مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · غلامی و جدوجہدِ آزادی (1757ء – 1947ء)

قائدِ اعظم کے چودہ نکات

1929ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ1929ء
دورغلامی و جدوجہدِ آزادی

نہرو رپورٹ کے جواب میں جناح نے چودہ نکات پیش کیے جن میں وفاقی نظام، صوبائی خود مختاری، مسلم اکثریتی صوبوں کے حقوق اور مسلمانوں کی مناسب نمائندگی کے مطالبات شامل تھے۔

نہرو رپورٹ کی ناکامی کے بعد مارچ 1929ء میں مسلم لیگ کے دہلی اجلاس میں جناح نے مسلمانوں کے آئینی مطالبات کو چودہ نکات کی صورت میں پیش کیا۔ ان میں مستقبل کے آئین کو وفاقی ہونا چاہیے اور باقی اختیارات صوبوں کے پاس رہنے چاہئیں؛ تمام صوبوں کو مساوی خود مختاری ملے؛ اقلیتوں کو تمام مقننہ اور سرکاری اداروں میں مناسب نمائندگی ملے؛ مسلمانوں کو مرکزی مقننہ میں کم از کم ایک تہائی نشستیں ملیں؛ اور جداگانہ انتخاب جاری رہے۔

دیگر نکات میں سندھ کی بمبئی سے علیحدگی، سرحدی صوبے اور بلوچستان میں اصلاحات، پنجاب و بنگال و سرحد میں مسلم اکثریت کی حفاظت، مذہب، ثقافت، تعلیم اور زبان کے تحفظ کی ضمانتیں، اور کسی صوبے کی جغرافیائی حیثیت بدلنے کی صورت میں مسلم اکثریت کو متاثر نہ کرنے کی شرط شامل تھی۔

یہ نکات مسلم لیگ کے کم از کم مطالبات کے طور پر مقبول ہوئے، اور آنے والی دہائیوں میں ہر آئینی گفت و شنید کے موقع پر ان کا حوالہ دیا گیا۔ اگرچہ اس وقت علیحدہ ریاست کا مطالبہ نہیں تھا، مگر یہی مطالبات بعد میں 1940ء کی قراردادِ لاہور کے مؤقف کی جانب لے گئے۔

تاریخِ پاکستان

متعلقہ شخصیات

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں