دہلی دربار میں بادشاہ جارج پنجم نے تقسیمِ بنگال منسوخ کرنے اور دارالحکومت دہلی منتقل کرنے کا اعلان کیا، جس سے مسلمانوں میں مایوسی پھیلی اور برطانوی وعدوں پر اعتماد کمزور ہوا۔
دسمبر 1911ء میں دہلی میں شاہ جارج پنجم کی تاج پوشی کا دربار منعقد ہوا۔ اس موقع پر بادشاہ نے حیرت انگیز اعلانات کیے: تقسیمِ بنگال منسوخ کی جاتی ہے اور بنگال کو دوبارہ ایک صوبہ بنایا جاتا ہے؛ مشرقی بنگال کے مسلم اکثریتی علاقے کو الگ رکھنے کے بجائے دوبارہ مغربی بنگال کے ساتھ ملا دیا گیا؛ اور برطانوی ہند کا دارالحکومت کلکتہ سے دہلی منتقل کیا جاتا ہے۔
یہ فیصلہ ہندو رہنماؤں کی مسلسل تحریک اور تشدد کے دباؤ کا نتیجہ سمجھا گیا۔ مشرقی بنگال کے مسلمان، جنہوں نے تقسیم سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں، سخت مایوس ہوئے اور انہیں محسوس ہوا کہ حکومت اپنے وعدوں کے بجائے تشدد کی سیاست کے سامنے جھک جاتی ہے۔
اس سے مسلم لیگ کی قیادت میں بھی برطانوی حکومت پر اعتماد کمزور پڑ گیا۔ اس کے بعد مسلمان رہنماؤں نے، جن میں نوجوان قیادت شامل ہو رہی تھی، حکومت کی وفاداری کی پالیسی پر نظرثانی شروع کی اور زیادہ آزاد سیاسی راستے اختیار کرنے لگے۔