مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

'سبع سماوات'اور'رفع طور' کی صحیح تاویل:

سوال: آپ نے سورۂ بقرہ کے حاشیہ نمبر ۳۴ میں لکھا ہے کہ سات آسمانوں کی حقیقت کا تعین مشکل ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ سات آسمانوں سے انکار کر رہے ہیں۔ یا تو آپ سے اسی طرح کی غلطی ہوئی ہے جیسی غلطیاں دوسری تفاسیر میں موجود ہیں، یا پھر غلطی نہیں تو آپ یہ کیوں لکھتے ہیں کہ اس سے مراد یا یہ ہے یا وہ ہے۔آپ صاف طور پر کسی ایک مفہوم کا اقرار یا انکار کیو ں نہیں کرتے؟

اسی طرح سورۂ بقرہ کے حاشیہ نمبر ا۸ پر جو عبارت آپ نے لکھی ہے ،اس سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آپ طورکے اٹھائے جانے سے انکار کررہے ہیں۔اس کے متعلق بھی صراحت کریں کہ آپ کو یہ واقعہ تسلیم ہے یا نہیں؟

جواب: آپ کے پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر سات آسمانوں کی حقیقت کسی کو معلوم ہو تو وہ براہِ کرم اس کو ضرور بیان کرے۔میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ اس کی حقیقت متعین کرنا مشکل ہے، اور اگر کسی ایک زمانے کے’’علم ہیئت‘‘کی بِنا پر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ قرآن کا منشا بھی وہی ہے جو اس خاص زمانے کا علم ہیئت بیان کررہا ہے تو وہ سخت غلطی کرتا ہے۔ علم ہیئت کے نظریات ومشاہدات بدلتے رہتے ہیں۔ان میں سے کسی چیز کو قرآن کی طرف منسوب کردینا درست نہیں ہے۔ آپ حضرات اپنے مدرسوں میں جس علم ہیئت کو پڑھتے پڑھاتے رہے ہیں، اور جس کی بِنا پر قدیم مفسرین میں سے بہتوں نے آسمان کی حقیقت بیان کی ہے،اب اس کی بساط مدت ہوئی لپیٹی جاچکی ہے اور نئے مشاہدات نے اس علم کی دنیا ہی بدل دی ہے۔ان چیزوں پر اگر آپ لوگ آج اصرار کریں گے تو غلطی کریں گے، اور اگر ان کو قرآن کی طر ف منسوب کریں گے تو لوگوں کے ایمان بھی خطرے میں ڈالیں گے۔

سورۂ بقرہ کے حاشیہ نمبر ا۸ اور آیت نمبر ۸۳ کا ترجمہ پڑھ کر اگر آپ یہی سمجھے ہیں کہ میں طور کے اٹھائے جانے کا انکار کررہا ہوں تو اﷲ آپ کے فہم پر بھی رحم فرمائے اور میرے حال پر بھی۔ ذرا براہِ کرم وہ الفاظ پھر پڑھ کر دیکھیے جن سے آپ انکار کا مفہوم نکال رہے ہیں۔میں نے تو صرف یہ کہا ہے کہ اس کی تفصیلی کیفیت معلوم کرنا مشکل ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآ ن میں اسی ایک واقعے کو دو جگہ دو مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے۔ ایک جگہ رفع کا لفظ ہے جس کے معنی اٹھانے کے ہیں، اور دوسری جگہ نتق کا لفظ ہے جس کے معنی اکھاڑنے اور جھڑجھڑانے کے ہیں۔ اس لیے تعین کے ساتھ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آیا پہاڑ کو بالکل زمین سے اٹھا لیا گیا تھایا یہ اس کو جڑ سے اکھاڑ کر زمین پر رکھے رکھے ہی اس طرح ان کے سروں پر ہلایا گیا تھا کہ اس کے ان پر اوندھ جانے کا خطرہ تھا۔ (ترجمان القرآن۔ شوال ۳۷۵اھ، جون ۹۵۶اء)