مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · غلامی و جدوجہدِ آزادی (1757ء – 1947ء)

رولٹ ایکٹ اور سانحۂ جلیانوالہ باغ

1919ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ1919ء
دورغلامی و جدوجہدِ آزادی

بغیر مقدمہ گرفتاری کی اجازت دینے والے رولٹ ایکٹ کے خلاف ملک گیر احتجاج ہوا؛ 13 اپریل کو امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں پرامن اجتماع پر فائرنگ سے سینکڑوں لوگ شہید ہوئے۔ اس سانحے نے ہندو مسلم مشترکہ جدوجہد کو تقویت دی۔

پہلی جنگِ عظیم کے بعد ہندوستانیوں کو توقع تھی کہ ان کی خدمات اور قربانیوں کے صلے میں سیاسی اصلاحات ملیں گی۔ اس کے برعکس حکومت نے 1919ء میں جسٹس رولٹ کی کمیٹی کی سفارش پر ایسے قوانین نافذ کیے جن کے تحت مشتبہ افراد کو بغیر مقدمے کے قید میں رکھنا ممکن تھا۔ ان قوانین کو 'بلیک ایکٹ' کہا گیا اور ملک بھر میں شدید احتجاج ہوا۔

پنجاب میں صورتِ حال زیادہ کشیدہ رہی۔ 13 اپریل 1919ء کو، بیساکھی کے دن، امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں ہزاروں لوگ جمع تھے۔ جنرل ڈائر نے باغ سے نکلنے کے تنگ راستے کو بند کر کے بلا انتباہ تقریباً دس منٹ تک لوگوں پر فائر کھلوایا۔ سرکاری اعداد کے مطابق تقریباً 379 اور دیگر اندازوں کے مطابق ایک ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے۔

اس سانحے نے پورے ہندوستان میں انگریز مخالف جذبات کو بھڑکا دیا اور ہندو مسلم مشترکہ جدوجہد کو تقویت دی۔ رابندر ناتھ ٹیگور نے احتجاجاً 'سر' کا خطاب واپس کر دیا، اور گاندھی نے عدم تعاون کی تحریک کا راستہ اختیار کیا جو تحریکِ خلافت کے ساتھ مل کر ایک بڑی عوامی تحریک بن گئی۔

غلامی و جدوجہدِ آزادیآزادی کی تحریکیں

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں