1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کی جگہ تاجِ برطانیہ نے براہِ راست برصغیر کی حکومت سنبھالی، اور آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو رنگون جلاوطن کر دیا گیا۔ اسی دور میں علی گڑھ تحریک، آل انڈیا مسلم لیگ (1906ء) اور قراردادِ لاہور (1940ء) کے مراحل سے تحریکِ پاکستان آگے بڑھی۔
تاریخی تسلسل
- ریاستِ مدینہ (دورِ نبویؐ) 622ء–632ء
- خلافتِ راشدہ 632ء–661ء
- بنو امیہ 662ء–750ء
- بنو عباس 748ء–1258ء
- سلطنتِ سامانیہ 819ء–999ء
- سلطنتِ غزنویہ 978ء–1186ء
- سلطنتِ غوریہ 880ء–1215ء
- سلطنتِ غلاماں 1207ء–1290ء
- خاندانِ خلجی 1291ء–1320ء
- خاندانِ تغلق 1321ء–1414ء
- خاندانِ سادات 1415ء–1451ء
- خاندانِ لودھی 1452ء–1526ء
- مغلیہ سلطنت 1527ء–1857ء
- برطانوی راج (ہندوستان)
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
جانشین:
عروج کے اسباب
ایسٹ انڈیا کمپنی 1757ء (جنگِ پلاسی) کے بعد سے برصغیر کے بڑے حصے پر قابض ہو چکی تھی؛ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد برطانوی پارلیمان نے قانونِ حکومتِ ہند 1858ء کے ذریعے کمپنی کا اقتدار ختم کر کے حکومت براہِ راست تاجِ برطانیہ کو سونپ دی۔
زوال کے اسباب
دوسری جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ کی کمزوری، تحریکِ آزادی اور تحریکِ پاکستان کے نتیجے میں 1947ء میں قانونِ آزادیِ ہند کے تحت برصغیر بھارت اور پاکستان میں تقسیم ہوا۔
حکمران (3)
لارڈ کیننگ (وائسرائے)
1858ء – 1862ءپہلے وائسرائے؛ 1857ء کے بعد تاجِ برطانیہ کی حکومت قائم کی۔
لارڈ کرزن (وائسرائے)
1899ء – 1905ء1905ء میں تقسیمِ بنگال کی، جو 1911ء میں منسوخ ہوئی۔
لارڈ ماؤنٹ بیٹن (وائسرائے)
1947ءآخری وائسرائے؛ تقسیمِ ہند کا منصوبہ (3 جون 1947ء) پیش کیا۔
متعلقہ واقعات
- بہادر شاہ ظفر پر مقدمہ اور رنگون جلاوطنی
- کمپنی کا خاتمہ اور تاجِ برطانیہ کا براہِ راست راج
- مہمِ عنبیلہ
- انبالہ سازش مقدمہ
- دارالعلوم دیوبند کا قیام
- اردو ہندی تنازع کا آغاز
- محمڈن اینگلو اورینٹل کالج، علی گڑھ کا قیام
- انڈین نیشنل کانگریس کا قیام
- ندوۃ العلماء کا قیام
- تقسیمِ بنگال
- شملہ وفد
- آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام (ڈھاکہ)
- منٹو مارلے اصلاحات — جداگانہ انتخاب
- جمعیۃ الانصار کا قیام (دیوبند)
- تنسیخِ تقسیمِ بنگال
- جنگِ بلقان اور ہندوستانی مسلمانوں کی ہمدردی
- محمد علی جناح کی مسلم لیگ میں شمولیت
- نظارۃ المعارف القرآنیہ، دہلی
- دارالمصنفین، اعظم گڑھ
- علی برادران کی نظربندی
- شیخ الہند کا حجاز اور عبید اللہ سندھی کا کابل کا سفر
- کابل میں 'عبوری حکومتِ ہند' کا قیام
- ریشمی رومال تحریک کا انکشاف
- میثاقِ لکھنؤ
- شیخ الہند کی مالٹا میں نظربندی
- رولٹ ایکٹ اور سانحۂ جلیانوالہ باغ
- کل ہند خلافت کانفرنس، دہلی
- قانونِ حکومتِ ہند 1919ء (مانٹیگو چیمسفورڈ اصلاحات)
- خلافت وفود — وائسرائے اور لندن
- شیخ الہند کی مالٹا سے واپسی
- معاہدۂ سیورے
- تحریکِ ترکِ موالات (عدم تعاون) کا آغاز
- تحریکِ ہجرت (افغانستان)
- جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام
- شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کی وفات
- علی برادران کا کراچی مقدمہ
- چوری چورا اور عدمِ تعاون کی معطلی
- عثمانی سلطنت کا خاتمہ
- خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ
- دہلی مسلم تجاویز
- نہرو رپورٹ
- قائدِ اعظم کے چودہ نکات
- گول میز کانفرنسیں
- خطبۂ الہ آباد
- 'اب یا کبھی نہیں' — نامِ پاکستان
- قانونِ حکومتِ ہند 1935ء
- صوبائی انتخابات اور کانگریسی وزارتیں
- پیرپور رپورٹ
- یومِ نجات
- قراردادِ لاہور (قراردادِ پاکستان)
- تفہیم القرآن
- کرپس مشن
- گاندھی جناح مذاکرات
- شملہ کانفرنس
- انتخابات 1945ء–1946ء
- کیبنٹ مشن پلان
- یومِ راست اقدام
- عبوری حکومت میں مسلم لیگ کی شمولیت
- قیامِ پاکستان
ماخذ و وضاحت
1757ء (جنگِ پلاسی) سے 1858ء تک ایسٹ انڈیا کمپنی کا دور یہاں الگ پٹی کے طور پر شامل نہیں؛ برطانوی سلطنت کی مجموعی پٹی «جدید عالمی طاقتیں» میں ہے۔
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔