ترکی میں خلافتِ عثمانیہ کا باضابطہ خاتمہ کر دیا گیا، جو سیاسی خلافت کے چودہ سو سالہ تسلسل کا اختتام تھا۔
3 مارچ 1924ء کو ترکی کی نیشنل اسمبلی نے قانون منظور کیا جس کے تحت خلافت کا منصب ختم کر دیا گیا، خلیفہ عبدالمجید ثانی اور پورے عثمانی خاندان کو ملک بدر کیا گیا، اور مذہبی امور کو حکومت کے تحت لانے کے لیے وزارتِ اوقاف اور شرعی عدالتوں کا خاتمہ کیا گیا۔ یہ جمہوریہ ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کی سیکولر اصلاحات کا حصہ تھا۔
خلافت تقریباً 1300 برس سے (کسی نہ کسی شکل میں) مسلمانوں کی سیاسی و دینی وحدت کی علامت رہی تھی۔ اس کے خاتمے پر عالمِ اسلام میں گہرا رنج پایا گیا۔ ہندوستان میں تحریکِ خلافت کے رہنما، جو پہلے ہی کمزور ہو چکے تھے، دل شکستہ ہوئے، اور کئی نے نئی خلافت کے قیام کے لیے کانفرنسیں (مثلاً مکہ اور قاہرہ میں) منعقد کیں مگر بے نتیجہ رہیں۔
اس خلا کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ علامہ اقبال نے اس واقعے کو نئی فکر کی نظر سے دیکھا اور اسے ملتِ اسلامیہ کے لیے نئے اجتہاد اور اتحاد کی دعوت کا موقع قرار دیا، جبکہ مسلم تحریکوں کا رخ آگے چل کر قومی ریاستوں کی طرف بڑھ گیا۔