کیمبرج کے طالب علم چوہدری رحمت علی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ پمفلٹ جاری کیا جس میں پہلی بار 'پاکستان' کا نام تجویز کیا گیا۔
چوہدری رحمت علی پنجاب سے تعلق رکھتے تھے اور کیمبرج یونیورسٹی کے طالب علم تھے۔ وہ گول میز کانفرنسوں کے دور میں لندن اور کیمبرج میں مقیم تھے اور ان مباحث کے گہرے مشاہدے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ مسلمان ہندوستانی وفاق میں اپنا مستقبل محفوظ نہیں رکھ سکتے۔
28 جنوری 1933ء کو انہوں نے اپنے تین ساتھیوں (محمد اسلم خٹک، شیخ محمد صادق اور عنایت اللہ خان) کے ساتھ 'Now or Never: Are We to Live or Perish Forever?' کے نام سے پمفلٹ جاری کیا، جس میں شمال مغربی ہندوستان کے علاقوں (پنجاب، افغان صوبہ یعنی سرحد، کشمیر، سندھ اور بلوچستان) کے حروف سے 'PAKSTAN' اور پھر 'PAKISTAN' کا نام تجویز کیا۔ فارسی میں 'پاک' کا مطلب پاک اور 'ستان' کا مطلب خطہ ہے۔
اس وقت اس تجویز کو زیادہ پذیرائی نہ ملی اور اسے ایک طالب علمی خواب قرار دے کر نظر انداز کیا گیا، مگر یہ نام آہستہ آہستہ عوام میں مقبول ہوا، اور 1940ء کے بعد مسلمانوں کی ریاست کے مطالبے کے لیے 'پاکستان' کا نام استعمال ہونے لگا۔