رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
نبی کریمؐ کے 'امی' ہونے کا صحیح مفہوم:
سوال: ’’ ترجمان القرآن‘‘ ماہ اکتوبر ۶۰ء میں سورۂ عنکبوت کے تفسیری حاشیے نمبر ا۹ کے مطالعے کے دوران میں چند باتیں ذہن میں اُبھریں جو حاضر خدمت ہیں۔اس سیاق وسباق میں لفظ’’اُمی‘‘کا مطلب جو کچھ میں سمجھا ہوں وہ یہ کہ نبیؐ بعثت سے پہلے اُمی اور ناخواندہ تھے۔لیکن بعد میں آپ کے خواندہ ہوجانے اور لکھ پڑھ سکنے کی نفی نہیں۔ یہ البتہ یقینا ممکن ہے کہ نبوت کے بعد آپ کے خواندہ بن جانے میں انسانی کوشش یا اکتساب کو دخل نہ ہو بلکہ معجزانہ طور پر اﷲ تعالیٰ نے خود معلم بن کر آپ کو پڑھنا لکھنا سکھادیا ہو۔ میری اس تشریح کے بارے میں آپ کا خیال کیا ہے؟میرے خیال میں تو الفاظ میں بڑی گنجایش ہے جس سے میرے مطلب کی تائید ہوتی ہے۔
جواب: میں نے جو بات صحیح سمجھی تھی وہ اپنے پورے دلائل کے ساتھ تفہیم القرآن کی اس بحث میں لکھ دی ہے جس کا آپ نے حوالہ دیا ہے۔اگر میری اس بحث سے آپ کا اطمینان نہیں ہوا تو جو کچھ آپ صحیح سمجھتے ہیں،وہی سمجھتے رہیں۔میں صرف اتنا عرض کروں گا کہ قرآن مجید کے الفاظ ’’اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ‘‘ پر اگر مناسب سمجھیں تو اور تھوڑا سا غور کرلیجیے۔ اﷲ تعالیٰ اس فقرے میں اپنے نبی کو مخاطب کرکے فرما رہا ہے کہ اگر ایسا ہوتا(یعنی تم پڑھے لکھے ہوتے) تو باطل پرستوں کے لیے تمہاری نبوت میں شک کرنے کی کوئی گنجایش ہوسکتی تھی۔ دوسرے الفاظ میں اس فقرے کاصاف مطلب یہ ہے کہ اب تو ان کے لیے شک کی ادنیٰ سی گنجایش بھی نہیں ہے،کیوںکہ تم ان پڑھ ہو۔یہ استدلال بالکل بے معنی ہوگیا ہوتا اگر آپ کے قول کے مطابق نبی بناتے ہی اﷲ میاں نے حضورؐ کو بطور معجزہ خواندہ بنادیا ہوتا۔کیا اس صورت میں شک کی گنجایش ختم ہوجاتی؟اس صورت میں تو کفار مکہ یہ کہہ سکتے تھے کہ تم نے آج تک ہم سے چھپایا،اب معلوم ہوا کہ تم خفیہ لکھناپڑھنا سیکھ گئے تھے اور چپکے ہی چپکے کتابیں پڑھ کر یہ معلومات جمع کرتے رہے تھے۔
پھر یہ بھی سوچ لیجیے کہ یہ آیت نبوت کے پانچ چھ سال بعد آئی ہے۔ظاہر ہے کہ اس وقت تو حضورؐ کواﷲ تعالیٰ نے پڑھنا لکھنا نہ سکھایا ہوگا۔ اس کے بعد آخر کس تاریخ کو یہ معجزہ پیش آیا؟اور کیا مصلحت تھی کہ نبی بناتے ہی حضورؐ کو خواندہ نہ بنادیا گیا،اور اس کے بعد کوئی تاریخ اس معجزے کے لیے مقرر کی گئی؟ ان اُمور کی طرف میں صرف آپ کو غور وفکر کے لیے توجہ دلا رہا ہوں۔ خواہ مخواہ بحث کو طول دینا مقصود نہیں ہے۔ (ترجمان القرآن۔ فروری ا۹۶اء)