مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

حضرت حوا کی پیدایش:

قرآن مجید میں کسی جگہ بھی یہ تصریح نہیں ہے کہ حضرت حوا کو آدم ؑ کی پسلی سے پیدا کیا گیا تھا۔زیادہ سے زیادہ اس خیال کی تائید میں جو چیز پیش کی جاسکتی ہے،وہ قرآن کا یہ ارشاد ہے:

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَہَا النسائ 1:4

اور (جَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا ) الزمر39:6

لیکن ان دونوں آیتوں میں منھا کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ’’اسی نفس سے اس کا جوڑا بنایا‘‘ اور یہ بھی کہ ’’اِسی کی جنس سے اُس کا جوڑا بنایا‘‘۔ ان دونوں میں سے کسی معنی کو بھی ترجیح دینے کے لیے کوئی دلیل قرآن کی ان آیتوں میں نہیں ہے۔ بلکہ قرآن کی بعض دوسری آیتیں تو دوسرے معنی کی تائید کرتی ہیں۔مثلاً سورۂ روم میں فرمایا:

وَمِنْ اٰيٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا 21:30

اور سورۂ شوریٰ میں فرمایا:

جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا 42:11

یہی مضمون سورۂ نحل آیت ۷۲ میں بھی آیا ہے۔ظاہر ہے کہ ان تینوں آیتوں میں مِّنْ اَنْفُسِكُمْکے معنی مِنْ جِنْسِکُمْ ہی لیے جائیں گے، نہ یہ کہ تمام انسانوں کی بیویاں ان کی پسلیوں سے پیدا ہوئی ہیں۔اب اگر پہلے معنی کو ترجیح دینے کے لیے کوئی بنیاد مل سکتی ہے تو وہ حضرت ابو ہریرہؓ کی وہ روایات ہیں جو بخاری ومسلم نے نقل کی ہیں۔مگر ان کے الفاظ میں اختلاف ہے۔ایک روایت میں وہ نبیؐ کا ارشاد ان الفاظ میں نقل فرماتے ہیں کہ:

اَلَمَرْأَۃُ کَالضِّلْعِ اِنْ اَقَمْتَھَا کَسَرْتَھَا وَاِنْ اسْتَمْتَعْتَ بِھا اِسْتَمْتَعْتَ بِھَاَ وفِیْھَا عِوَجٌ۔

’’عورت پسلی کے مانند ہے، اگر تو اسے سیدھا کرے گا تو توڑ دے گا اور اگر اس سے فائدہ اٹھائے گا تو اس کے اندر کجی باقی رہتے ہوئے ہی فائدہ اٹھاسکے گا۔

اور دوسری روایت میں انہوں نے حضور ؐ کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:

اِسْتَوْ صُوْا بِالنِّسائِ خَیرً افَاِنَّھُنَّ خُلِقْنَ مِن ضِلَعٍ وان اَعْوَجَ شئیٌ الضِّلَعِ اَعْلَاہٗ ذَھَبْتَ تُقِیْمَہ کَسَرْتَہٗ وَاِنْ تَرَکْتَہ لَمْ یَزَلْ اَعْوَجَ فَاسْتَو صُوْا بِالنسائِ خَیْرًا۔

’’عورتوں کے معاملے میں بھلائی کی نصیحت قبول کرو، کیوں کہ وہ پسلی سے پیدا ہوئی ہیں، اور پسلی کا سب سے ٹیڑھا حصہ اس کا بالائی حصہ ہوتا ہے۔اگر تو اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کو توڑ دے گا اور اگر چھوڑ دے گا تو وہ ٹیڑھی ہی رہے گی۔ لہٰذا عورتوں کے معاملے میں بھلائی کی نصیحت قبو ل کرو۔‘‘

ان دونوں حدیثوں میں سے پہلی حدیث تو عورت کو پسلی سے محض تشبیہ دے رہی ہے۔اس میں سرے سے یہ ذکر ہی نہیں ہے کہ وہ پسلی سے پیدا ہوئی ہے۔البتہ دوسری حدیث میںپسلی سے پیدایش کی تصریح ہے۔لیکن یہ امر قابل غور ہے کہ اس میں حضرت حوا یا پہلی عورت یا ایک عورت کی نہیں بلکہ تمام عورتوں کی پیدایش پسلی ہی سے بیان کی گئی ہے [یہ الفاظ بخاری،کتاب النکاح والی روایت کے ہیں۔ دوسری روایت جو امام بخاری نے کتاب احادیث الانبیاء میں نقل کی ہے، اِس کے الفاظ ہیں: ’’ فان المراۃٔ خلقت من ضلع‘‘ کیوں کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے‘‘۔اِس صورت میں المرأۃ سے مراد ہر عورت،اور عورتوں کی پوری صنف ہوگی نہ کہ وہ ایک خاص عورت جو دنیا میں سب سے پہلے پیدا کی گئی۔ اِس سلسلے میں یہ بات حیرت انگیزہے کہ سائل نے بخاری کے حوالے سے خلقت من ضلع آدم کے الفاظ نقل کیے ہیں حالاں کہ بخاری میں کسی جگہ بھی یہ الفاظ نہیں آئے ہیں]۔کیا فی الواقع دنیا کی تمام عورتیں پسلیوں ہی سے پیدا ہوا کرتی ہیں؟اگر یہ بات نہیں ہے، اور ظاہر ہے کہ نہیں ہے، تو ماننا پڑے گا کہ یہاں خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ کے الفاظ اس معنی میں نہیں ہیں کہ وہ پسلی سے پیداکی گئی یا بنائی گئی ہیں، بلکہ اس معنی میں ہیں کہ ان کی ساخت میں پسلی کی سی کجی ہے۔ اس کی مثال قرآن مجید کی یہ ا ٓیت ہے کہ خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ۔ اس کے معنی بھی یہ نہیں ہیں کہ انسان جلد بازی سے پیدا کیا گیا ہے، بلکہ یہ ہیں کہ انسان کی سرشت میں جلد بازی ہے ۔

اس تشریح سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پسلی سے حضرت حوا کی پیدایش کا خیال قرآن ہی میں نہیں، حدیث میں بھی کسی مضبوط دلیل پر مبنی نہیں ہے۔ البتہ یہ صحیح ہے کہ بنی اسرائیل سے یہ روایت نقل ہوکر مسلمانوں میں شائع ہوئی اور بڑے بڑے لوگو ں نے اسے نہ صرف قبول کیا بلکہ اپنی کتابوں میں بھی ثبت کر دیا۔ مگر کیا یہ صحیح ہے کہ اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سند کے بغیر محض بڑے لوگوں کے اقوال کی بِنا پر اسے ایک اسلامی عقیدہ ٹھیرا دیا جائے اور جو کوئی اس پر ایمان نہ لائے، اسے گمراہ قرار دیا جائے؟