واپسی کے چند ماہ بعد دہلی میں شیخ الہندؒ کا انتقال ہوا اور دیوبند میں تدفین ہوئی۔ ان کے شاگرد آزادی کی تحریک اور جمعیۃ علمائے ہند میں سرگرم رہے۔
شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کی پیدائش 1851ء میں بریلی میں ہوئی اور وہ دارالعلوم دیوبند کے پہلے طالب علم تھے۔ بعد میں صدر مدرس بنے اور ہزاروں شاگرد تیار کیے۔ ان کے شاگردوں میں مولانا انور شاہ کشمیریؒ، مولانا حسین احمد مدنیؒ، مولانا عبید اللہ سندھیؒ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور مفتی کفایت اللہؒ جیسے کئی بڑے علما شامل ہیں۔
مالٹا کی قید اور بیماری نے ان کی صحت کو کمزور کر دیا تھا۔ جامعہ ملیہ کے افتتاح، جمعیۃ علمائے ہند کے اجلاس اور ملک کے دوروں کے بعد ان کی حالت مزید بگڑ گئی۔ 30 نومبر 1920ء کو دہلی میں ان کا انتقال ہوا اور دیوبند میں انہیں دفن کیا گیا۔
ان کی وفات کے بعد بھی ان کے شاگرد اور ساتھی آزادی کی تحریک اور دینی تعلیم میں سرگرم رہے۔ انہیں 'شیخ الہند' (ہند کے شیخ) کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے اور دیوبندی فکر میں انہیں جہادِ آزادی کے سب سے نمایاں علمی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔