مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · غلامی و جدوجہدِ آزادی (1757ء – 1947ء)

عبوری حکومت میں مسلم لیگ کی شمولیت

26 اکتوبر 1946ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ26 اکتوبر 1946ء
دورغلامی و جدوجہدِ آزادی

مسلم لیگ نے عبوری حکومت میں شمولیت اختیار کی؛ لیاقت علی خان وزیرِ خزانہ بنے، اور ان کا 'غریب آدمی کا بجٹ' مشہور ہوا۔

اگست 1946ء میں وائسرائے لارڈ ویول نے پنڈت جواہر لعل نہرو کو اپنی ایگزیکٹو کونسل (عبوری حکومت) کی تشکیل کی دعوت دی۔ ابتدا میں مسلم لیگ نے شمولیت نہ کی، مگر جب کانگریس کی حکومت مسلمانوں کی نمائندگی کے بغیر بنی تو ویول نے جناح کی خوشنودی کے لیے لیگ کو بھی شامل ہونے کی دعوت دی۔

26 اکتوبر 1946ء کو مسلم لیگ نے پانچ وزیر نامزد کیے، جن میں لیاقت علی خان (خزانہ)، آئی آئی چندریگر (تجارت)، عبدالرب نشتر (مواصلات)، غضنفر علی خان (صحت) اور جوگندر ناتھ منڈل شامل تھے۔ لیاقت علی خان نے وزارتِ خزانہ کی حیثیت سے بجٹ پیش کیا جس میں امیر تاجروں اور صنعت کاروں پر ٹیکس لگایا گیا، اور اسے 'غریب آدمی کا بجٹ' کہا گیا؛ اس پر کانگریس سے بھی ٹکراؤ پیدا ہوا۔

عبوری حکومت میں لیگ اور کانگریس کے وزرا کا اکٹھے کام کرنا مشکل ثابت ہوا، اور اس تجربے نے دونوں جماعتوں کے مابین اختلافات کو مزید واضح کر دیا۔ اس سے یہ احساس پیدا ہوا کہ دونوں کا ایک متحدہ ہندوستان میں نباہ ممکن نہیں، اور تقسیم کے حق میں رائے مضبوط ہوئی۔

تاریخِ پاکستان

متعلقہ شخصیات

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں