مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے شیخ الہندؒ کی تائید سے دہلی میں قرآن و جدید علوم کے امتزاج پر مبنی ادارہ قائم کیا، جو نوجوان تعلیم یافتہ حلقوں کو تحریک سے جوڑنے کا ذریعہ بنا۔
1913ء میں مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے، جو اسلام لانے کے بعد دیوبند سے فارغ التحصیل ہوئے تھے اور شیخ الہندؒ کے خاص شاگرد تھے، دہلی میں 'نظارۃ المعارف القرآنیہ' قائم کیا۔ اس ادارے کا مقصد جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں (خصوصاً کالجوں کے طلبہ) کو قرآنِ مجید کی حکمت اور اس کے سیاسی و اجتماعی پیغام سے روشناس کرانا تھا۔
نظارہ کے دروس میں شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی فکر کو بنیاد بنایا جاتا تھا اور قرآن کی تعلیم کو زندگی کے مسائل اور انسانی معاشرے کی تعمیر سے جوڑا جاتا تھا۔ اس ادارے میں طلبہ کے لیے مطالعے کا ایک منظم نظام تھا اور بعض نوجوان جدوجہد کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوئے۔
انگریز حکومت نے اس ادارے کو مشتبہ سمجھا۔ پہلی جنگِ عظیم کے دوران مولانا سندھیؒ کے کابل جانے کے بعد اسے بند کر دیا گیا۔ بہرحال یہ ادارہ دینی تعلیم اور جدید تعلیمی حلقوں کے درمیان رابطے کی ایک اہم کوشش کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔