مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · غلامی و جدوجہدِ آزادی (1757ء – 1947ء)

گول میز کانفرنسیں

1930ء–1932ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ1930ء–1932ء
دورغلامی و جدوجہدِ آزادی

لندن میں ہندوستان کے آئینی مستقبل پر تین کانفرنسیں ہوئیں؛ مسلم نمائندوں، بشمول محمد علی جناح اور علامہ اقبال نے مختلف اجلاسوں میں مسلم مؤقف پیش کیا، مگر اتفاقِ رائے نہ ہو سکا۔

سائمن کمیشن کی رپورٹ کے بعد برطانوی حکومت نے ہندوستانی رہنماؤں کے ساتھ لندن میں مشاورت کے لیے تین گول میز کانفرنسیں (1930ء تا 1932ء) منعقد کیں۔ پہلی کانفرنس (نومبر 1930ء) میں کانگریس نے سول نافرمانی کی تحریک کی وجہ سے شرکت نہیں کی؛ مسلم رہنماؤں میں سر آغا خان، محمد علی جناح، مولانا محمد علی جوہر (جو کچھ ہی عرصے بعد لندن میں وفات پا گئے)، سر محمد شفیع اور دیگر شامل تھے۔

دوسری کانفرنس (ستمبر 1931ء) میں گاندھی نے کانگریس کے واحد نمائندے کے طور پر شرکت کی، مگر مسلمانوں، سکھوں اور اچھوتوں کی نمائندگی کے سوال پر کوئی اتفاق نہ ہو سکا۔ علامہ اقبال نے دوسری اور تیسری کانفرنسوں میں مسلم نمائندے کے طور پر شرکت کی اور مسلم مطالبات کی حمایت کی۔ تیسری کانفرنس (1932ء) میں کانگریس شریک نہیں تھی۔

ان کانفرنسوں کے نتیجے میں 1932ء کا 'کمیونل ایوارڈ' آیا، جس میں اقلیتوں کو جداگانہ نمائندگی دی گئی، اور اس کی بنیاد پر 1935ء کا قانونِ حکومتِ ہند مرتب ہوا۔ ان کانفرنسوں کی ناکامی نے واضح کر دیا کہ ہندوستانی برادریاں کسی متفقہ حل تک نہیں پہنچ رہیں۔

تاریخِ پاکستان

متعلقہ شخصیات

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں