رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
طلاق قبل از نکاح:
سوال: میرے ایک غیر شادی شدہ دوست نے کسی وقتی جذبے کے تحت ایک مرتبہ یہ کہہ دیا تھا کہ ’’اگر میں کسی عورت سے بھی شادی کروں تو اس پر تین طلاق ہے۔‘‘اب وہ اپنے اس قول پر سخت نادم ہے اور چاہتا ہے کہ شادی کرے۔علما یہ کہتے ہیں کہ جوں ہی وہ شادی کرے گا،عورت پر طلاق واقع ہوجائے گی۔ اس لیے عمر بھر اب شادی کی کوشش کرنا اس کے لیے ایک بے کار اور عبث فعل ہے۔براہِ کرم بتائیں کہ اس مصیبت خیز اُلجھن سے نکلنے کا کوئی رستہ ہے یا نہیں؟
جواب: بلاشبہ فقہائے حنفیہ کی رائے یہی ہے کہ ایسی صورت میں جس عورت سے بھی اس کا نکاح ہو گا، اس پر طلاق وارد ہوجائے گی۔ لیکن تما م ائمہ وفقہا کا اس بارے میں اتفاق نہیں ہے۔ امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒکی رائے یہ ہے کہ طلاق کا حق نکاح کے بعد پیدا ہوتا ہے نہ کہ نکاح سے پہلے۔اگرکسی شخص نے یہ کہا ہو کہ وہ آیندہ جس عورت سے بھی نکاح کرے،اس کو طلاق ہے تو یہ ایک لغواور غیر مؤثر بات ہے۔اس سے کوئی قانونی حکم ثابت نہیں ہوتا۔یہی رائے حضرت علیؓ، حضرت معاذؓ بن جبل، حضرت جابرؓ بن عبداﷲ ، حضرت ابن عباسؓ، اور حضرت عائشہؓ سے بھی منقول ہے۔ اور اس رائے کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے کہ لَا طَلَاقَ اِلَّا مِنْ بَعْدِ نِکَاحٍ (طلاق نہیں ہے مگر نکاح کے بعد)۔ امام مالکؒ کی رائے یہ ہے کہ اگر کسی خاص عورت یا خاص قبیلے یا خاص خاندان کی عورتوں کے بارے میں کوئی شخص ایسی بات کہے تب تو طلاق لازم آجائے گی، لیکن مطلقاً تمام عورتوں کے بارے میں یہ بات کہی جائے تو طلاق واقع نہ ہو گی۔ کیوں کہ پہلی صورت میں تو یہ امکان باقی رہتا ہے کہ مرد اس عورت یا اس قبیلے کی عورت کے سوا دوسری عورتوں سے نکاح کر سکے۔ لیکن دوسری صورت میں ترک سنت کی قباحت لازم آتی ہے، اوریہ ایک حلال چیز کو اپنے اوپرمطلقاً حرام کرلینے کا ہم معنی ہے۔ اس مسئلے پرمزید تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر سورۂ احزاب صفحہ ۷۳
( ترجمان القرآن۔جمادی الاولیٰ ۳۷۵اھ، جنوری ۹۵۶اء)