رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
کیا 'دین حق' ناکام رہا ہے؟
آپ کا یہ سوال جتنے مختصر لفظوں میں ہے،اتنے مختصر لفظوں میں اس کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم اگر محض اشارات سے آپ کی تشفی ہوسکے تو جواب یہ ہے کہ اوّل تو آپ لفظ مذہب کے نام سے جس چیز کو مراد لیتے ہیں، اس کا تعین کریں۔ اگر مذہب کا لفظ آپ جنس کے طور پر استعمال کررہے ہیں جس میں ہر قسم کے مذاہب شامل ہیں تو اس کی طرف سے جواب دہی کرنا میرا کام نہیں ہے۔ اور اگر مذہب سے آپ کی مراددین حق،یعنی وہ دین ہے جس کی تعلیم ابتدائے آفرینش سے انسان کی ہدایت کے لیے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے دی جاتی رہی ہے اور جس کا نام عربی زبان میں اسلام ہے ،تو وہ مجموعہ ہے ان اُصولوں کا جو کائنات کی واقعی حقیقتوں پر مبنی ہیں اور بجائے خود صحیح ہیں، خواہ انسان ان کو مانے یا نہ مانے۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے مثلاً حفظان صحت کے اُصول ہیں کہ وہ انسان کے جسم کی ساخت اور اس کے اعضا کی حقیقی فعلیت اور اس کے طبعی ماحول کی واقعی حقیقتوں پر مبنی ہیں۔ان اُصولوں کے مطابق کھانا پینا، سانس لینا ،آرام کرنا وغیرہ لازمی طور پر انسان کو تندرست رکھنے کے لیے ضروری ہے ۔اگر کوئی شخص یا ساری دنیا مل کر بھی ان اُصولوں کی خلاف ورزی کرے تو نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ حفظان صحت کے اُصول باطل ہیں، نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی پابند ی کرنا انسانی فطرت کا تقاضا نہیں ہے،نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ اُصول ٹوٹ گئے اور شکست کھا گئے،اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسانوں کی اس خلاف ورزی نے ان اُصولوں کا کوئی نقصان کیا ہے۔بلکہ در حقیقت اگر انسان ان اُصولوں کے خلاف چلتے ہیں تو یہ ان کی ناکامی ہے اور نقصان ان کا اپنا ہے نہ کہ ان اُصولوں کا۔پس آپ جس چیز کو مذہب کی ناکامی کہہ رہے ہیں،وہ مذہب کی ناکامی نہیں،انسانوں کی ناکامی ہے۔مثال کے طور پرمذہب ہم کو امانت کی تعلیم دیتا ہے۔اب اگر تمام دنیا کے انسان مل کر بھی خیانت شروع کردیں اور امانتوں کو ضائع کرنے لگیں تو کیا آپ یہ کہیں گے کہ مذہب ناکام ہوا؟ مذہب کی ناکامی تو اس صورت میں ہوسکتی ہے جب کہ یا تو یہ ثابت ہوجائے کہ فطرت کائنات اور فطرت انسان امانت کی نہیں خیانت کی مقتضی ہے، یا یہ ثابت ہو جائے کہ انسانی زندگی کا حقیقی امن اور تمدن انسانی کا قابل اعتماد استقلال اور تہذیب کا تسلسل ارتقا امانت سے نہیں بلکہ خیانت سے قائم ہوتا ہے۔لیکن اگر یہ ثابت نہیں ہوتا اور نہیں ہوسکتا تو انسانوں کا امانت چھوڑ کر خیانت کواختیار کرنا اور اس سے اخلاقی، روحانی اور تمدنی نقصانات اٹھانا انسانوں کی ناکامی کا ثبوت ہے نہ کہ’’مذہب‘‘ یا دین کی ناکامی کا۔اسی طرح جتنے اُصول ’’دین‘‘ نے پیش کیے ہیںیا بالفاظ دیگر جن اُصولوں کے مجموعے کا نام ’’دین حق‘‘ہے ،ان کو جانچ کر دیکھیے کہ وہ حق ہیں یا نہیں؟ اگر وہ حق ہیں تو ان کی کامیابی وناکامی کا فیصلہ اس بِنا پر نہ کیجیے کہ انسانوں نے ان کی پابندی کی ہے یا نہیں۔انسانوں نے جب ان کی پیروی کی تو وہ خود کام یاب ہوئے اور اگر ان کی پیروی نہ کی تو وہ خود ناکام ہوئے۔