مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

(۳) اصحاب کہف کی مدت نوم:

اصحاب کہف کے زمانۂ نوم کی مدت کے بارے میں میرے بیان پر جو اعتراض آپ نے کیا ہے، اس کا جواب آپ کو تفہیم القرآن ہی میں مل جاتااگر آپ پورے قصے کی تفسیر اس میں دیکھ لیتے۔ یہ تو آپ نے بڑی سخت بات کہہ دی کہ قرآن صریحاً مدت کی تعیین کررہا ہے اور پھر بھی تم نے تاریخ پریقین کیا اور قرآن کی تصریح رد کردی۔کیا آپ ایسے شخص کو مسلمان مان سکتے ہیں جو قرآن کو چھوڑ کر تاریخ پر ایمان لائے؟میں تو ایک لمحے کے لیے بھی اسے کافر قرار دینے میں تامل نہ کروں گا۔ اب ذرا آپ سورۂ کہف کی اس آیت پر غور فرمایئے کہ وَلَبِثُوْا فِيْ كَہْفِہِمْ ثَلٰثَ مِائَۃٍ سِنِيْنَ وَازْدَادُوْا تِسْعًاo قُلِ اللہُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا۝۰ۚ الکہف 18:26-25 کیا یہ واقعی اﷲ تعالیٰ کی طرف سے مدت نوم کی تعیین ہے؟اگر ایسا ہوتا تو قُلِ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا کا فقرہ بے معنی ہوجاتا۔