مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · غلامی و جدوجہدِ آزادی (1757ء – 1947ء)

تحریکِ ہجرت (افغانستان)

1920ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ1920ء
دورغلامی و جدوجہدِ آزادی

ہندوستان کو 'دارالحرب' قرار دینے والے فتاویٰ کے بعد ہزاروں مسلمان خاندان افغانستان ہجرت کر گئے۔ افغان حکومت نے سرحد بند کی اور آبادکاری کے انتظامات نہ ہونے پر بیشتر کو شدید مشکلات کے بعد واپس آنا پڑا۔

1920ء میں ہندوستان کے بعض علما نے فتویٰ دیا کہ ہندوستان دارالحرب ہے، اور جب مسلمان اپنے دین پر آزادی سے عمل نہ کر سکیں تو انہیں کسی دارالاسلام کی طرف ہجرت کرنی چاہیے۔ افغانستان کے امیر امان اللہ خان اور مولانا آزاد سمیت مختلف علما کے مشورے کے تحت افغانستان کو منزل کے طور پر منتخب کیا گیا۔

جولائی–اگست 1920ء کے بعد سندھ، پنجاب اور سرحد سے ہزاروں مسلمان خاندان، جن کی تعداد بیس اور تیس ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے، اپنے گھر بار اور جائیدادیں سستے داموں بیچ کر درہ خیبر کے راستے افغانستان پہنچے۔ مگر افغان حکومت ان کے لیے کوئی تیاری نہیں کر سکی تھی اور اس نے سرحد بند کر دی۔

مہاجرین راستے میں بھوک، بیماری اور بے سروسامانی کا شکار ہوئے، بہت سے ہلاک ہوئے اور اکثر کو لٹے پٹے حالات میں واپس آنا پڑا۔ اس تحریک کی ناکامی نے اس کے مخالفین کو یہ کہنے کا موقع دیا کہ جذبات میں بغیر منصوبہ بندی کے ایسے اقدامات تباہ کن ہوتے ہیں، اور بعد کی سیاسی حکمتِ عملی میں اس تجربے کا اثر نظر آتا ہے۔

غلامی و جدوجہدِ آزادیہجرتآزادی کی تحریکیں

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں