مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · غلامی و جدوجہدِ آزادی (1757ء – 1947ء)

علی برادران کی نظربندی

1915ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ1915ء
دورغلامی و جدوجہدِ آزادی

پہلی جنگِ عظیم میں ترکی کے مخالف برطانوی موقف پر تنقید کے باعث مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کو 1915ء میں نظربند کیا گیا اور وہ 1919ء کے آخر میں رہا ہوئے۔

مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی (علی برادران) علی گڑھ کے پڑھے ہوئے اور بڑے مؤثر مقرر و صحافی تھے۔ محمد علی جوہر کا انگریزی اخبار 'کامریڈ' اور اردو اخبار 'ہمدرد' مسلم رائے عامہ پر بڑا اثر رکھتے تھے۔ جنگِ عظیم شروع ہونے کے بعد جب برطانیہ کا مقابلہ خلافتِ عثمانیہ سے ہوا تو ان اخبارات نے ترکی کی حمایت میں اور برطانوی پالیسی پر تنقید میں لکھا۔

حکومت نے 'ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ' کے تحت بغیر مقدمے کے انہیں گرفتار کر لیا۔ 1915ء میں محمد علی جوہر کو ان کے بھائی کے ہمراہ پہلے چھندواڑا اور بعد ازاں دیگر مقامات پر نظربند رکھا گیا۔ ان کے اخبارات پر پابندیاں لگا دی گئیں۔

وہ 1919ء کے آخر میں رہا ہوئے اور فوراً تحریکِ خلافت کی قیادت سنبھال لی۔ ان کی نظربندی کے دوران ان کی مقبولیت اور بڑھ گئی، اور ہندوستانی مسلمانوں کی نظر میں وہ ملت کی خاطر قربانی دینے والے رہنما تھے۔

غلامی و جدوجہدِ آزادیآزادی کی تحریکیں

متعلقہ شخصیات

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں