کابل میں ہندوستانی انقلابیوں نے عبوری حکومتِ ہند کا اعلان کیا جس میں راجا مہندر پرتاپ صدر، مولانا برکت اللہ وزیرِ اعظم اور مولانا عبید اللہ سندھیؒ وزیرِ داخلہ تھے؛ مقصد جنگ کے دوران انگریز مخالف محاذ کھولنا تھا۔
مولانا عبید اللہ سندھیؒ 1915ء میں کابل پہنچے۔ افغانستان کے امیر حبیب اللہ خان جنگ میں غیر جانبدار رہنے کی پالیسی پر قائم تھے، مگر انہوں نے ہندوستانی انقلابیوں کو کابل میں رہنے کی اجازت دے دی۔ وہاں مہندر پرتاپ، مولانا برکت اللہ بھوپالی، اور دیگر ہندو، سکھ اور مسلمان قوم پرست بھی جمع ہو گئے۔
یکم دسمبر 1915ء کو کابل میں 'حکومتِ مؤقتِ ہند' (Provisional Government of India) کا اعلان کیا گیا۔ اس میں راجا مہندر پرتاپ صدر، مولانا برکت اللہ وزیرِ اعظم اور مولانا عبید اللہ سندھی وزیرِ داخلہ (ہند) مقرر ہوئے۔ اس کا مقصد جنگ کے دوران عثمانی، جرمن اور افغان حمایت سے انگریزی راج کے خلاف ایک متوازی حکومت کا تصور پیش کرنا تھا، اور 'جنودِ ربانیہ' نامی فوج بنانے کا بھی منصوبہ تھا۔
یہ حکومت عملی طور پر کوئی بڑا اثر پیدا نہ کر سکی کیونکہ افغان امیر نے کھل کر ساتھ نہ دیا اور جنگ کا رخ بدل گیا۔ تاہم یہ ہندو مسلم اشتراک کی ایک منفرد علامتی مثال تھی، اور سندھیؒ نے بعد کے برسوں میں روس، ترکی اور حجاز میں جلاوطنی کے کئی برس گزارے۔