مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

تفہیم القرآن پر چند اعتراضات :

سوال: میں قرآن شریف کا چندتفسیروں کے ذریعے مطالعہ کررہا ہوں۔ پہلے جناب کی تفسیر تفہیم القرآن کا مطالعہ کرتا ہوں، پھر تفسیر جلالین، تفسیر خازن اور دیگر مختلف تفاسیر کا بھی مطالعہ کرتا ہوں۔ بعض مقامات پر آپ قدیم مفسرین سے کافی اختلاف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جس سے طبیعت میں شبہات پیدا ہوجاتے ہیں۔ میں چند اختلافی مقامات پیش کرتا ہوں۔ توقع ہے کہ آپ تسلی بخش جواب تحریر فرمائیں گے۔

(۱) تفہیم القرآن جلد اوّل میں حروف مقطعات کے متعلق آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ اس دَور کے اسالیب بیان میں اس طرح کے حروف مقطعات کا استعمال عام طور پر معروف تھا۔ خطیب اور شعرا دونوں اس اسلوب سے کام لیتے تھے۔ آپ کا یہ قول جمہور مفسرین کے خلاف ہے۔ تفسیر مدارک اور معالم میں ہے: اللّٰہ اعلم بمرادہ اشارۃً الٰی ما اختارہ جَمْہُورُ السَّلْفِ وَالْخَلْفِ اَنّ الحروفَ المُقَطَّعَۃَ من المتشابھاتِ التی لا یعلم تاویلُھا الا اللّٰہ کما قال الشعبیُ وجماعۃٌ الف لام میم وسائر حروف الھجاء فی اوائل السُّوَرِ منَ الْمتشابہ الذی اِستاثرَ اللّٰہ تعالٰی بِعلمِہٖ وھو سِٰرُّ القراٰن فنحن نؤمن بظاہرھا وکلُ العلم الی اللّٰہ وفائدۃُ ذکرھا طلبُ الایمانِ بھا قال ابوبکرِ الصدیق رضی اللہ عنہ فی کل کتاب سِرُوسِرُّ اللّٰہ تعالٰی فی القران اوائل السُّوَر۔ حضرت علیؓاور دیگر صحابہ کرامؓبھی اسی طرح فرماتے ہیں۔ آپ کے خیال کے مطابق اگر اس وقت حروف مقطعات کا استعمال ہوتا تو حضرت صدیق اکبر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما ضرور ان کا مطلب بیان فرماتے۔ عبارت مذکورۂ بالا سے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام سلف وخلف ان حروف کا علم اﷲ کے سپرد کرتے تھے۔جب صحابہؓ نے ان کا کوئی معنی متعین نہیں فرمایا تو معلوم ہوا کہ اس وقت بھی ادبا و شعرا ان حروف کو آپ کے خیال کے مطابق استعمال نہیں کرتے تھے۔ہاں البتہ بیضاوی نے ایک دل پسند بات لکھی ہے کہ حروف مقطعات میں مشرکین مکہ کو تحدی ہے کہ یہ وہی حروف ہیں جن سے تم اپنے کلام مرکب کرتے ہو اور انہی حروف سے یہ کتاب اﷲ بھی مرکب ہے۔ مگر اس کے باوجود تم ایسا کلام بنا کر نہیں لاسکتے۔

(۲) رفع مسیح الی السماء میں بھی آپ نے مفسرین سے اختلاف کیا اور رفع کے مفہوم کو ابہام میں ڈال دیا۔

(۳) اصحاب کہف کے متعلق جب کہ ان کے غار میں سونے کی مدت قرآن میں صریحاًمذکور ہے،آپ نے تاریخ پر اعتماد کرتے ہوئے تفاسیرقدیمہ بلکہ قرآن کے بھی خلاف لکھا ہے۔

(۴) وَظَلَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْغَمَامَ کی آپ نے جو تفسیر فرمائی ہے وہ بھی مفسرین کے خلاف ہے، بلکہ قرآن کے بھی خلاف ہے ۔کیوں کہ قرآن میں دوسری جگہ کَاَنَّہٗ ظُلَّۃٌ کے الفاظ نے آپ کی تفسیر کی واضح تردید کردی ہے۔

(۵) حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعۂ ہجرت جب کہ ان کی بیوی ان کے ساتھ تھی اور ایک ظالم بادشاہ نے بدفعلی کا ارادہ کیا اور اﷲ تعالیٰ نے اس ظالم کو اپنی قدرت قاہرہ کے ساتھ اس ارادے سے باز رکھا۔آپ نے یہاں بھی اختلاف کیا ہے اور اس واقعے کو لغو قرار دیا ہے۔

آپ ان مقامات پر نظر ثانی فرمائیں یا اپنے خیالات سے رجوع فرمائیں یا مسکت دلائل تحریر فرمایا کریں۔آپ کے مخالفین،خدا انہیں ہدایت دے،ہر وقت ایسے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔

جواب: آپ کے سوالات کے جوابات نمبر وار حسب ذیل ہیں:

(۱)حروف مقطعات کے معنی:

حروف مقطعات کے بارے میں جو کچھ میں نے لکھا ہے،اس کی بنیاد دو اُمور پر ہے:اوّل یہ کہ نزول قرآن کے زمانے میں کفار نے ہر طرح کے اعتراضات کیے،مگر یہ اعتراض کبھی نہیں کیا کہ اس قرآن میں یہ حروف کیسے ہیں جن کا کوئی مطلب ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ ظاہر ہے کہ ان کو یہ بات تو مطمئن نہیں کرسکتی تھی کہ یہ متشابہات ہیں جن کی تاویل اﷲ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ مومنین صحابہ تو اس پر مطمئن ہوسکتے تھے مگر کفار کیسے مطمئن ہوجاتے؟لامحالہ اس کی کوئی معقول وجہ ہو نی چاہیے کہ طرح طرح کے اعتراضات چھانٹنے والے لوگوں نے اس پر کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔

دوم یہ کہ عرب کے خطبات اور اشعار میں اس طرح کے حروف استعمال کرنے کی مثالیں موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسلوب ان کے ہاں رائج تھا،اور میرے نزدیک ان حروف پر کفار کے معترض نہ ہونے کی وجہ یہی تھی۔اس میں شک نہیں کہ بعض صحابہ کرامؓ کے یہ اقوال روایات میں نقل ہوئے ہیں کہ ان حروف کی تاویل اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہے۔ مگر روایات ہی میں بعض دوسرے صحابہ ؓکے ایسے قوال بھی تو ملتے ہیں جن میں ان کی تاویل بیان کی گئی ہے۔ رہا بیضاوی کا وہ ارشاد جسے آپ نے دل پسند قرار دیا ہے،تو میرا اس سے اطمینان نہیں ہوا۔ آپ کا اطمینان اگر ہوگیاہو تو بہت اچھا ہے۔مطلوب تو بہرحال قلب کا اطمینان ہی ہے۔ میں آپ کو خواہ مخواہ بے اطمینانی میں مبتلا کرنے کی کوشش کیوں کروں۔