مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · غلامی و جدوجہدِ آزادی (1757ء – 1947ء)

شیخ الہند کا حجاز اور عبید اللہ سندھی کا کابل کا سفر

1915ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ1915ء
دورغلامی و جدوجہدِ آزادی

پہلی جنگِ عظیم کے دوران مولانا عبید اللہ سندھیؒ کابل روانہ ہوئے اور شیخ الہندؒ حجاز پہنچے تاکہ عثمانی حکام اور افغان حکومت سے تعاون کی راہ نکالی جائے۔

شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ نے پہلی جنگِ عظیم کے دوران ایک خفیہ منصوبہ بنایا: افغانستان کے راستے ہندوستان کے سرحدی قبائل اور عثمانی و جرمن طاقتوں کے تعاون سے انگریزی اقتدار کے خلاف عملی اقدام۔ اس کے لیے انہوں نے اپنے شاگرد مولانا عبید اللہ سندھیؒ کو 1915ء میں کابل بھیجا تاکہ افغان حکومت (امیر حبیب اللہ خان) کو ساتھ ملایا جا سکے۔

خود شیخ الہندؒ ستمبر 1915ء میں حجاز کے سفر پر روانہ ہوئے۔ مکہ اور مدینہ میں انہوں نے حجاز کے عثمانی گورنر غالب پاشا اور عثمانی وزیرِ جنگ انور پاشا سے ملاقاتیں کیں، تاکہ عثمانیوں کی حمایت اور مدد حاصل کی جائے، اور ہندوستانی مسلمانوں کی تحریک کے لیے سند حاصل ہو۔ غالب پاشا نے ایک تحریر (غالب نامہ) میں مسلمانانِ ہند کو جہاد کی اپیل کی۔

یہ ساری کارروائیاں انتہائی رازداری میں ہوئیں اور ان کی تفصیلات بعد میں 'ریشمی رومال' کے خطوط کے پکڑے جانے پر ہی سامنے آئیں۔ ان مہمات نے شیخ الہندؒ کو ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے سب سے سرگرم عالم رہنماؤں میں کھڑا کر دیا۔

غلامی و جدوجہدِ آزادیہجرتآزادی کی تحریکیں

متعلقہ شخصیات

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں