موتی لال نہرو کی سربراہی میں مرتب رپورٹ نے جداگانہ انتخاب ختم کرنے کی سفارش کی اور مسلم مطالبات مسترد کیے؛ اس کے بعد مسلم لیگ اور کانگریس کے راستے واضح طور پر الگ ہونے لگے۔
1927ء میں برطانوی حکومت نے آئینی اصلاحات کے لیے سائمن کمیشن مقرر کیا جس میں کوئی ہندوستانی رکن نہیں تھا، اس لیے تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے اس کا بائیکاٹ کیا۔ وزیرِ ہند لارڈ برکن ہیڈ نے ہندوستانی رہنماؤں کو چیلنج کیا کہ وہ متفقہ آئین مرتب کر کے دکھائیں۔ اس کے جواب میں 1928ء میں موتی لال نہرو کی صدارت میں ایک کمیٹی بنی جس نے اگست 1928ء میں اپنی رپورٹ پیش کی۔
رپورٹ نے مکمل ڈومینین درجہ کی سفارش کی، مگر جداگانہ انتخاب کو ختم کر کے مخلوط انتخاب رکھا، مرکزی مقننہ میں مسلمانوں کے لیے ایک تہائی نشستوں کا مطالبہ مسترد کیا، اور مرکز کو مضبوط رکھا۔ سندھ کی علیحدگی کو مشروط کر دیا گیا۔ مسلمانوں کے ایک بڑے حصے نے اسے مسلم مفادات کے خلاف سمجھا۔
دسمبر 1928ء میں کلکتہ کے کنونشن میں جناح نے اس میں ترامیم پیش کیں (جن میں ایک تہائی نشستوں اور صوبوں کو باقی اختیارات دینے کے نکات شامل تھے)، جو مسترد کر دی گئیں۔ جناح نے اسے 'راستوں کی جدائی' (parting of the ways) کہا، اور اس کے بعد انہوں نے مسلمانوں کے مطالبات کو چودہ نکات کی صورت میں واضح کیا۔