مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · غلامی و جدوجہدِ آزادی (1757ء – 1947ء)

شیخ الہند کی مالٹا میں نظربندی

فروری 1917ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخفروری 1917ء
دورغلامی و جدوجہدِ آزادی

شریفِ مکہ کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کو مولانا حسین احمد مدنیؒ اور دیگر رفقا سمیت مالٹا کے جزیرے میں تین برس سے زیادہ نظربند رکھا گیا۔

دسمبر 1916ء میں شریفِ مکہ حسین بن علی نے، جو عثمانی حکومت سے بغاوت کر کے برطانوی اتحادی بن چکے تھے، شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ اور ان کے ساتھیوں کو مکہ میں گرفتار کر کے انگریزوں کے حوالے کر دیا۔ انہیں پہلے مصر لے جایا گیا اور فروری 1917ء میں مالٹا کے جزیرے (بحیرۂ روم) میں قید کر دیا گیا۔

ان کے ساتھ مولانا حسین احمد مدنیؒ، مولانا عزیر گل پشاوری، حکیم نصرت حسین اور مولانا وحید احمد بھی قید ہوئے۔ قید کے دوران سخت موسم، غیر مناسب خوراک اور بیماری کی مشکلات جھیلنی پڑیں۔ شیخ الہندؒ ان مشکلات کے باوجود قید میں بھی علم اور تدریس میں مصروف رہے، اور قرآن کی تفسیر کا کام بھی جاری رکھا۔

مالٹا میں تین برس سے زیادہ کی قید کے دوران انہوں نے اس نتیجے پر پہنچ کر اپنا نقطۂ نظر بیان کیا کہ امت کے زوال کی دو بڑی وجوہات ہیں: قرآن کو چھوڑ دینا اور آپس کے اختلافات۔ اسی مقصد کے لیے رہائی کے بعد انہوں نے قرآن کے فہم اور امت کے اتحاد پر زور دیا۔

غلامی و جدوجہدِ آزادیآزادی کی تحریکیں

متعلقہ شخصیات

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں