مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · غلامی و جدوجہدِ آزادی (1757ء – 1947ء)

ریشمی رومال تحریک کا انکشاف

اگست 1916ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخاگست 1916ء
دورغلامی و جدوجہدِ آزادی

ریشمی کپڑے پر لکھے گئے خفیہ خطوط، جو شیخ الہندؒ کو کابل و ہند کے درمیان بھیجے جا رہے تھے، انگریز حکام کے ہاتھ لگ گئے اور تحریک کا راز کھل گیا۔ اسی وجہ سے اسے 'ریشمی رومال (خطوط) تحریک' کہا جاتا ہے۔

شیخ الہندؒ کی خفیہ تحریک کے رابطوں کے لیے ریشمی رومالوں پر خفیہ خطوط لکھے گئے، جو محفوظ طریقے سے کابل، حجاز اور ہندوستان کے درمیان لے جائے جاتے تھے۔ ایک خط کے مطابق افغان حکومت، عثمانی سلطنت اور ہندوستان کے سرحدی قبائل کی مدد سے 'جنودِ اللہ' کی فوج تیار کرنی تھی جو انگریزوں کے خلاف کارروائی کرے۔

اگست 1916ء میں پنجاب کے کسی مقام پر ان خطوط کی ایک کھیپ پکڑی گئی، جسے ملتان کے ایک ساتھی، شیخ عبدالحق، نے کابل سے شیخ الہندؒ کو بھیجنا تھا۔ برطانوی خفیہ اداروں کے ہاتھ آنے پر انہوں نے ان کی تفتیش کی اور سازش کا راز فاش ہو گیا۔ اسی وجہ سے بعد میں 'سلک لیٹر کانسپیریسی کیس' کے نام سے کارروائی کی گئی۔

اس کے نتیجے میں ہندوستان میں بہت سے علما اور کارکنوں کو گرفتار اور نظربند کیا گیا، اور شیخ الہندؒ کو حجاز میں شریفِ مکہ کے ذریعے پکڑوا کر مالٹا بھیج دیا گیا۔ منصوبہ ناکام ہوا، مگر برطانوی رپورٹوں کے مطابق یہ برصغیر کی آزادی کی خفیہ تحریکوں میں سب سے وسیع تنظیموں میں سے ایک تھا۔

غلامی و جدوجہدِ آزادیآزادی کی تحریکیں

متعلقہ شخصیات

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں