رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
ختم نبوت کے خلاف قادیانیوں کے دلائل:
سوال: قادیانی حضرات قرآن کی بعض آیات اور بعض احادیث سے ختم نبوت کے دلائل فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مثلاً وہ سورۂ اعراف کی آیت یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ… کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ قرآن کے نزول اور محمدؐ کی بعثت کے بعد اس آیت کا خطاب اُمت محمدیہ سے ہی ہوسکتا ہے۔ یہاں بنی آدم سے مراد یہی امت ہے اور اسی امت کو خطاب کرکے فرمایا گیا ہے کہ اگر ’’کبھی تمہارے پاس تم میں سے رسول آئیں۔‘‘ اس سے قادیانیوں کے بقو ل نہ صرف امتی انبیا بلکہ امتی رسولوں کا آنا ثابت ہوتا ہے۔ دوسری آیت سورۂ مومنون کی ہے جس میں آغاز یٰٓاَ یُّھَا الرُّسُلُ سے ہوتا ہے۔ اس سے بھی ان کے نزدیک رسول کی آمد ثابت ہوتی ہے۔اسی طرح قادیانی حدیث ’’ لَوْعَاشَ اِبْراہِیْمُ لَکَانَ نَبِیًّا‘‘ (اگر رسول اﷲؐ کے صاحب زادے ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے) سے بھی امکان نبوت کے حق میں استدلال کرتے ہیں۔ براہِ کرم ان دلائل کی حقیقت واضح فرمائیں۔
جواب: قادیانیوں کے جو دلائل آپ نے نقل کیے ہیں،وہ بھی ان کے اکثر دلائل کی طرح سراسر گمراہ کن مغالطہ آمیزی پر مبنی ہیں۔ آیت يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَـقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ۰ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ہُمْ يَحْزَنُوْنَ الاعراف 35:7 کو اس کے سیاق و سباق سے الگ کرکے جو نتیجہ نکالاجاتا ہے، وہ اس کے نتیجے کے برعکس ہے جو سلسلۂ کلام میں اسے رکھ کر دیکھنے سے نکلتا ہے۔نیز اس مضمون کی جو دوسری آیات قرآن مجیدمیں ہیں، وہ بھی قادیانیوں کی تفسیر سے مختلف ہیں۔علاوہ بریں قادیانیوں سے پہلے گزشتہ تیرہ سو برس میںکسی نے بھی مذکورہ بالا آیت کا یہ مطلب نہیں لیا ہے کہ نبی ؐکے بعد سلسلۂ نبوت جاری رہنے کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔ذیل میں ان تینوں نکات کی الگ الگ توضیح کی جاتی ہے:
سورۂ اعراف میں یہ آیت دراصل قصۂ آدم وحوا کے سلسلے میں آئی ہے جو رکوع دوم کے آغاز سے رکوع چہارم کے وسط تک مسلسل بیان ہوا ہے۔پہلے رکوع دوم میں پورا قصہ بیان کیا گیا ہے، پھر رکوع سوم وچہارم میں ان نتائج پر تبصرہ کیا گیا ہے جو اس قصے سے نکلتے ہیں۔اس سیاق وسباق کو ذہن میں رکھ کر آیت کو پڑھا جائے توصاف معلوم ہوتا ہے کہ ’’ یٰبَنِیْ ٓ اٰدَمَ‘‘ کے الفاظ سے مخاطب کرکے جو بات کہی گئی ہے ،اس کا تعلق آغاز آفرینش کے وقت سے ہے نہ کہ نزول قرآن کے وقت سے۔ بالفاظ دیگر اس کا مطلب یہ ہے کہ آغاز آفرینش ہی میں اولادِ آدم کو اس بات پر کر دیا متنبہ کردیا گیا تھا کہ تمہاری نجات اس ہدایت کی پیروی پر موقوف ہے جو خدا کی طرف سے تم کو بھیجی جائے۔
اس مضمون کی آیات قرآن میں تین مقامات پر آئی ہیں اور تینوں مقامات پر قصۂ آدم وحوا کے سلسلے میں ہی اس کو وارد کیا گیا ہے۔ پہلی آیت بقرہ میں ہے(آیت نمبر ۳۸)، دوسری آیت سورہ اعراف میں ہے(آیت نمبر ۳۵)، اور تیسری آیت طہ میں( آیت نمبر ۲۳ا) ۔ان تینوں آیتوں کا مضمون بھی باہم مشابہ ہے اور موقع ومحل بھی مشابہ۔
مفسرین قرآن بھی دوسری آیتوں کی طرح سورۂ اعراف کی اس آیت کو بھی قصۂ آدم وحوا ہی سے متعلق قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ علامہ ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے ضمن میں حضرت ابو سیار السلمی کا قول نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اﷲ تعالیٰ نے یہاں حضرت آدمؑ اور ان کی ذریت کویک جا اور ایک ہی وقت میں خطاب کیا ہے۔‘‘امام رازی اپنی ’’تفسیر کبیر‘‘ میں اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ’ ’اگر خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہو، حالاں کہ وہ خاتم الانبیاء ہیں، تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اﷲ تعالیٰ یہاں اُمتوں کے بارے میں اپنی سنت بیان فرما رہا ہے۔‘‘علامہ آلوسی اپنی تفسیر’’ روح المعانی‘‘میں فرماتے ہیں کہ’’یہاں ہر قوم کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا ہے اسے حکایتاً بیان کیا جارہا ہے۔یہاں بنی آدم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت مراد لینا مستبعد اور ظاہر کے خلاف ہے، کیوں کہ یہاں جمع کا لفظ’’رسل‘‘ استعمال ہوا ہے۔‘‘علامہ آلوسیؒ کے ارشاد کے آخری حصے کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہاں خطاب اُمت محمدیہ سے ہو تو پھر اس اُمت کو یہ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ ’’کبھی تم میں رسل آئیں‘‘۔ کیوں کہ اس امت میں ایک سے زائد رسولوںکے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
آیت يٰٓاَيُّہَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا۰ۭ اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌo المومنون23:51 کو بھی اگر اس کے سیاق وسباق سے الگ نہ کیا جائے تو اس سے وہ مطلب نہیں نکالا جاسکتا جو قادیانی حضرات نے نکالا ہے۔یہ آیت جس سلسلۂ کلام میں وار د ہوئی ہے وہ رکوع دوم سے مسلسل چلا آرہا ہے۔اس میں حضرت نوح ؑ سے لے کر حضرت عیسیٰ ابن مریمؑ تک مختلف زمانوں کے انبیا اور ان کی قوموں کا ذکر کرکے یہ بتایا گیا ہے کہ ہر جگہ اور ہر زمانے میں انبیاؑ ایک ہی تعلیم دیتے رہے ہیں۔ ایک ہی ان سب کا طریقہ رہا ہے اور ایک ہی طرح سے ان سب پر اﷲ تعالیٰ کا فضل وکرم ہوتا رہا ہے۔اس کے برعکس گمراہ قومیں ہمیشہ خدا کے رستے کو چھوڑ کر غلط کاری میں مبتلا رہی ہیں۔اس سلسلۂ بیان میں یہ آیت اس معنی میں نہیںآئی ہے کہ’’اے رسولو! جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والے ہو، پاک رزق کھائو اور نیک عمل کرو۔‘‘ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان تمام رسولوں کو ،جو نوح علیہ السلام کے وقت سے اب تک آئے ہیں، اﷲ تعالیٰ نے یہی ہدایت فرمائی تھی کہ’’ پاک رزق کھائو اور نیک عمل کرو۔‘‘
اس آیت سے بھی مفسرین قرآن نے کبھی یہ مطلب نہیں لیا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انبیا کی آمد کا دروازہ کھولتی ہے۔ اگر کوئی مزید تحقیق واطمینا ن کرنا چاہے تو مختلف تفسیروں میں اس مقام کو دیکھ سکتا ہے ۔
حدیث لَوْ عَاشَ اِبَراھِیْمُ لَکَانَ نَبِیًا سے قادیانی حضرات جو استدلال کرتے ہیں وہ چار وجوہ سے غلط ہے:
اوّل یہ کہ جس روایت میں اسے خود نبیؐ کے قول کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے،اس کی سند ضعیف ہے اور محدثین میں سے کسی نے بھی اس کو قوی تسلیم نہیں کیا ہے۔
دوم یہ کہ نووی اور ابن عبدالبر جیسے اکابر محدثین اس مضمون کو بالکل ناقابل اعتبار قرار دیتے ہیں۔امام نوویؒ اپنی کتاب’’تہذیب الاسماء واللغات‘‘میں لکھتے ہیں:
اَمَّا مَا رُوِیَ عن بعضِ الْمتقدمین لوعاش ابراھیم لکان نبیا فَبِاطلٌ وجسارۃٌ علی الکلام علی المُغْیِبِاتِ وَمُجاَزَفَۃٌ وَھُجُوْمٌ َعلٰی عَظَیْمٍ۔
’’رہی وہ بات جو بعض متقدمین سے منقول ہے کہ’’اگر ابراہیم زندہ ہوتے تو نبی ہوتے‘‘ تو وہ باطل ہے اور غیب کی باتوں پر کلام کرنے کی بے جا جسارت ہے اور بے سوچے سمجھے ایک بڑی بات منہ سے نکال دینا ہے۔‘‘
علامہ ابن عبدالبر ’’تمہید‘‘ میں لکھتے ہیں:
لَا اَدْرِیْ مَا ھٰذا فَقَدْ وُ لِدَنُوْحٌ علی السلام غَیْرَ نبیٍ وَلَوْ یلدِ النبُی الاْنبِیائَ لَکَانَ کُلُّ اَحْدٍ نَبِیّاً لِاَنَّھُمْ مِنْ نُوْحٍ عَلَیہِ السَّلَامُ۔
’’میں نہیں جانتا کہ یہ کیا مضمون ہے۔نوحؑ کے ہاں غیر نبی اولاد ہوچکی ہے۔حالاں کہ اگر نبی کا بیٹا نبی ہی ہونا ضروری ہوتا تو آج سب نبی ہوتے۔کیوں کہ سب کے سب نوحؑ کی اولاد ہیں۔‘‘
سوم یہ کہ اکثر روایات میں اسے نبیؐ کے بجائے بعض صحابیوں کے قول کی حیثیت سے نقل کیا گیا ہے اور وہ اس کے ساتھ یہ تصریح بھی کردیتے ہیں کہ نبیؐ کے بعد چوں کہ کوئی نبی نہیں، اس لیے اﷲ تعالیٰ نے آپ کے صاحب زادے کو اٹھا لیا۔مثال کے طور پر بخاری کی روایت یہ ہے:
عن اسماعیل بن ابی خالد قال قلت لعبداللّٰہ بن ابی اوفی رأیت ابراھیم بن النبی قال مات صغیرًا ولو قضی ان یکون بعد محمد نبی عاش ابنہ ولکن لا نبی بعدھ ۔ (بخاری،کتاب الادب،باب من سمی باسماء الانبیاء)
’’ اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں کہ میں نے عبد بن ابی اوفیٰ (صحابی) سے پوچھا کہ آپ نے نبی ؐ کے صاحب زادے ابراہیم کو دیکھا ہے؟انہوں نے کہا وہ بچپن ہی میں مر گئے۔اگر اﷲ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہوتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہو تو آپؐ کا صاحب زادہ زندہ رہتا، مگر حضورؐ کے بعد کوئی اور نبی نہیں ہے۔‘‘
اس سے ملتی جلتی روایت حضرت انس ؓ سے بھی منقول ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:
ولو بقی لکان نبیا لکن لم یبق لان نبیکم آخر الانبیاء۔
( تفسیر روح المعانی،جلد ۲۲، صفحہ۳)
’’اگر وہ زندہ رہ جاتے تو نبی ہوتے، مگر وہ زندہ نہ رہے، کیوں کہ تمہارے نبی آخری نبی ہیں۔‘‘
چہارم یہ کہ اگر بالفرض صحابہ کرامؓ کی یہ تصریحات بھی نہ ہوتیں، اور محدثین کے وہ اقوال بھی موجود نہ ہوتے جن میں اس روایت کو جو نبیؐ کے قول کی حیثیت سے منقول ہوئی ہے، ضعیف اور ناقابل اعتبار قرار دیا گیا ہے، تب بھی وہ کسی طرح قابل قبول نہ ہوتی،کیوں کہ یہ بات علم حدیث کے مسلمہ اُصولوں میں سے ہے کہ اگر کسی ایک روایت سے کوئی ایسا مضمون نکلتا ہو جو بکثرت صحیح احادیث کے خلاف پڑتا ہو تو اسے قبول نہیں کیا جاسکتا۔ اب ایک طرف وہ کثیر التعداد صحیح اور قوی السند احادیث ہیں جن میں صاف صاف تصریح کی گئی ہے کہ نبیؐ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہوچکاہے اور دوسری طرف یہ اکیلی روایت ہے جو باب نبوت کے کھلے ہونے کا امکان ظاہر کرتی ہے ۔آخر کس طرح جائز ہے کہ اس ایک روایت کے مقابلے میں ان سب روایتوں کو ساقط کردیا جائے؟ (ترجمان القرآن۔نومبر ۹۵۴اء)