مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

احادیث دجال اور بعض اقوال رسول ؐکا مبنی بروحی نہ ہونا:

سوال: آپ نے تفہیمات حصہ اوّل،صفحہ ا۲۲ پر سورۂ نجم کی ابتدائی آیات مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوٰىo وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰىo اِنْ ہُوَاِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰىo النجم53:2-4 کی تشریح کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے:

’’ان آیات میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کی بِنا پر نطق رسول کو صرف قرآن کے ساتھ مخصوص کیا جاسکتا ہو۔ ہر وہ بات جس پر نطق رسول کا ۱طلاق کیا جاسکتا ہے، آیات مذکورہ کی بِنا پر وحی ہوگی۔‘‘

پھر رسائل ومسائل پر دجال کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے آپ نے فرمایا ہے:

’’دجال کے متعلق جتنی احادیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں، ان کے مضمون پر مجموعی نظر ڈالنے سے یہ بات صاف واضح ہوجاتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اﷲ کی طرف سے اس معاملے میں جو علم ملا تھا،وہ صرف اس حد تک تھا کہ ایک بڑا دجال ظاہر ہونے والا ہے اور اس کی یہ اوریہ صفات ہوں گی اور وہ ان ان خصوصیات کا حامل ہوگا۔لیکن یہ آپ کو نہیں بتایا گیا کہ وہ کب ظاہر ہوگا،کہاں ظاہر ہوگا،اور یہ کہ آیا وہ آپؐ کے عہد میںپیدا ہوچکا ہے یا آپؐ کے بعد کسی بعید زمانے میںپیدا ہونے والا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ظہور دجال اور صفات وخصوصیات دجال کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جو ارشادات ہیں ، ان میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ کیوں کہ وہ علم وحی پر مبنی ہیں۔بخلاف اس کے ظہور دجال کے زمانہ ومقام کے بارے میں روایات باہم متعارض ہیں جن میں تطبیق کی کوئی صورت ممکن نہیں ہے، کیوں کہ وہ علم وحی پر مبنی نہیں ہیں۔‘‘

اسی سلسلے میں آگے چل کر آپ فرماتے ہیں:

’’یہ تردّد اوّل تو خود ظاہر کرتا ہے کہ یہ باتیں آپ نے علم وحی کی بِنا پر نہیں فرمائی تھیں بلکہ اپنے گمان کی بِنا پر فرمائی تھیں۔‘‘

آپ کی مندرجہ بالا تحریروں سے صاف واضح ہے کہ یہ باہم متناقض ہیں۔ پہلی تحریر میں تو آپ نے فرمایا ہے کہ ہر وہ بات جس پر نطق رسول کا اطلاق کیا جاسکتا ہے علم وحی پر مبنی ہو گی۔ لیکن دوسری تحریروں میں آپ بتاتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ارشادات ایسے بھی ہیں جو علم وحی پر مبنی نہیں ہیں۔ مثلاً ظہور دجال کے زمانہ ومقام کے بارے میں آپ کے ارشادات۔ حالاں کہ ان ارشادات پر نطق رسول کا اطلاق کیا جاسکتا ہے۔

نیز مندرجۂ ذیل سوالات بھی جواب طلب ہیں:

(۱) رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے جن ارشادات کی تائید قرآن میں موجود نہیں، ان کے بارے میں یہ فیصلہ کیسے کیا جاسکتا ہے کہ وہ علم وحی پر مبنی ہیں یا نہیں۔اگر آپ کا یہ جواب ہو، جیسا کہ آپ کی مندرجہ بالا تحریر سے ظاہر ہے کہ جو ارشادات نبویؐ باہم متعارض نہیں ہیں،وہ مبنی بر علم وحی ہیں اور جو باہم متعارض ہیں وہ مبنی برعلم وحی نہیں ہیں۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ کتب احادیث میں ایسی کئی متعارض احادیث ہیں جن کے بارے میں ائمۂ امت کا عقیدہ ہے کہ وہ علم وحی پر مبنی ہیں اور جن سے انہوں نے مسائل کا استنباط بھی کیا ہے۔ ان کے بارے میں آپ کا کیا فیصلہ ہے؟

(۲) آپ کایہ قول کہ’’آپ( رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) کا گمان وہ چیز نہیں جس کے صحیح نہ ثابت ہونے سے آپؐ کی نبوت پر حرف آتا ہو‘‘ میرے نزدیک قابل قبول نہیں۔ کیوں کہ غلط گمانوں میں اُلجھنا ایک فلسفی کا کام تو ہوسکتا ہے لیکن نبی کا منصب اس سے بدرجہ ہا اعلیٰ،بلند اور پاک ہے۔ اگر ہم یہ عقیدہ رکھیں کہ رسول کریمؐ کا فلاں گمان غلط تھا تو گویا ہم نے مان لیا کہ آپؐ فلاں موقع پر ہدایت خداوندی حاصل نہ کرکے گمراہ ہوگئے۔ اور لہٰذا آپ ؐ آیت مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوٰى کے صحیح مصداق نہ تھے۔

جواب: میں نے آیت ’’وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی‘‘ کا جو مفہوم تفہیمات حصہ اوّل میں بیان کیا ہے، اس کی پوری تفصیل آپ نے دیکھنے کی زحمت نہیں اٹھائی اور صرف ایک فقرے پر اکتفا فرما لیا۔ اسی وجہ سے آپ کو اس میں اورمیری بعد کی ایک تحریر میں تناقض محسوس ہوا۔ براہِ کرم اسی کتاب کے صفحات ۸۵ تا ۸۹،۲۲۰تا۲۲۲، ۲۳۸ تا ۲۴۰ اور ۲۵۸ تا ۲۵۹ بغور ملاحظہ فرمالیجیے۔ آپ کے سامنے میرا پورا مدعا آجائے گا۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ میرے نزدیک نبیؐ کے تمام اقوال وافعال میں وحی خفی کی کارفرمائی کس معنی میں تھی اور یہ بھی کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی بعض باتوں کے وحی پر مبنی ہونے اور بعض کے نہ ہونے کا مطلب کیا ہے۔

اس کے بعد ضرورت تونہیں رہتی کہ آپ کے ان سوالات کا جواب دیا جائے جو آپ نے آخر میں کیے ہیں ،لیکن میں صرف اس لیے ان کا جواب حاضر کیے دیتا ہوں کہ پھر کوئی اُلجھن باقی نہ رہ جائے۔

(۱) میں نے اپنی تحریر میں یہ کہیں نہیں کہا کہ ارشادات نبویؐ کے مبنی بروحی ہونے یا نہ ہونے کے لیے تعارض کا عدم اور وجود کوئی واحد یا حتمی قرینہ ہے، اور نہ میری تحریر کا منشا یہ ہے کہ جن اقوال مبارکہ میں کسی طرح کا تعارض یا اختلاف نظر آئے ،میں ان کے مبنی بر وحی ہونے کا انکار کرتا ہوں۔ بعض اوقات ایسے ارشادات میں بھی بظاہر اختلاف نظر آتا ہے جن کا دیگر قرائن کی بِنا پر مبنی بر وحی ہونا واضح ہوتا ہے۔ مگر ایسی صورت میں اختلاف کو تاویل و تطبیق سے بآسانی رفع کیا جا سکتا ہے یا ان میں سے ایک کا ناسخ اور دوسرے کا منسوخ ہونا ثابت ہو جاتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ بعض روایات میں تعارض کا وجود مطلقاً نہ ہو مگر دوسرے قرائن ان کا علیٰ سبیل الرائے ہونا بالکل واضح کردیں۔ میں نے جو بات کہی ہے وہ صرف اتنی ہے کہ مبنی بروحی ارشادات ناقابل توجیہ تعارض سے پاک ہوتے ہیں اور جو ارشادات وحی پر مبنی نہیں ہوتے ،ان میں من جملہ دیگر قرائن کے بعض اوقات ایک قرینہ تعارض کا بھی پایا جاتا ہے۔

(۲) یہ امر کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بات ظن یا ذاتی رائے پر مبنی ہے اور کون سی اﷲ تعالیٰ کے دیے ہوئے علم پر، اس کا اظہار بسا اوقات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی تصریحات سے ہوجاتا ہے، اور بسا اوقات دوسرے قرائن اس پر دلالت کرتے ہیں۔ مثلاً یہی احادیث جو دجال کے متعلق وارد ہوئی ہیں، ان میں یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ہی تصریحات سے معلوم ہوتی ہے کہ آپ کو اس کے مقام ،زمانے اور شخصیت کے متعلق اﷲ تعالیٰ کی طرف سے علم نہیں دیا گیا تھا۔ ابن صیاد کے متعلق آپ کو اتنا قوی شبہ تھا کہ حضرت عمرؓ نے آپ کی موجودگی میں قسم کھا کر اسے دجال قرار دیا اور آپؐ نے اس کی تردید نہ کی ،مگر جب انہوں نے اس کے قتل کی اجازت مانگی تو آپؐ نے فرمایا:

’’ان یکنہ فلن تسلط علیہ وان لم یکنہ فلا خیرلک فی قتلہ‘‘

’’اگر یہ وہی ہے تو تم اس پر قابو نہ پاسکو گے اور اگر یہ وہ نہیں ہے تو اس کے قتل میںتمہارے لیے کوئی بھلائی نہیں۔ ‘‘(مسلم،ذکر ابن صیاد)

ایک اور حدیث میں حضورؐ نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

ان یخرج وانا فیکم فانا حجیجہ دونکم ان یخرج ولست فیکم فامرؤٌ حجیج نفسہ واللّٰہ خلیفتی علی کل مسلم

’’ اگر وہ میری موجودگی میں نکلے تو تمہاری طرف سے میں اس کا مقابلہ کروں گا،اور اگر وہ ایسے زمانے میں نکلے جب میں تمہارے درمیان موجود نہ ہوں تو ہر آدمی اپنی طرف سے خود ہی اس کا مقابلہ کرے اور اﷲ میرے پیچھے ہر مسلم کا نگہبان ہے۔‘‘ (مسلم، ذکر الدجال)

تمیم داری نے اپنے ایک بحری سفر میں دجال سے اپنی ملاقات کا قصہ جب آپؐ کو سنایا تواس کی بھی آپؐ نے تصدیق یا تکذیب نہیں فرمائی بلکہ یہ فرمایاکہ:

اعجبنی حدیث تمیم انہ وافق الذی کنت احدثکم عنہ

’’مجھے تمیم کا بیان پسند آیا،وہ موافقت رکھتا ہے اس بات سے جو میں دجال کے متعلق تم سے بیان کرتا تھا۔‘‘

پھر آپؐ نے اس پر مزید اضافہ کرتے ہوئے فرمایا:

الا انہ فی بحر الشام اوبحر الیمن، لا بل من قبل المشرق۔

’’ مگر وہ بحر شام یا بحر یمن میں ہے۔نہیں بلکہ وہ مشرق کی جانب ہے۔‘‘ (مسلم،قصۃ الجساسہ)

یہ سب روایات اپنا مفہوم خود واضح کررہی ہیں۔

(۳) دوسرے سوال میں آپ نے ایک بڑی سخت بات کہی ہے ۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ ایسی بات کہنے سے پہلے کتاب وسنت سے اس کی تحقیق کرلیتے۔ قرآن مجید حضرت یونس ؑ کے متعلق کہتا ہے:

وَذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّہَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَيْہِ الانبیاء21:87

’’اورمچھلی والا جب کہ وہ غصے میں آ کر چلاگیا اور اس نے گمان کیا کہ ہم اس پر گرفت نہ کریںگے۔‘‘

یہاں ایک نبی کے لیے اﷲ تعالیٰ خود ظن کا لفظ استعمال کررہا ہے اور یہ بھی اﷲ تعالیٰ ہی نے قرآن مجید میں بتادیا ہے کہ ان کا یہ ظن صحیح نہ تھا۔

صحیح مسلم میں کتاب الفضائل کے تحت ایک مستقل باب ہے جس کا عنوان ہے: باب وجوب امتثال ما قالہ شرعًا دون ما ذکرہ صلی اللہ علیہ وسلم من معایش الدنیا علی سبیل الرأی۔ ’’ با ب اس امر کے بیان میں کہ نبیؐ نے شرعی طریقے پر جو کچھ فرمایا ہو، اس کا امتثال واجب ہے نہ کہ اس بات کا جسے آپ نے دنیوی معاملات میں اپنی رائے کے طور پر بیان کیا ہو۔‘‘ اس باب میں امام موصوف حضرت طلحہؓ، حضرت رافع ؓ بن خدیج، حضرت عائشہؓ اور حضرت انسؓ کے حوالے سے یہ قصہ نقل کرتے ہیں کہ جب حضورصلی اللہ علیہ وسلم مدینے تشریف لائے تو آپؐ نے دیکھا کہ اہل مدینہ مادہ کھجور میں نر کھجور کا پیوند لگاتے ہیں۔

آپؐ نے فرمایا: ما اظنی یغنی ذالک شیئًا۔’’میں نہیں سمجھتا کہ اس کا کوئی فائدہ ہے۔‘‘

لعلکم لو لم تفعلوا کان خیرًا۔ ’’اگر تم ایسا نہ کرو تو شاید اچھا ہو۔‘‘

لوگو ںنے سنا تو ایسا کرنا چھوڑ دیا،مگر اس سال پھل اچھا نہ آیا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا:

ان کان ینفعکم ذالک فلیصنعوہ فانی انما ظننت ظنا فلا تواخذونی بالظن ولٰکن اذا حدثتکم عن اللّٰہ شیئًا فخذوا بہ ۔ انی لم اکذب علی اللّٰہ ۔

’’اگر لوگوں کو یہ کام نفع دیتا ہے تو وہ ضرور اسے کریں۔میں نے توظن کی بنا پر ایک بات کہی تھی۔تم ظن پر مجھ سے مواخذہ نہ کرو۔ البتہ جب میں اﷲ کی طرف سے کوئی بات تم سے کہوں تو اسے لے لو کیوں کہ میں اﷲ پر کبھی جھوٹ نہیں بولا ہوں۔‘‘

یہ اﷲ کے رسول کی اپنی تصریح ہے،اور اوپر اﷲ تعالیٰ کی تصریح بھی آپ دیکھ چکے ہیں۔اب آپ خود فیصلہ فرمائیں کہ آپ کا نظریہ صحیح ہے یا اﷲ اور اس کے رسول کا بیان؟

( ترجمان القرآن۔جمادی الاولیٰ ۳۷۵اھ،جنوری ۹۵۶اء)