہ وہ شر ک کو شرک جانتے ہوئے اس کے قائل ہوسکتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ توحید ہی کو اصل دین مانتے ہیں اور اسی پر اعتقاد رکھتے ہیں۔ اس لیے انہیں مشرک کہنا زیادتی ہے۔ البتہ انہوں نے بعض آیات اور احادیث کی تاویل کرنے میں سخت غلطی کی ہے اور میں یہی امید رکھتا ہوں کہ اگر ضد دلانے والی باتیں نہ کی جائیں بلکہ معقول طریقے سے دلیل کے ساتھ سمجھایا جائے تو وہ جان بوجھ کر کسی گمراہی پر اصرار نہ کریں گے۔(ترجمان القرآن۔مارچ ۹۶۲اء)