مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

سورۂ عنکبوت کی دو آیتوں کی تفسیر:

سوال: سورۂ عنکبوت میں دو آیتیں ایسی ملیں کہ جن کے معنی میری سمجھ میں نہیں آئے۔میرے پاس جو قرآن پاک کی تفسیر ہے ،اس میں بھی ان کی وضاحت نہیں ملی۔لہٰذا آپ کی دینی بصیرت سے امید قوی ہے کہ آپ ان کی تفصیل سے آگاہ فرما کر مشکور و ممنون فرمائیں گے۔

(۱) سورۂ عنکبوت آیت ۵۰ میں اس طرح ارشاد ہوتا ہے:

وَقَالُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْہِ اٰيٰتٌ مِّنْ رَّبِّہٖ۝۰ۭ قُلْ اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللہِ۝۰ۭ وَاِنَّمَآ اَنَا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌo

’’اور کہتے ہیں( منکر) کہ کیوں نہ اتریں اس پر کوئی نشانیاں اس کے ربّ سے۔ (آپ) کہہ دیجیے کہ نشانیاں تو ہیں اختیارمیں اﷲ کے اور میں تو یہی سنا دینے والا ہوں کھول کر۔‘‘

مندرجۂ بالا آیت قرآنی سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو معجزات اﷲ تعالیٰ نے عطا نہیں فرمائے۔ معجزات حضورؐ کو عطا نہ کرنے کی جو وجوہات قرآن پاک میں درج ہیں وہ اپنی جگہ بالکل درست ہیں۔مگر کیا اس سے حضور رسالت مآبؐ کی شانِ مبارک میں فرق نہیں آتا کہ موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کو نشانیاں اور معجزات اﷲ تعالیٰ نے عطافرمائے کہ جن کی شہادت قرآن پاک خود دے رہا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بالکل جواب دے دیا؟

سیرت نبویہؐ میں حضور ؐ کے بہت سے معجزات درج ہیں۔مثلاًمعجزۂ شق القمر، تھوڑے سے تھوڑے کھانے سے جماعت کثیر کا سیر ہو جانا، کنکریوں کا کلمۂ شہادت پڑھنا، وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب بظاہر قرآنی شہادت کی بِنا پر غلط معلوم ہورہے ہیں۔

(۲) سورۂ عنکبوت آیت ۲۷ میں یوں ارشاد ہوتا ہے:

(وَوَہَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وَالْكِتٰبَ …الخ )

’’اور دیا ہم نے ابراہیمؑ کواسحقؑ و یعقوبؑ اور رکھی اس کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب۔‘‘

یہاںحضرت اسماعیلؑ کو بالکل چھوڑ دیا۔ حالاں کہ وہ حضرت ابراہیم ؑکے سب سے بڑے صاحب زادے تھے اس لیے سب سے پہلے ان کا نام نامی آنا چاہیے تھا، جن کی نسل مبارک میں آگے چل کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نبوت سے سرفراز ہوئے۔