رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
چند مزید اعتراضات:
(ایک صاحب نے ایک طویل مکتوب کی شکل میں مدیر’’ترجمان‘‘ کی بعض تحریروں پر اعتراضات وارد کیے تھے۔مدیر’’ترجمان‘‘ نے ان کا مفصل جواب دیا ہے۔افادۂ عام کی خاطر سوالات وجوابات کو یہاں شائع کیا جارہا ہے۔)
راقم عریضہ کافی عرصے سے آپ کی تصنیفات کا یک جہتی سے مطالعہ کررہا ہے۔ چند شبہات ایسے واقع ہوئے کہ باوجود کافی حسن ظن کے دل میں بے حد خلجان پید اکررہے ہیں۔عمائدین جماعت سے بالمشافہہ کئی مرتبہ گفتگو ہوئی، لیکن بجائے ازالہ، اضافہ ہوتا رہا۔ انھی مخلصین کے مشورے سے یہ طے پایا کہ براہِ راست جناب سے استفادہ کیا جائے۔لہٰذا جناب کو تکلیف دی جاتی ہے کہ مسائل مندرجہ ذیل کا تشفی بخش جواب تحریر فرماکر ممنون فرماویں۔اگر مناسب خیال فرماویں تو ترجمان میں شائع فرمادیں تاکہ فائدہ عام ہوجائے۔
۱۔ تفہیم القرآن جلد ۲، صفحہ ۷۴ا۔’’اس مقام پر یہ جان لینا فائدے سے خالی نہ ہوگا کہ فتح مکہ کے بعد دور اسلامی کا پہلا حج ۸ہجری میں قدیم طریقے پر ہوا،پھر۹ ہجری میں دوسرا حج مسلمانوں نے اپنے طریقے پر کیا اور مشرکین نے اپنے طریقے پر، اس کے بعد تیسرا حج ۰ا ہجری میں خالص اسلامی طریقے پر ہوا۔‘‘
۸ ہجری میںکون سے صحابہ حج کو تشریف لے گئے؟حج کی فرضیت کس سنہ میں ہوئی؟حج کی فرضیت کے ساتھ احکام نہ تھے؟ حضورؐ نے عازمین حج کو کوئی ہدایات نہ دیں؟ ۹ ہجری میں صدیقؓ کی زیر قیادت اسلامی طریقے کو چھوڑ کر اپنے طریقے پر کیسے حج کیا؟ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو غیر اسلامی طریق پر حج کرنے میں کوئی تنبیہ نہ فرمائی؟ قدیم طریقے میں ننگے طواف ہوتا تھا۔ کیا صحابہؓ نے بھی ایسا کیا؟ ہر ایک جزے کا تفصیلی جواب تحریر فرماویں۔
۲۔ تفہیم القرآن جلد ۲ سورۂ یونس۔ جناب نے تحریر فرمایا ہے کہ ’’حضرت یونس علیہ السلام سے فریضۂ رسالت کی ادائیگی میں کچھ کوتاہیاں ہوگئی تھیں۔‘‘
کیا انبیا علیہم السلام معصوم نہیں ہوتے؟ خصوصاً فریضۂ رسالت میں انبیا سے کوتاہی کیسے ممکن ہے۔وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِo لَاَخَذْنَا مِنْہُ بِالْيَمِيْنِo ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِيْنَo الحاقۃ69:44-46 فریضۂ رسالت کی عدم کوتاہی میں تصریح نہیں ؟ اگر نبی سے فریضۂ رسالت میں بھی کوتاہی ہوسکتی ہے تو پھر دین خداوندی کا کیا بچ جاتا ہے؟کیا یہ مضمون موہم ہتک انبیا نہیں؟
۳۔ ترجمان اکتوبر نومبر ۵۵ء میں جناب نے تحریر فرمایا ہے کہ احکام منسوخہ پر اب بھی عمل جائز ہے، اگر معاشرے کو انھی ضروریات سے سابقہ ہوجائے۔ اگر احکام شارع نے منسوخ فرمائے ہیں تو پھر ان احکام کو مشروع کرنے والا کون سا شارع ہوگا؟اگرہر ذی علم کو اس ترمیم وتنسیخ کا حق دیا جائے جب کہ اعجاب کل ذی رأی برأیہ کا دور دورہ ہے تو کیا یہ تلعب بالدین نہ ہوگا؟ آیا احکام منسوخہ میں تعمیم ہے یا تخصیص؟محرمات اب پھر حلا ل ہوسکتے ہیں یا حلا ل شدہ احکام اب پھر منسوخ ہوسکتے ہیں؟ مہربانی فرما کر وسعت سے بحث فرماویں، کیوں کہ یہ بنیادی اُمور سے متعلق ہے۔
۴۔ ترجمان ربیع الاوّل ۷۵ھ:’’حضرت آدم علیہ السلام جس جنت میں تھے،وہ زمین پر تھی۔‘‘
اگر جنت زمین پر تھی تو اِھْبِطُوْا کیوں فرمایا؟ اخرجوا زیادہ مناسب نہ تھا؟ وَلَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰي حِيْنٍo الاعراف24:7 جب پہلے ہی زمین مستقر تھی تو دوبارہ استقرار کیا معنی؟ نیز جنت کا قرآنی تصور تو یہ ہے عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ۔ پھر اس کا تحقق فی الارض کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ عِنْدَہَا جَنَّۃُ الْمَاْوٰىo اِذْ يَغْشَى السِّدْرَۃَ مَا يَغْشٰىo النجم53:15-16 کیا سدرۃالمنتہیٰ بھی زمین پر تھا؟ بالفرض اگر زمین پر جنت تھی تو اب کہاں ہے؟ کیوں نہ کسی طیارے سے ہم اڑ کر وہاں پہنچ جائیں؟ اگر اڑا دی گئی ہے تو کیوں اور کیا ثبوت؟
۵۔ تفہیمات جلد ۲، صفحہ ۴۳:’’یہ ایک لطیف نکتہ ہے کہ اﷲتعالیٰ نے بالارادہ ہر نبی سے کسی نہ کسی وقت حفاظت اٹھا کر ایک دو لغزشیں ہوجانے دیں۔‘‘
کیا انبیا تما م معاصی سے معصوم نہیں؟اگر نبی سے نبوت کے ہوتے ہوئے عصمت اُٹھ سکتی ہے تو اس کی نبوت و تعلیمات نبوت پر کیسے کامل اعتماد کیا جاسکتا ہے؟ہر اہم مقا م پر شبہ ہوسکتا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ وہی مقام ہو جہاں نبی سے عصمت اٹھ چکی ہو۔ اس کی کیسے حد بندی ہوگی؟ بالتفصیل بحث فرماویں۔ جزاکم اللّٰہ احسن الجزاء۔
۶۔ تفہیم القرآن جلد ا، صفحہ ا۴۲:’’پس جو چیز قرآن کی روح سے زیادہ مطا بقت رکھتی ہے، وہ یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ اسلام کے رفع جسمانی کی تصریح سے بھی اجتناب کیا جائے اور موت کی تصریح سے بھی۔‘‘
کیا یہ مسئلہ قرآنی لحاظ سے مجمل ہے؟ مَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ میں اگر قتل جسم کی تصریح ہے تو اسی ایک جملہ کے ایک جز رَفَعَہٗ میں کون سا اجمال آگیا؟بصورت دیگر انتشارِ ضمائر لازم نہ آئے گا جو معیوب ہے؟یہاں رفع جسم سے کون سا قرینہ مانع ہے جب کہ احادیث رفع جسمانی ہی روایت کر رہی ہیں تو یہاں کیوں رفع جسم مراد نہ ہو؟ پھر اجماع اُمت بھی اس پر منعقد ہوچکا ہے تو کیا وجہ ہے کہ متفق علیہ مسئلے کو قرآن کی روح کے لحاظ سے مجمل کہہ کر مشتبہ بنایا جائے؟ پھر الفاظ بھی ایسے مؤکد کہ قرآن کی روح سے زیادہ مطابقت۔
۷۔ تفہیمات حصہ دوم صفحہ ۲۸۹۔ اقامت حدود میں وقت کے حالات اور ملزم کے حالات کا بھی لحاظ رکھا جاتا ہے۔زمانۂ جنگ میں حد موقوف رکھی جاتی ہے۔قحط کے زمانے میں چور کے ہاتھ نہیں کاٹے جاتے۔ مہربانی فرما کر اس مسئلے کو کتاب وسنت کی روشنی میں مدلل بیان فرماویں۔ حضرت سعد کا واقعہ حدود اﷲ کو توڑنے چھوڑنے کے لیے قطعاً ناکافی ہے۔ انہوں نے کتاب وسنت سے کوئی مستحکم دلیل بیان نہیں فرمائی ہے۔ [عجیب بات یہ ہے کہ جو لوگ صحابہ پر تنقید کرنے کو ناجائز سمجھتے ہیں، وہ خود بے تکلف اُن پر تنقید کرتے ہیں۔کتاب وسنت کی دلیل کے بغیر حدود کے توڑنے چھوڑنے کا یہ الزام جو حضرت سعد پر لگایا گیا ہے،تنقید کی حد سے گزر کر طعن کی حد تک پہنچ جاتا ہے]۔اسی طرح حضرت عمر ؓ کا حضرت حاطب ؓکے غلاموں کو چھوڑ دینا اور حاطبؓ سے عوض دلوانا بھی نوعیت جرم کی بدلی ہوئی کیفیت پر دلالت کرتا ہے،ورنہ مجرموں کو چھوڑ کر غیر مجرم انسان سے عوض دلوانا کیا معنی؟ یقینا حضرت عمرؓ کے ذہن میں جرم کی نوعیت کچھ سرقہ کی سی نہ ہوگی بلکہ غصب کی سی ہوگی جس کی ضمانت ان کے مولیٰ سے لی گئی۔مہربانی فرما کر اس مسئلے میں کتاب وسنت کے مستحکم دلائل بیان فرما کر مشکور کریں۔
۸۔ حضرت حوا کی پیدایش کے متعلق تفہیم القرآن جلدا، صفحہ ۹ا۳ میںجناب نے تصریح کی ہے کہ آدم علیہ السلام کی پسلی سے نہیں ہوئی۔ حدیث بخاری خلقت من ضلع آدم کا کیا جواب ہوگا؟
۹۔ تفہیم القرآن جلد اوّل، صفحہ ۸۳۔کوہ طور کے اٹھائے جانے میں جناب نے محققین مفسرین سے کیوں اختلاف فرمایا ہے؟ اس قول میں کیا قباحت ہے؟وَاِذْ نَـتَقْنَا الْجَــبَلَ فَوْقَہُمْ كَاَنَّہٗ ظُلَّـۃٌ الاعراف 171:7 میں لفظ نتق کس طرف اشارہ کررہا ہے؟ پھر ظُلَّۃٌ کیسے آپ کی تفسیر پر صادق آتا ہے نیز جب کہ تلمود اور بائبل کی روایات بھی اسی قول کی تصدیق کررہی ہیں۔ اسی طرح لفظ رفعنا اور پھر فوقکم کا صریح مفہوم بھی آپ کی تفسیر کا انکارکررہا ہے۔نیز اگر حقیقت رفع مقصود نہ تھی اورصرف تخیل رفع مقصود تھا تو اس کی تصریح سے کون سا امر مانع تھا جب کہ قرآن مجید کی عادۃ مستمرہ ایسی ہے کہ ایسے مقام پر صاف تصریح کردیتا ہے۔ الانفال اِذِالْتَقَيْتُمْ فِيْٓ اَعْيُنِكُمْ قَلِيْلًا وَّيُقَلِّلُكُمْ فِيْٓ اَعْيُنِہِمْ الانفال 44:8 جب حقیقت قلت وکثرت مقصود نہ تھی تو واشگاف الفاظ میں بیان فرما دیا۔اسی طرح آیت ہے يُخَيَّلُ اِلَيْہِ مِنْ سِحْرِہِمْ اَنَّہَا تَسْعٰيo طٰہٰ 66:20 جب اجماع اُمت بھی اس پر منعقد ہوچکا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ایک متفق علیہ مسئلے کو مجمل کہہ کر مشتبہ بنایا جاوے۔پھر الفاظ بھی ایسے مؤکد کہ قرآن کی روح سے زیادہ مطابقت۔
۰ا۔ رسائل ومسائل جلد اوّل، صفحہ ۶۷۔مہدی علیہ السلام پر بحث فرماتے ہوئے جناب نے تحریر فرمایا ہے کہ جو مسئلہ بھی دین میں ایسی نوعیت رکھتا ہو ،اس کا ثبوت لازماًقرآن ہی سے ملنا چاہیے۔ مجرد حدیث پر ایسی کسی چیز کی بنا نہیں رکھی جاسکتی جسے مدار کفر و ایمان قرار دیا جائے۔ احادیث چند انسانوں سے چند انسانوں تک پہنچتی ہوئی آئی ہیں جن سے حد سے حد اگر کوئی چیز ثابت ہوسکتی ہے تو گمان صحت نہ علم یقین۔ یہ قاعدۂ کلیہ جو آپ نے تحریر فرمایا ہے کیا اس سے خطرے میں نہیں پڑ جاتے؟کیا تعدد رکعات وسجود وصلوٰۃ کی ہیئت کذائیہ جو قرآن میں مصرح نہیں، ان کے انکار سے کفر لازم نہ آئے گا؟
۱۱۔ آیت رجم کے متعلق جناب نے جو بحث ترجمان میں فرمائی ہے،آپ نے اس کے ثبوت میں تامل فرمایا ہے۔حالاں کہ بخاری شریف میں نوکر اور سیدہ کے زناکے معاملے میں لڑکے کے والد کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عرض کرنا، انْشَدُکَ بِاللّٰہِ اِلا قَضَیْتُ بیننا بِکتابِ اللّٰہ اور حضورؐ کا فرمانا: والذی نفسی بیدہ لَاَقْضِیَنَّ بینکما بِکِتابِ اللّٰہ ان دونوں قسموں کے بعد کون سا اشتباہ رہ جاتا ہے؟کیا حضورؐ کی قسم ہمارے یقین کے لیے ناکافی ہے؟ یا بخاری کی احادیث کو غلط قرار دیا جاسکتا ہے؟ پھر فاروق اعظمؓ کے خطبہ فکان مما اَنْزلَ اللّٰہ آیۃَ الرَّجم فقرأناھا وَعَقَلْنْاھاوَوَعَیْنَاھا سے ہمیں یہ توقع ہوسکتی ہے کہ یوم الجمعہ مسجد میں فقہا صحابہ کی موجودگی میں کتاب اﷲ ورسول اﷲ پر افترا کرسکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر نعوذ باﷲ جو صحابہؓ موجود تھے،وہ سب حرارتِ ایمانی سے خالی ہوچکے تھے۔ ایک نے بھی نہ ٹوکا۔ جو ایک قمیص کے ٹکڑے پرحضرت عمرؓ کو اسی منبر پر ٹوک سکتے ہیں کتاب اﷲ پر افترا میں نہ ٹوک سکے۔ یا قرآن سے ایک قمیص کا ٹکڑا زیادہ قیمتی تھا؟ آپ کا یہ فرمانا کہ عمرؓ کے اس قول پر اجماع منعقد نہیں ہوا،اس لیے کہ سب صحابہؓکی موجودگی یقینی نہیں، کیا صحابہ صلوٰۃ جمعہ سے بھی غیر حاضری کرتے تھے؟ حضرت عبدالرحمانؓکا یہ فرمانا: فانھا دارُالھجرۃِ والسُّنَّۃِ فتخلص باھلِ الفِقْہ واشرفِ الناسِ صاف تصریح نہیں؟ ان دنوں فقہائے مدینہ طیبہ میں موجود تھے۔بالفرض اگر تمام موجود نہ تھے،کیا موجود حضرات نے غیر موجود حضرات سے اس مسئلے کی تصدیق یا تکذیب کسی نے نہ کرائی؟اگر واقعی صحابہ کا کتاب اﷲ کے ساتھ یہی تساہل وتغافل رہا ہے او رکتاب اﷲ میں کمی بیشی ہوتی رہی تو روا فض بالکل حق بجانب ہیں۔مہربانی فرما کر اس مسئلے کو کتاب وسنت سے مدلل بیان فرما ویں۔ حضورؐ کی قسم اور عمرؓ کا تشدیدی خطبہ، حدیث بخاری کے مقابل کوئی قوی دلیل چاہیے۔کسی مفسر ومجتہد کا قول مشکل سے مقابل ہوسکے گا۔
۱۲۔ ترجمان القرآن،ربیع الثانی ۷۵ھ میں جناب نے حضرت صدیقؓ کی بندش کفالت مسطح کو غیر اسلامی حمیت سے تعبیر فرمایا ہے۔کیا صدیقؓ کا نبوت سے صرف بیٹی ہی کا تعلق تھا؟ بالفرض اگر حضرت کے کسی دوسرے حرم پر یہ بہتان ہوتا تو کیا حضرت صدیقؓ کو غیرت نہ آتی؟ کیا وہاں اَلْحُبُّ للّٰہ وَالْبُغْضُ فِی اللّٰہِ کا جذبہ کارفرما نہ تھا؟ لایَاتِلِ اَولُوا الْفَضْلِ سے استدلال صحیح نہیں معلوم ہوتا۔ کیوں کہ یہاں صرف کفالت کا کھولنا نہایت نرم لہجے میں مقصود تھا۔ چنانچہ لفظ اُولْوا الْفَضْلِ وَالسَّعَۃِ اور پھر الا تُحِبُّون اَن یَّغْفِرَ اللّٰہ لَکُمْ سے ان کے پاکیزہ جذبات سے معافی کی اپیل ہے۔اس میں عتاب کی بو بھی نہیں۔ اس کو وعید تصور کرنا ہماری سمجھ سے بالا تر ہے۔علاوہ ازیں یہاں کفالت کی طرف تعرض کیا گیا ہے۔بندش کفالت کے اصل محرکات کو نہیں چھیڑا گیا ،جس کو آپ نے غیر اسلامی حمیت سے تعبیر فرمایا ہے۔اگر یہ محرکات غیر اسلامی ہوتے تو اَنْ یُّوْتُوَا اُولِی الْقُرْبٰی کے بجائے انہی محرکات کا آپریشن ہوتا، واللّٰہ لَا یُسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ۔ منبع فساد کو چھوڑ کر شاخوں کا انسداد قرآن کی حکیمانہ شان سے بعید ہے۔کفالت تو ان الفاظ سے کھل گئی، لیکن یہ منبع فساد غیر اسلامی حمیت تو ان کے دل میں ویسے ہی مستحکم رہی۔ اسی طرح حضرت عمرؓ کے متعلق اسی ترجمان ربیع الاوّل ۷۵ھ میں جناب نے تحریر فرمایا ہے کہ غالباًیہی شخصی عظمت کا تخیل تھا جس نے اضطراری طور پر حضرت عمرؓ کو تھوڑی دیر کے لیے مغلوب کردیا۔ کیا نبی کی شخصیت اور اس کی عظمت کا تخیل اسلام میں ممنوع ہے؟ واللّٰہ لَا یْٔومِنُ اَحَدُکُمْ حَتیَّ اَکُونَ اَحَبَّ اِلَیہِ… الحدیث کا کیا معنی؟ باقی رہا قانونِ ربانی کے مقابلے میں نبوت پرستی یا شخصیت پرستی تو محبوب دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تو عمرؓ شخصیت پرست نہ تھے۔ بعد از انتقال یہ شخصیت پرستی کہاں سے ان کے دل میں گھس گئی؟ اساریٰ بدر،صلح حدیبیہ، مسئلہ حجاب،رئیس المنافقین کا جنازہ وغیرہ لاتعداد واقعات موجود ہیں۔صحابہ کرامؓ اور خلفائے راشدین مہدیین کے متعلق ہمیں کس حد تک سوء ظن جائز [ صرف اِس حد تک کہ وہ ’’کتاب و سنت کی دلیل کے بغیر حدود اﷲ کو توڑتے چھوڑتے تھے‘‘]ہے؟ کیا ان حضرات کے افعال کی ان توجیہات کے علاوہ اور توجیہ ناممکن تھی؟ اللّٰہ اللّٰہ فِیْ اَصْحَابِیِ لَاتَتُخِذُ وِھُمْ غَرَضًا مِن بعدی فَمَنْ اَحَبَّھُمْ فَبِحُبِّی اَحَبَّھُمْ وَمَنْ اَبْغَضَھُمْ فَبِبُغْضِیْ اَبْغَضَھُمْ اور اَصْحَابِی کَالنَجُومِ بایھم اقتدیتم کا کیا مقصد ہوگا؟
۳ا۔ کیا آپ معصوم عن الخطا ہیں؟ اگر نہیں تو کیا آپ کے اجتہادات پر تنقید جائز ہے؟اگر آپ تنقید سے بالاتر نہیں تو تنقید کرنے والے علما پر کیوں طعن کیا جاتا ہے؟اگر اسلام کی تعلیمات کی تعبیر کا حق صرف جماعت کے علما کے لیے مخصوص کردیا جائے تو اسلامی علوم کو ترقی کے بجائے رکاوٹ نہ ہوگی؟آمرانہ رجحانات ترقی پذیر نہ ہوں گے؟کیا موجودہ اختلاف جب کہ دیانت داری پر مبنی ہو، اِخْتِلافُ اُمَّتِیْ رَحْعَۃٌ نہ ہوگا؟انہی اختلافات میں مختلف ذہنی صلاحیتوں کے جواہر منظر عام پر نہ آجائیں گے جن سے اُمت کو فائدہ پہنچتا رہا ہے اور رہے گا؟
۴ا۔ کیا صحابہ کرامؓ پر تنقید جائز ہے؟اگر جائزہے تو حدیث اللّٰہ اللّٰہ فی اصحابی اور اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم کا کیا جواب ہوگا؟
جواب: آپ کے سوالات کا جواب دینے سے پہلے یہ بات عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میری تحریروں کے متعلق جو شکو ک اورشبہات بعض لوگ جان بوجھ کر دلوں میں ڈال رہے ہیں،ان کو صاف کرنے کے لیے میری طرف رجوع کرنا تو بلاشبہ ایک درست طریقہ ہے،مگر تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے مناسب یہ ہے کہ پہلے خود بھی تحقیق کی کوشش کرلیا کریں،تاکہ جس اُلجھن کو وہ تھوڑا سا وقت صرف کرکے خود رفع کرسکتے ہوں، اس کے لیے خواہ مخواہ خط وکتابت کی زحمت میں نہ پڑیں۔ اصحاب فتنہ کے لیے تو اب کوئی کام کرنے کا اس کے سوا باقی نہیں رہا ہے کہ وہ میری تحریروں میں کیڑے چنتے پھریں اور جگہ جگہ انہیں پھیلا کر لوگوں کے دماغوں میں اُلجھنیںپیداکیا کریں۔مگر میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ سارے کام چھوڑچھاڑ کر بس ان اُلجھنوں ہی کو صاف کرنے میں لگا رہوں جو ان حضرات نے پیدا کی ہیں۔ آپ براہِ کرم خود غور کریں کہ ان حضرات کی انگیخت سے ۴ا سوالات تو تنہا آپ نے فرمائے ہیں۔ اور ایسے سوالات کرنے والے اکیلے آپ نہیں ہیں، پاکستان او ر ہندوستان کے ہر گوشے سے اس طرح کے سوالات آئے دن میرے پاس آتے رہتے ہیں۔کیوں کہ سارے برعظیم میں فتنہ پردازوں کا ایک پورا طائفہ ان سوالات کی فصل بونے میں لگا ہوا ہے۔اب کیا آپ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح یہ حضرات اپنی عمر عزیز اس فضول کام میں ضائع کر رہے ہیں، اسی طرح میں بھی ان کے پیدا کردہ سوالات کی جواب دہی میں اپنی عمر عزیز ضائع کر دوں؟
اب آپ کے سوالات کا جواب سلسلہ وار حاضر ہے: